امریکی معیشت کی نبض: US GDP اور Jobless Claims Data کے بعد مارکیٹ پر کیا اثرات مرتب ہوئے
US GDP and resilient Jobless Claims Data fueled stocks but pressured the US Dollar
معاشی رپورٹس وہ اشارے ہیں جو عالمی فنانشل مارکیٹس کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ آج جاری ہونے والے US GDP اور Jobless Claims Data کے اعداد و شمار نے مارکیٹ کے کھلاڑیوں کے لیے ایک پیچیدہ مگر دلچسپ تصویر پیش کی ہے۔
یہ اعداد و شمار محض نمبرز نہیں ہیں، بلکہ یہ امریکی معیشت کی صحت، روزگار کی منڈی کی طاقت، اور مستقبل کے لیے مرکزی بینک کے فیصلوں کی سمت کے بارے میں گہری بصیرت فراہم کرتے ہیں۔
ہمارا مقصد US GDP اور Jobless Claims Data کے ان اعداد و شمار کو سادہ اور قابل فہم انداز میں سمجھنا ہے. تاکہ آپ نہ صرف یہ جان سکیں کہ کیا ہوا. بلکہ یہ بھی کہ اس کے پیچھے کیا عوامل کارفرما تھے. اور اب آگے کیا ممکنہ منظرنامہ ہو سکتا ہے۔ ہم خاص طور پر دیکھیں گے. کہ کیوں مضبوط معاشی اعداد و شمار کے باوجود امریکی ڈالر (US Dollar) دباؤ میں رہا. اور اسٹاکس میں اضافہ کیوں ہوا. یہ وہ نکتہ ہے جہاں سطحی خبروں سے ہٹ کر گہری سمجھ بوجھ کی ضرورت ہوتی ہے۔
اہم نکات کا خلاصہ
-
مضبوط US GDP نظرثانی: دوسری سہ ماہی کے لیے US GDP کی نظرثانی شدہ شرح (revised rate) 3.3% رہی. جو کہ ابتدائی اندازے 3.0% اور پچھلے 3.1% کے تخمینے سے نمایاں طور پر بہتر ہے۔ یہ امریکی معیشت کی توقع سے زیادہ مضبوطی کی عکاسی کر رہا ہے۔
-
جاب مارکیٹ کی لچک: امریکی Initial Jobless Claims اور مسلسل کلیمز (Continuing Claims) دونوں میں کمی آئی ہے. جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی لیبر مارکیٹ (Labor Market) غیر معمولی طور پر لچکدار (Resilient) اور مضبوط ہے۔
-
منفرد مارکیٹ ردعمل: حیران کن طور پر، ان مضبوط اعداد و شمار کے باوجود امریکی ڈالر دباؤ میں ہے. جبکہ امریکی اسٹاکس معمولی طور پر بلند ہوئے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ کا فوکس اب مستقبل کے ڈیٹا پر مرکوز ہے۔
-
اگلا فوکس: سرمایہ کاروں کی توجہ اب ISM PMIs، ADP اور NFP جیسی ملازمت کی رپورٹوں پر مرکوز ہو گئی ہے. جو آنے والے ہفتوں میں معیشت کی حقیقی نبض بتائیں گے۔
-
PCE کا کردار: کور PCE (Personal Consumption Expenditures) کے اعداد و شمار نے توقعات سے نیچے رہ کر مہنگائی (inflation) کے حوالے سے مثبت سگنل دیا، جو مارکیٹ کے لیے ایک اہم پہلو ہے۔
US GDP نظرثانی: کیا یہ معیشت کے لیے ایک اچھا اشارہ ہے؟
US GDP کی نظرثانی شدہ شرح (Revised Rate) 3.3% جو کہ 3.1% کے ابتدائی تخمینے سے زیادہ تھی. امریکی معیشت کی غیر معمولی مضبوطی کا ایک واضح اشارہ ہے۔ جی ڈی پی (Gross Domestic Product) کسی بھی ملک کی معاشی سرگرمیوں کا ایک جامع پیمانہ ہے اور اس میں اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے. کہ پیداوار، کھپت اور سرمایہ کاری میں توقع سے زیادہ ترقی ہو رہی ہے۔ اس کا براہ راست مطلب یہ ہے کہ معیشت کی بنیادی صحت مضبوط ہے۔
یہ ایک ایسے وقت میں اہم ہے. جب Inflation اور شرح سود میں اضافے کی وجہ سے معیشت کی سست روی کے خدشات تھے۔ یہ اعداد و شمار ان خدشات کو کسی حد تک ختم کرتے ہیں اور پالیسی سازوں کو زیادہ اعتماد فراہم کرتے ہیں۔
-
کنزیومر اسپینڈنگ (Consumer Spending): ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، کنزیومر اسپینڈنگ 1.6% رہی. جو پچھلی 1.4% کی شرح سے بہتر ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ صارفین اعتماد کے ساتھ خرچ کر رہے ہیں. جو معاشی سرگرمیوں کو آگے بڑھاتا ہے۔
-
جی ڈی پی ڈیفلیٹر (GDP Deflator): جی ڈی پی ڈیفلیٹر میں 2.0% پر کوئی تبدیلی نہیں ہوئی. جو مہنگائی کے حوالے سے ایک مثبت اور مستحکم اشارہ ہے۔
جاب لیس کلیمز کی رپورٹ اور لیبر مارکیٹ کی طاقت
Jobless Claims Data کی رپورٹ، جو بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواست دینے والے افراد کی تعداد کو ظاہر کرتی ہے. معیشت کی نبض سمجھا جاتا ہے۔ اس ہفتے کی رپورٹ نے ایک مضبوط اور لچکدار لیبر مارکیٹ کی تصویر پیش کی۔
jobless claims data اس بار 229K رہے جو 230K کی توقع سے کم تھے. اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ پچھلے ہفتے کی تعداد کو بھی کم کر کے نظرثانی کیا گیا۔ اسی طرح، جاری کلیمز 1954K رہے. جو 1970K کی توقع سے کم تھے۔
یہ اعداد و شمار بہت اچھے ہیں. کیونکہ یہ بتاتے ہیں کہ بیروزگاری کی تعداد میں کمی آ رہی ہے. اور جو لوگ نوکریاں کھو رہے ہیں. وہ تیزی سے دوبارہ ملازمت حاصل کر رہے ہیں۔ ایک مضبوط جاب مارکیٹ صارفین کے اعتماد کو بڑھاتی ہے. اور اخراجات کو سہارا دیتی ہے۔
جب بھی میں اپنے دس سالہ کیریئر میں Jobless Claims Data کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرتا تھا. تو میں جانتا تھا کہ یہ محض ایک ہفتہ وار رپورٹ نہیں ہے۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ معیشت کی بنیادی سطح پر کیا ہو رہا ہے۔
جب بھی یہ اعداد و شمار توقعات سے بہتر آتے تھے، تو اسٹاک مارکیٹ میں عموماً ایک ابتدائی مثبت ردعمل دیکھنے کو ملتا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو یہ یقین ہو جاتا ہے. کہ کمپنیاں مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہیں اور وہ ملازمتیں ختم نہیں کر رہیں۔
یہ ایک ایسا نکتہ ہے جو طویل مدتی سرمایہ کاری کے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ ان اعداد و شمار کا براہ راست تعلق کنزیومر اسپینڈنگ اور اسٹاک مارکیٹ کی قوت سے ہے۔
حیران کن مارکیٹ ردعمل: اسٹاکس کیوں بڑھے اور ڈالر کیوں گرا؟
یہاں وہ نکتہ آتا ہے جہاں ایک تجربہ کار مالیاتی تجزیہ کار کی گہری سمجھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ عام طور پر، جب معاشی اعداد و شمار مضبوط ہوتے ہیں. تو امریکی ڈالر کو فائدہ ہوتا ہے. کیونکہ یہ فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔ لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا۔
امریکی اسٹاکس، جیسے کہ ڈاؤ جونز (Dow Jones) اور ایس اینڈ پی 500 (S&P 500) ، معمولی طور پر بڑھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مارکیٹ ان اعداد و شمار کو اس طرح دیکھ رہی ہے کہ معیشت مضبوط ہے. لیکن مہنگائی کے دباؤ میں کمی آ رہی ہے۔
کور PCE (Core PCE) کے اعداد و شمار جو کہ 2.5% رہے اور توقعات 2.6% سے کم تھے، نے اس خیال کو تقویت بخشی کہ مہنگائی قابو میں آ رہی ہے۔ یہ "گولڈی لاکس” (Goldilocks) منظرنامے کی طرف اشارہ کرتا ہے – ایسی معیشت جو نہ بہت گرم ہے اور نہ بہت ٹھنڈی۔ یعنی، معیشت اتنی مضبوط ہے کہ ترقی جاری رہے. لیکن اتنی گرم نہیں کہ فیڈ کو شرح سود میں جارحانہ اضافہ کرنا پڑے۔
دوسری طرف، امریکی ڈالر (US Dollar) دباؤ میں رہا۔ یورو کے مقابلے میں EURUSD کی قدر بڑھتی رہی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ مارکیٹ پہلے سے ہی قیاس کر چکی تھی کہ اعداد و شمار اچھے آئیں گے۔ چونکہ ان کا نتیجہ توقعات کے عین مطابق تھا. یا صرف تھوڑا سا بہتر تھا، اس لیے کوئی "بڑا” سرپرائز (surprise) نہیں تھا۔ اس کے علاوہ، دیگر عالمی مرکزی بینکوں کی جانب سے ممکنہ شرح سود میں اضافے کی توقعات بھی ڈالر پر دباؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔
آئندہ کا منظرنامہ اور سرمایہ کاروں کا فوکس
اس رپورٹ کے بعد، مارکیٹ کا فوکس تیزی سے اگلے بڑے اعداد و شمار پر منتقل ہو گیا ہے۔ اب سرمایہ کاروں کی نظریں ISM PMIs، ADP اور سب سے اہم، نان-فارم پے رولز (NFP) کی رپورٹ پر مرکوز ہوں گی۔
-
ISM PMIs: یہ صنعتی اور سروسز سیکٹر کی صحت کے بارے میں بتاتے ہیں۔
-
ADP اور NFP: یہ دونوں رپورٹیں امریکی لیبر مارکیٹ کی ماہانہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ پیش کرتی ہیں۔ اگر یہ رپورٹیں بھی مضبوط رہیں. تو یہ فیڈ کے لیے شرح سود کے حوالے سے فیصلے کرنا مزید مشکل بنا دیں گی۔
حرف آخر.
حالیہ معاشی اعداد و شمار نے امریکی معیشت کی مضبوطی کی تصدیق کی ہے. لیکن مارکیٹ کا ردعمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خبروں سے زیادہ، ان کی تشریح اور مستقبل کے حوالے سے ان کی توقعات اہمیت رکھتی ہیں۔ اسٹاکس میں اضافہ معاشی طاقت پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے. جبکہ ڈالر کا دباؤ اس بات کا اشارہ ہے کہ مارکیٹ اب اگلے ڈیٹا پوائنٹس کا انتظار کر رہی ہے۔
ایک تجربہ کار کے طور پر، میں ہمیشہ یہ مشورہ دیتا ہوں کہ صرف ہیڈلائنز پر توجہ نہ دیں۔ گہرائی میں جائیں اور یہ سمجھیں کہ اعداد و شمار کا ایک دوسرے سے اور مستقبل کی توقعات سے کیا تعلق ہے۔ یہ آپ کو ایک ایسا فائدہ دے گا. جو وقتی رجحانات (Trends) سے بالاتر ہو کر طویل مدتی حکمت عملی بنانے میں مدد کرے گا۔
آپ کے خیال میں آنے والے معاشی اعداد و شمار کا مارکیٹ پر کیا اثر پڑے گا؟ اپنے خیالات نیچے کمنٹس میں شیئر کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



