US Nonfarm Payroll سے پہلے بے یقینی، کیا ڈالر کی بادشاہت خطرے میں ہے؟

Cooling Labor Data, Federal Reserve Expectations and the Next Big Move in EURUSD

امریکی فنانشل مارکیٹس میں اس وقت خاموشی ایک طوفان سے پہلے کا اشارہ بن چکی ہے، کیونکہ سرمایہ کاروں کی نظریں ایک ایسے ڈیٹا پر جمی ہیں جو نہ صرف امریکی معیشت کی رفتار بلکہ عالمی کرنسی مارکیٹس کی سمت بھی طے کر سکتا ہے. اور وہ ہے US Nonfarm Payrolls۔ نومبر کے لیے توقع کی جا رہی ہے. کہ ملازمتوں میں اضافہ محض 40 ہزار رہے گا. جو ستمبر کے 119 ہزار اضافے کے مقابلے میں واضح سست روی کی علامت ہے. یہی سست روی اس مالیاتی کہانی کو ایک نئے موڑ پر لے آ رہی ہے۔

اہم نکات (Key Points)

  • پے رولز میں کمی: نومبر میں صرف 40,000 نئی ملازمتوں کی توقع ہے. جو کہ ستمبر کے 119,000 کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔

  • غیر معمولی رپورٹ: حکومتی شٹ ڈاؤن کی وجہ سے اکتوبر اور نومبر کا ڈیٹا ایک ساتھ جاری کیا جا رہا ہے. جس سے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ (Volatility) بڑھنے کا خدشہ ہے۔

  • شرح سود پر اثر: کمزور ڈیٹا فیڈرل ریزرو (Fed) کو جنوری میں شرح سود (Interest Rates) مزید کم کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

  • ڈالر کا دباؤ: اگر ڈیٹا توقعات سے کم رہا تو EURUSD کی قیمت 1.1800 کی سطح تک جا سکتی ہے۔

US Nonfarm Payrolls ڈیٹا سے کیا توقع رکھی جائے؟

ماہرینِ معاشیات کے مطابق نومبر میں نان فارم پے رولز میں صرف 40,000 کا اضافہ متوقع ہے۔ یہ ڈیٹا گذشتہ مہینوں کی نسبت کافی کمزور ہے. جو کہ امریکی لیبر مارکیٹ میں ٹھنڈک (Cooling) کی واضح علامت ہے۔ بے روزگاری کی شرح (Unemployment Rate) کے 4.4% پر مستحکم رہنے کی امید ہے. جبکہ اوسط فی گھنٹہ آمدنی (Average Hourly Earnings) میں 0.3% اضافے کا امکان ہے۔

امریکی لیبر مارکیٹ اس وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ منگل کے روز جاری ہونے والا US Nonfarm Payrolls ڈیٹا نہ صرف اکتوبر اور نومبر کی روزگار کی صورتحال واضح کرے گا، بلکہ یہ فاریکس مارکیٹ (Forex Market) خصوصاً EURUSD کی اگلی سمت کا تعین بھی کرے گا۔ سرمایہ کاروں کی نظریں اس بات پر ہیں. کہ کیا امریکی معیشت واقعی سست روی کا شکار ہو رہی ہے۔

فیڈرل ریزرو کی پالیسی اور لیبر مارکیٹ کا تعلق

Federal Reserve کا دوہرا ہدف ہے: قیمتوں میں استحکام (Inflation control) اور زیادہ سے زیادہ روزگار۔ جب روزگار کا ڈیٹا کمزور آتا ہے، تو فیڈرل ریزرو معیشت کو سہارا دینے کے لیے شرح سود (Interest Rates) میں کٹوتی کرتا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں جیروم پاول کے محتاط لہجے نے یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ روزگار میں مزید کمی کو برداشت نہیں کریں گے. جس کا مطلب ہے کہ مزید ریٹ کٹس (Rate Cuts) میز پر موجود ہیں۔

ایڈوانس ڈیٹا جیسے کہ ADP پرائیویٹ پے رولز اور بے روزگاری کے کلیمز (Initial Claims) پہلے ہی خطرے کی گھنٹی بجا چکے ہیں۔ دسمبر کے آغاز میں کلیمز کا 236,000 تک پہنچنا یہ ظاہر کرتا ہے. کہ کمپنیاں اب نئی بھرتیاں کرنے کے بجائے اخراجات کم کرنے پر توجہ دے رہی ہیں۔

EURUSD پر NFP کے ممکنہ اثرات

اگر نان فارم پے رولز 40,000 سے کم آتے ہیں، تو امریکی ڈالر (USD) کی قدر میں تیزی سے کمی آ سکتی ہے. جس سے EURUSD 1.1800 کی مزاحمتی سطح (Resistance level) کو ٹیسٹ کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ڈیٹا 70,000 یا اس سے اوپر رہتا ہے. تو ڈالر کو سہارا ملے گا اور EURUSD دوبارہ 1.1600 کی سپورٹ لیول کی طرف گر سکتا ہے۔

مارکیٹ اس وقت "دو ریٹ کٹس” کی توقع کر رہی ہے. جبکہ فیڈ صرف ایک کٹ کا اشارہ دے رہا ہے۔ یہ تضاد NFP کے دن مارکیٹ میں شدید ہیجانی کیفیت پیدا کر سکتا ہے۔

ایک طویل تجربے کے دوران میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی NFP کا ڈیٹا کسی ‘شٹ ڈاؤن’ یا غیر معمولی تاخیر کے بعد آتا ہے. تو ابتدائی نمبرز اکثر مارکیٹ کو دھوکہ دیتے ہیں۔ ٹریڈرز کو چاہیے کہ وہ صرف "ہیڈ لائن نمبر” پر بھروسہ نہ کریں. بلکہ ‘ریویژن’ (Revision) پر بھی نظر رکھیں. کیونکہ پچھلے مہینوں کے اعداد و شمار میں بڑی تبدیلی ڈالر میں اچانک ریورسل (Reversal) لا سکتی ہے۔

ٹریڈرز کے لیے حکمت عملی (Actionable Insights)

ایسے بڑے معاشی ایونٹس کے دوران ٹریڈنگ کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا۔ ایک تجربہ کار اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میری رائے میں درج ذیل نکات پر عمل کرنا مفید ہو سکتا ہے:

  1. پوزیشن سائزنگ: ڈیٹا ریلیز کے وقت ‘لیکیویڈیٹی’ (Liquidity) کم ہو سکتی ہے. لہذا اپنے رسک کو محدود رکھیں۔

  2. اوسط آمدنی پر نظر: اگر پے رولز کم آئیں لیکن ‘ویج انفلیشن’ (Wage Inflation) زیادہ ہو. تو ڈالر فوری طور پر نہیں گرے گا۔

  3. انتظار کی پالیسی: ڈیٹا آنے کے پہلے 15-30 منٹ مارکیٹ اکثر غلط سمت میں حرکت کرتی ہے (Whipsaw)۔ سمت واضح ہونے کا انتظار کریں۔

اختتامی کلمات (Conclusion)

مجموعی طور پر، نومبر کی NFP رپورٹ صرف ایک معاشی ڈیٹا نہیں. بلکہ امریکی معیشت کی صحت کا "ایکس رے” ہے۔ اگر ملازمتوں کے اعداد و شمار مسلسل گرتے رہے. تو ہم ڈالر کی طویل مدتی کمزوری کے دور میں داخل ہو سکتے ہیں۔ مارکیٹ اس وقت فیڈ کی نرمی پر شرط لگا رہی ہے. اور منگل کا ڈیٹا اس شرط کی جیت یا ہار کا فیصلہ کرے گا۔

آپ کے خیال میں کیا امریکی معیشت ‘ہارڈ لینڈنگ’ کی طرف بڑھ رہی ہے؟ یا یہ صرف ایک عارضی سست روی ہے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button