ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی کوریا کو Tariff کی دھمکی: کیا Global Trade War کا نیا محاذ کھلنے والا ہے؟

Investment Commitments, Trade Deficit Pressure, and Regulatory Tensions Shape the Next Move

حالیہ دنوں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی کوریا پر 25% درآمدی ڈیوٹی (Import Duty) یعنی Tariff لگانے کی دھمکی نے عالمی مارکیٹس میں کھلبلی مچا دی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف دو اتحادیوں کے درمیان تعلقات کو متاثر کر رہی ہے بلکہ US-South Korea Trade War Impact کے حوالے سے سرمایہ کاروں (Investors) کے لیے تشویش کا باعث بھی ہے۔ اگرچہ ٹرمپ نے بعد میں "معاملہ حل کرنے” کا اشارہ دیا ہے، لیکن مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال (Market Uncertainty) برقرار ہے۔

اہم نکات (Key Takeaways)

  • ٹیرف کی دھمکی: صدر ٹرمپ نے جنوبی کوریا سے آنے والی گاڑیوں اور دیگر اشیاء پر ٹیرف 15% سے بڑھا کر 25% کرنے کا اشارہ دیا ہے۔

  • معاہدے میں تاخیر: امریکہ کا موقف ہے کہ جنوبی کوریا نے 350 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری (Investment) کا وعدہ پورا نہیں کیا. اور ان کی پارلیمنٹ نے اب تک ضروری قوانین پاس نہیں کیے۔

  • ڈیجیٹل سروسز کا تنازع: جنوبی کوریا کے نئے پلیٹ فارم ریگولیشنز اور ‘کوپینگ’ (Coupang) جیسے امریکی اداروں کے خلاف کارروائیوں نے واشنگٹن کو ناراض کر دیا ہے۔

  • مارکیٹ کا ردعمل: جنوبی کوریا کی کرنسی ‘ووان’ (Won) دباؤ کا شکار ہے. اور آٹو سیکٹر کے حصص (Shares) میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

جنوبی کوریا پر Tariff کیوں لگائے جا رہے ہیں؟

صدر ٹرمپ کے مطابق، جنوبی کوریا نے گزشتہ سال ہونے والے تجارتی معاہدے (Trade Deal) کی پاسداری نہیں کی۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ نے ٹیرف 25% سے کم کر کے 15% کر دیے تھے. جس کے بدلے میں سیول (Seoul) نے امریکہ میں 350 ارب ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا۔

امریکی تجارتی مذاکرات کار جیمیسن گریر (Jamieson Greer) کا کہنا ہے. کہ جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ فروری تک ان سرمایہ کاری بلوں کو منظور کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مزید برآں، امریکہ کا تجارتی خسارہ (Trade Deficit) جو بائیڈن دور میں 65 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا. ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ناقابل قبول ہے۔

جنوبی کوریا پر Tariff کی دھمکی کی بنیادی وجہ 350 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری معاہدے پر عملدرآمد میں تاخیر اور امریکہ کا بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے. کہ جنوبی کوریا اپنی مارکیٹ امریکی گاڑیوں اور زرعی مصنوعات (Agricultural Products) کے لیے مزید کھولے. اور ڈیجیٹل سروسز پر لگائے گئے نئے ٹیکسز اور ریگولیشنز کو ختم کرے۔

اس کہانی کا ایک اور اہم پہلو جنوبی کوریا کا وہ قانون ہے. جو Digital Services اور آن لائن پلیٹ فارمز پر سخت نگرانی کرتا ہے، واشنگٹن کو خدشہ ہے. کہ یہ قانون امریکی کمپنیوں کے خلاف امتیازی ثابت ہو سکتا ہے. خاص طور پر Coupang جیسے امریکی لسٹڈ اداروں کے تناظر میں، اگرچہ سیئول نے اس تعلق کی تردید کی ہے. مگر مالی دنیا میں تاثر بھی اتنا ہی طاقتور ہوتا ہے جتنا حقیقت۔

کوپینگ (Coupang) اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا تنازع کیا ہے؟

جنوبی کوریا میں کام کرنے والی ای کامرس کمپنی کوپینگ (Coupang)، جو نیویارک سٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ ہے. حالیہ تنازع کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ کورین ریگولیٹرز کی جانب سے کمپنی پر جرمانے اور ڈیٹا لیک کے حوالے سے تحقیقات کو امریکہ میں "امتیازی سلوک” (Discrimination) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اگرچہ جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون (Cho Hyun) نے واضح کیا ہے. کہ ٹیرف کی دھمکی کا کوپینگ سے براہ راست تعلق نہیں. لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ امریکی ٹیک کمپنیوں (Tech Companies) کو تحفظ فراہم کرنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔

بطور ایک فنانشل اسٹریٹجسٹ، میں نے ماضی میں بھی دیکھا ہے. کہ جب بھی کوئی ملک امریکی ٹیک جنات (Tech Giants) پر ریگولیشنز سخت کرتا ہے. تو امریکہ اسے تجارتی جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ 2019 میں فرانس کے ‘ڈیجیٹل سروس ٹیکس’ کے وقت بھی بالکل ایسا ہی ہوا تھا۔

جنوبی کوریا کی معیشت اور اسٹاک مارکیٹ پر ممکنہ اثرات

اگر 25% ٹیرف لاگو ہو جاتے ہیں، تو اس کا سب سے زیادہ اثر جنوبی کوریا کے آٹو سیکٹر (Auto Sector) پر پڑے گا۔ ہیونڈے (Hyundai) اور کیا (Kia) جیسی کمپنیاں، جو سالانہ لاکھوں گاڑیاں امریکہ برآمد کرتی ہیں. ان کے منافع میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

متاثرہ سیکٹر (Affected Sector) اثر کی نوعیت (Nature of Impact) شدت (Severity)
آٹو موبائل (Automobiles) برآمدات میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ بہت زیادہ (High)
فارماسیوٹیکل (Pharmaceuticals) امریکی مارکیٹ تک رسائی مہنگی ہو جائے گی درمیانی (Medium)
ٹیکنالوجی / سیمی کنڈکٹرز سپلائی چین (Supply Chain) میں رکاوٹیں درمیانی (Medium)
ووان (KRW Currency) ڈالر کے مقابلے میں قدر میں کمی بہت زیادہ (High)

US-South Korea Trade War Impact: سرمایہ کاروں کے لیے کیا حکمت عملی ہونی چاہیے؟

ایک تجربہ کار ٹریڈر کے طور پر، ہمیں سمجھنا چاہیے. کہ ٹرمپ کی Tariff Policy اکثر "پریشر ٹیکٹک” (Pressure Tactic) ہوتی ہے۔ وہ مذاکرات کی میز پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے ایسی دھمکیاں دیتے ہیں۔

سرمایہ کاروں کو طور پر گھبرانے (Panic) کی ضرورت نہیں ہے۔ فروری میں جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ کا سیشن انتہائی اہم ہے. جہاں سرمایہ کاری بلز پاس ہونے کا امکان ہے۔ اگر یہ بلز منظور ہو جاتے ہیں. تو Tariff کی دھمکی واپس لی جا سکتی ہے، جس سے مارکیٹ میں تیزی (Relief Rally) آئے گی۔

میں نے 2018 کی چین-امریکہ تجارتی جنگ کے دوران سیکھا کہ ‘ہیڈ لائن رسک’ (Headline Risk) عارضی ہوتا ہے۔ مارکیٹ اکثر ان دھمکیوں پر زیادہ ری ایکٹ کرتی ہے. لیکن اصل ڈیٹا اور معاہدوں پر نظر رکھنا ہی ایک سمجھدار سرمایہ کار کی نشانی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ کا کردار (Role of US Supreme Court)

جنوبی کوریا کے وزیر خزانہ کو یون چیول (Koo Yun-cheol) نے ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے. امریکی سپریم کورٹ کا متوقع فیصلہ۔ سپریم کورٹ اس وقت ٹرمپ کے Tariff لگانے کے اختیارات (Executive Power) کا جائزہ لے رہی ہے۔ اگر عدالت نے ٹرمپ کے خلاف فیصلہ دیا. تو جنوبی کوریا سمیت دیگر ممالک پر لگائے گئے ٹیرف غیر قانونی قرار دیے جا سکتے ہیں۔ یہ ‘لیگل رسک’ (Legal Risk) ٹرمپ انتظامیہ کو مذاکرات میں نرمی پر مجبور کر سکتا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ: آگے کیا ہوگا؟

جنوبی کوریا کی حکومت اب دو محاذوں پر کام کر رہی ہے.

  1. قانون سازی: فروری کے سیشن میں $350B کے سرمایہ کاری پیکج کو قانونی شکل دینا۔

  2. سفارت کاری: امریکی محکمہ خارجہ (State Department) کے ساتھ مل کر غلط فہمیوں کو دور کرنا۔

اگر جنوبی کوریا اپنی کرنسی (Won) کو گرنے سے بچانے کے لیے ڈالر کی فروخت کم کرتا ہے. اور امریکہ میں سرمایہ کاری کا عمل تیز کرتا ہے. تو یہ تنازع جلد حل ہو سکتا ہے۔

خلاصہ (Conclusion)

صدر ٹرمپ کی جانب سے "Work something out” کے بیان نے منڈیوں کو تھوڑی سانس لینے کا موقع دیا ہے، لیکن US-South Korea Trade War Impact ابھی ختم نہیں ہوا۔ سرمایہ کاروں کو فروری کے مہینے میں جنوبی کوریا کی پارلیمانی کارروائی اور امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔

یاد رکھیں، فنانشل مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال ہی خطرہ پیدا کرتی ہے. لیکن یہی وہ وقت ہوتا ہے جب باخبر ٹریڈرز بہترین مواقع تلاش کرتے ہیں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا جنوبی کوریا امریکہ کے دباؤ میں آ کر اپنی ٹیک پالیسیز تبدیل کرے گا یا یہ کشیدگی مزید بڑھے گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔

Source: Trump says ‘we’ll work something out with South Korea’ after tariff threat | Reuters

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button