جاپانی ین میں تیزی کے اثار ، مگر سرمایہ کار تذبذب کا شکار: کیا مالیاتی خسارہ رکاوٹ بنے گا؟
Fiscal Concerns, BoJ Policy Normalization and USD/JPY Dynamics Shape the Next Market Move
فاریکس مارکیٹ (Forex Market) میں اس وقت Japanese Yen (JPY) ایک دلچسپ مگر پیچیدہ صورتحال سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف بینک آف جاپان (BoJ) کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے اشارے مل رہے ہیں. جو عام طور پر کرنسی کو مضبوط کرتے ہیں. تو دوسری طرف جاپان کے بڑھتے ہوئے مالیاتی اخراجات اور عالمی اقتصادی حالات نے سرمایہ کاروں کو "دیکھو اور انتظار کرو” (Wait-and-See) کی پالیسی پر مجبور کر دیا ہے۔
امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں ین کی حالیہ نقل و حرکت محض ایک اتفاق نہیں. بلکہ یہ دو بڑے مرکزی بینکوں کی متضاد پالیسیوں اور جاپان کی اندرونی معاشی کمزوریوں کا مجموعہ ہے۔ اس بلاگ میں ہم گہرائی سے جائزہ لیں گے. کہ وہ کون سے عوامل ہیں. جو ین کو اوپر جانے سے روک رہے ہیں. اور آنے والے دنوں میں USDJPY Forecast کے حوالے سے ہمیں کن بڑی تبدیلیوں کی توقع کرنی چاہیے۔
دوسری جانب جاپان کی مالی حالت سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ وزیرِاعظم Sanae Takaichi کی کابینہ کی جانب سے ¥122.3 ٹریلین کے ریکارڈ بجٹ کی منظوری نے Fiscal Sustainability پر بحث کو تیز کر دیا ہے۔ توانائی سبسڈیز، مستحکم چاول کی قیمتیں اور کم پیٹرولیم لاگت افراطِ زر کو 2026 تک قابو میں رکھ سکتی ہیں. جس سے BoJ Interest Rate Hike کی ٹائمنگ مزید غیر یقینی ہو جاتی ہے۔ یہی غیر یقینی صورتحال ین بُلز کو جارحانہ پوزیشن لینے سے روک رہی ہے۔
اہم نکات (Key Takeaways)
-
بینک آف جاپان کی پالیسی: بینک آف جاپان (BoJ) بتدریج شرح سود بڑھانے (monetary tightening) کے حق میں ہے، جو ین کے لیے مثبت ہے۔
-
مالیاتی خدشات (Fiscal Concerns): جاپان کا 122.3 ٹریلین ین کا ریکارڈ بجٹ خسارے کے خدشات کو جنم دے رہا ہے، جس سے Japanese Yen کی تیزی محدود ہے۔
-
امریکی فیڈرل ریزرو کا کردار: امریکہ میں شرح سود میں کمی (rate cuts) کی توقعات ڈالر پر دباؤ ڈال رہی ہیں، جس سے USDJPY کا جوڑا ایک خاص حد (range) میں پھنس گیا ہے۔
-
اہم ڈیٹا پر نظر: اس ہفتے آنے والے امریکی نان فارم پے رولز (NFP) اور افراط زر کے اعداد و شمار مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔
Japanese Yen میں تیزی کیوں نہیں آ رہی؟
Japanese Yen میں تیزی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ جاپان کی مالیاتی حالت (Fiscal Position) اور بجٹ کا بھاری خسارہ ہے۔ حال ہی میں وزیر اعظم سانائے تاکایچی کی کابینہ نے 122.3 ٹریلین ین کا ریکارڈ بجٹ منظور کیا ہے. جس نے سرمایہ کاروں کو پریشان کر دیا ہے. کہ جاپان اپنے قرضوں کا بوجھ کیسے سنبھالے گا۔ اس کے علاوہ، مہنگائی کے حوالے سے ملے جلے اشارے بھی "ین بِلز” (JPY Bulls) کو محتاط رکھے ہوئے ہیں۔

کیا مالیاتی خسارہ Japanese Yen کی قدر کو کم کر رہا ہے؟
جاپان کی معاشی تاریخ میں قرضوں کا بوجھ ہمیشہ سے ایک حساس موضوع رہا ہے۔ جب حکومت ریکارڈ توڑ بجٹ پیش کرتی ہے. تو عالمی سرمایہ کار اسے کرنسی کی سپلائی میں اضافے اور مستقبل کے مالیاتی استحکام کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
اپنے 10 سالہ ٹریڈنگ کیریئر میں میں نے دیکھا ہے. کہ جب بھی کوئی ملک اپنے بجٹ خسارے کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہتا ہے. تو مرکزی بینک کی شرح سود میں اضافے کی کوششیں بھی بے اثر ہو جاتی ہیں۔ 2022 میں برطانوی پاؤنڈ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا. جب "منی بجٹ” کے بعد مارکیٹ کریش کر گئی تھی۔ جاپان کے معاملے میں، مارکیٹ اب صرف شرح سود نہیں. بلکہ حکومت کی خرچ کرنے کی صلاحیت کو بھی مانیٹر کر رہی ہے۔
بینک آف جاپان (BoJ) کا موقف اور شرح سود کا مستقبل
گورنر کازوؤ یوئیدا (Kazuo Ueda) نے واضح کیا ہے کہ اگر معاشی صورتحال اور قیمتیں ان کے تخمینے کے مطابق رہیں. تو بینک شرح سود میں اضافہ جاری رکھے گا۔ فی الحال مارکیٹ میں اس بات پر غیر یقینی صورتحال ہے. کہ اگلا اضافہ دسمبر میں ہوگا یا اگلے سال کے آغاز میں۔
جے جی بی (JGB) ییلڈز میں اضافہ اور اس کا اثر
جاپانی سرکاری بانڈز (Japanese Government Bonds) کی ییلڈز 1996 اور 1999 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ تکنیکی طور پر، جب بانڈ ییلڈز بڑھتی ہیں. تو مقامی کرنسی کو فائدہ ہونا چاہیے. کیونکہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش ہو جاتی ہے۔ لیکن یہاں معاملہ مختلف ہے. سرمایہ کاروں کو ڈر ہے. کہ اگر ریٹس بہت تیزی سے بڑھے. تو جاپان کے لیے اپنے قرضوں پر سود ادا کرنا مشکل ہو جائے گا۔
امریکی ڈالر (USD) اور فیڈرل ریزرو کی حکمت عملی
USDJPY کے جوڑے میں ڈالر کا حصہ انتہائی اہم ہے۔ اس وقت امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) کی جانب سے شرح سود میں مزید کمی کی توقعات کی جا رہی ہیں۔
-
ڈووش فیڈ (Dovish Fed): اگر فیڈ ریٹس کم کرتا ہے. تو ڈالر کمزور ہوگا. جس سے USDJPY نیچے آئے گا۔
-
سیاسی غیر یقینی: ٹرمپ انتظامیہ کے تحت فیڈرل ریزرو کی خود مختاری (independence) کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں. جو ڈالر کے لیے ایک منفی پہلو ہے۔
مارکیٹ کا مستقبل اور ٹریڈنگ حکمت عملی
ایک تجربہ کار اسٹریٹیجسٹ کے طور پر، میرا مشورہ ہے. کہ اس ہفتے آنے والے امریکی ڈیٹا پر کڑی نظر رکھیں۔ خاص طور پر جمعہ کو آنے والا NFP ڈیٹا یہ فیصلہ کرے گا. کہ آیا فیڈرل ریزرو دسمبر میں شرح سود کم کرے گا یا نہیں۔
میں نے اکثر دیکھا ہے. کہ ریٹیل ٹریڈرز صرف چارٹ دیکھتے ہیں. اور بنیادی خبروں (Fundamental News) کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ USDJPY ایک ایسا پیئر ہے جو صرف ٹیکنیکل لیولز پر نہیں. بلکہ ‘ڈیفرینشل ریٹ’ (Rate Differential) پر چلتا ہے۔ اگر امریکہ میں Inflation کم ہوتی ہے. اور جاپان میں ییلڈز بڑھتی ہیں. تو ین کی مضبوطی کو کوئی نہیں روک سکے گا۔
ین کے لیے مثبت عوامل (Bullish Factors):
-
جغرافیائی سیاسی کشیدگی (Geopolitical Tensions) جس میں لوگ ین کو محفوظ سمجھ کر خریدتے ہیں۔
-
بینک آف جاپان کا ہاکش (Hawkish) رویہ۔
-
امریکی ڈالر میں ممکنہ گراوٹ۔
ین کے لیے منفی عوامل (Bearish Factors):
-
جاپان کا بڑھتا ہوا بجٹ خسارہ۔
-
توانائی کی قیمتوں میں کمی، جو جاپان میں مہنگائی کو ہدف سے نیچے رکھ سکتی ہے۔
اختتامیہ
خلاصہ یہ ہے کہ Japanese Yen اس وقت ایک دوہری کشمکش کا شکار ہے۔ بینک آف جاپان کی پالیسی اسے سہارا دے رہی ہے، جبکہ جاپانی حکومت کے مالیاتی فیصلے اسے پیچھے دھکیل رہے ہیں۔ USDJPY Forecast کے مطابق، جب تک جاپان کی مالیاتی پالیسی میں وضاحت نہیں آتی. ین بِلز محتاط رہیں گے۔ آنے والے امریکی معاشی اعداد و شمار اس تعطل کو توڑنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ بینک آف جاپان دسمبر میں شرح سود بڑھا کر مارکیٹ کو حیران کر دے گا، یا مالیاتی خدشات ین کو مزید کمزور کریں گے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



