ٹرمپ کا Big Beautiful Budget اور 37 کھرب ڈالر US Debt: کیا The Dollar اپنا اقتدار بچا پائے گا؟

Trump’s Budget Sparks Global Fear Over The Dollar’s Future

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے Big Beautiful Budget کے کانگریس سے منظور ہونے پر خوشی کا اظہار کیا ہے. لیکن امریکہ کی Debt Dependent Policy نے عالمی معیشت میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور US Dollar کی قدر میں خاصہ اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے. یہ بجٹ جس میں ٹیکس کم کیے گئے اور اخراجات بڑھائے گئے، پہلے سے 370 کھرب ڈالر کے مقروض US Economy پر مزید 30 کھرب ڈالر کا بوجھ ڈالے گا، جس سے US Debt کا نیا بحران پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

خلاصہ: اہم نکات

  • Big Beautiful Budget کی منظوری کے بعد US Debt میں مزید اضافہ ہوگا.

  • ٹیکس میں کمی اور اخراجات میں اضافے سے Fiscal Deficit خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے.

  • The Dollar کی قدر پاؤنڈ کے مقابلے میں 10٪ اور یورو کے مقابلے میں 15٪ کم ہوئی ہے.

  • Interest Rates بڑھنے سے قرض پر سود کی ادائیگی مزید مہنگی ہو گئی ہے.

  • Yield Curve میں اضافہ طویل المدتی قرض کی پائیداری پر شکوک پیدا کر رہا ہے.

  • رے ڈیلیو نے US Debt کو نازک موڑ پر قرار دیا ہے اور فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے.

  • اگر اصلاحات نہ ہوئیں تو Federal Reserve مزید پیسے چھاپنے پر مجبور ہو گی جس سے Inflation بڑھے گی.

  • متبادل کرنسی کی کمی کی وجہ سے The Dollar کی عالمی حیثیت وقتی طور پر محفوظ ہے.

  • Default Risk اگرچہ کم ہے لیکن اس کا خطرہ مکمل ختم نہیں ہوا.

  • عالمی مالیاتی نظام میں US Debt اور The Dollar کے مستقبل پر اعلیٰ سطح پر بحث جاری ہے.

ڈالر کی گرتی قدر اور عالمی خطرات.

رواں سال کے آغاز سے اب تک US Dollar کی قدر میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، حالانکہ امریکہ نے Interest Rates کو یورپ اور برطانیہ کے مقابلے میں کم رفتار سے کم کیا ہے. جو عموماً ڈالر کو مضبوط بناتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود Yield Curve میں اضافے نے مارکیٹ میں یہ پیغام دیا ہے کہ US Debt کی طویل مدتی ادائیگی پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔

معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر Fiscal Deficit موجودہ 6٪ سے کم کر کے 3٪ تک نہ لایا گیا تو امریکہ کو ہر سال کھربوں ڈالر صرف قرض اور سود کی ادائیگی پر خرچ کرنا پڑیں گے۔

US Dollar Index as on 8th July 2025
US Dollar Index as on 8th July 2025

ڈالر کا متبادل نہ ہونے کا فائدہ.

سابق ماہر محمد العریان کے مطابق دنیا The Dollar سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے. جس کی وجہ سے سونے، یورو اور پاؤنڈ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے. مگر بڑے پیمانے پر متبادل موجود نہ ہونے کی وجہ سے The Dollar کو ہی عالمی مالیاتی نظام کی بنیاد کے طور پر برقرار رکھنا پڑ رہا ہے۔ اس لیے اگرچہ US Debt خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے. مگر دنیا کے پاس US Dollar کے بغیر کوئی آسان راستہ موجود نہیں۔

بحران سے بچنے کے آپشنز.

حکومت کے پاس تین آپشنز ہیں: اخراجات میں بھاری کمی، ٹیکس میں نمایاں اضافہ، یا دونوں کا امتزاج۔ لیکن ٹرمپ کا Big Beautiful Budget سیاسی طور پر اس کے برعکس سمت اختیار کیے ہوئے ہے. جہاں ٹیکس میں زیادہ کمی اور کچھ اخراجات میں معمولی کٹوتی کی گئی ہے۔

دوسرا آپشن یہ ہے کہ Federal Reserve مزید پیسے چھاپے اور حکومت کے قرضے ادا کرے. جیسا کہ 2008 کے بحران کے بعد ہوا. لیکن اس سے Inflation اور معاشرتی عدم مساوات بڑھ سکتی ہے۔ تیسرا اور سب سے خطرناک راستہ Default Risk ہے. اگر امریکہ قرض واپس نہ کر سکے تو عالمی مالیاتی نظام کی بنیادیں ہل جائیں گی. اگرچہ فی الحال اس کا امکان بہت کم ہے۔

US Debt کا 370 کھرب ڈالر کا ناقابلِ تصور حجم اور Fiscal Deficit کی موجودہ رفتار امریکہ کی سب سے بڑی Economic Power کے لیے خطرہ ہے۔ اگرچہ US Dollar فی الحال محفوظ ہے، لیکن اس کی حیثیت مستقل نہیں۔ اگر امریکہ نے اپنے Fiscal Policies اور قرض کی پالیسی میں فوری اصلاحات نہ کیں تو عالمی مالیاتی نظام میں بحران کی لہر پیدا ہو سکتی ہے جس کے اثرات پوری دنیا کی Financial Markets پر محسوس ہوں گے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button