Venezuela بحران کے سائے میں USDCHF دباؤ کا شکار، Swiss Franc بطور Safe-Haven مضبوط
Venezuela Crisis, Safe-Haven Demand and Federal Reserve Dovish Signals Reshape Currency Markets
بدھ کے ابتدائی یورپی سیشن (European session) کے دوران فاریکس مارکیٹ میں ایک اہم ہلچل دیکھی گئی. جب USDCHF کی جوڑی گر کر 0.7950 کی سطح کے قریب پہنچ گئی۔ اس گراوٹ کی بڑی وجوہات میں Venezuela میں امریکی فوجی آپریشن کے بعد پیدا ہونے والی جیو پولیٹیکل کشیدگی (Geopolitical Tensions) اور امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) کے حکام کی جانب سے شرح سود میں جارحانہ کمی (Aggressive Interest Rate Cuts) کے اشارے شامل ہیں۔
جب بھی دنیا میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے. سرمایہ کار اپنی رقم کو محفوظ مقامات پر منتقل کرتے ہیں. جسے مالیاتی زبان میں "سیف ہیون ڈیمانڈ” (Safe-haven demand) کہا جاتا ہے۔ سوئس فرانک (CHF) تاریخی طور پر ایک محفوظ کرنسی مانی جاتی ہے. یہی وجہ ہے کہ حالیہ بحران میں اسے امریکی ڈالر کے مقابلے میں برتری حاصل ہو رہی ہے۔
اہم نکات (Key Highlights)
-
Venezuela کا بحران: صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور امریکی کنٹرول کے اعلان نے عالمی مارکیٹس میں بے چینی پھیلا دی ہے، جس سے سوئس فرانک (CHF) کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔
-
فیڈرل ریزرو کا دباؤ: فیڈ گورنر اسٹیفن میرن (Stephen Miran) نے معیشت کو سہارا دینے کے لیے شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس (1%) سے زائد کی کمی کی وکالت کی ہے، جس نے ڈالر کو کمزور کر دیا ہے۔
-
روس کی مداخلت: Venezuela کے ساحل پر روسی آبدوز کی موجودگی نے امریکہ اور روس کے درمیان براہ راست ٹکراؤ کا خدشہ پیدا کر دیا ہے. جو مارکیٹ کے لیے "رسک آف” (Risk-off) ماحول پیدا کر رہا ہے۔
-
تکنیکی سطح: USDCHF فی الوقت 0.7950 کے اہم سپورٹ ایریا کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے. مزید گراوٹ کا انحصار امریکی ISM سروسز PMI ڈیٹا پر ہوگا۔
کیا Venezuela کا تنازع USDCHF پر اثر انداز ہو رہا ہے؟
Venezuela میں ہونے والی حالیہ تبدیلیاں براہ راست عالمی فنانشل مارکیٹس پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ہفتے کے روز امریکی اسپیشل فورسز نے کاراکاس (Caracas) میں ایک بڑا آپریشن کر کے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا۔ اس واقعے کے بعد صدر ٹرمپ کے اس بیان نے کہ "امریکہ اب جنوبی امریکی کا انتظام سنبھالے گا.” عالمی سیاست میں ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔
جیو پولیٹیکل خطرات اور سوئس فرانک (CHF) کا کردار
جب بھی دو ممالک یا بلاکس کے درمیان جنگ یا بڑے سیاسی بحران کا خطرہ ہوتا ہے. ٹریڈرز "سیف ہیون” اثاثوں کی طرف بھاگتے ہیں۔ سوئس فرانک اپنی مستحکم معیشت اور سوئٹزرلینڈ کی غیر جانبدارانہ پالیسی کی وجہ سے پہلی پسند ہوتا ہے۔
Venezuela کا بحران عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ خاص طور پر جب روس نے اپنے تیل کے ٹینکرز کی حفاظت کے لیے آبدوزیں تعینات کر دی ہیں. تو ٹریڈرز کو خدشہ ہے. کہ یہ تنازع صرف Venezuela تک محدود نہیں رہے گا۔ یہی خوف سوئس فرانک کی قیمت بڑھا رہا ہے اور USDCHF کو نیچے دھکیل رہا ہے۔
میں نے 2014 کے کریمیا بحران اور حالیہ برسوں کے مشرق وسطیٰ کے تنازعات کے دوران دیکھا ہے. کہ جیو پولیٹیکل خبریں اکثر ٹیکنیکل انالیسس (Technical Analysis) کو پس پشت ڈال دیتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں سگنلز سے زیادہ "سینٹیمنٹ” (Sentiment) پر نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
فیڈرل ریزرو کی ‘ڈووش’ (Dovish) پالیسی اور ڈالر کی کمزوری
ڈالر کی حالیہ کمزوری کی دوسری بڑی وجہ امریکی مرکزی بینک کے عہدیداروں کے بیانات ہیں۔ فیڈ گورنر اسٹیفن میرن نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکی معیشت کو سست روی سے بچانے کے لیے اس سال شرح سود میں "جارحانہ” کمی کی ضرورت ہے۔
شرح سود میں کمی کا ڈالر پر اثر
عام طور پر جب کسی ملک میں شرح سود (Interest Rates) کم ہوتی ہے، تو اس ملک کی کرنسی کی قدر میں کمی آتی ہے. کیونکہ وہاں سرمایہ کاری پر منافع کم ہو جاتا ہے۔ میرن کا یہ کہنا کہ 100 بنیادی پوائنٹس سے زیادہ کی کمی ہونی چاہیے. ڈالر کے لیے ایک منفی سگنل ہے۔
نیپلس فیڈ کے صدر نیل کاشکاری کا انتباہ
فیڈرل ریزرو کے سینئر عہدیدار نیل کاشکاری (Neel Kashkari) نے بے روزگاری کی شرح (Unemployment Rate) میں اچانک اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے. کہ امریکی لیبر مارکیٹ دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے. جو فیڈ کو مزید تیزی سے ریٹ کٹ (Rate Cut) کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
| عہدیدار کا نام | موقف (Stance) | بنیادی خدشہ |
| اسٹیفن میرن | جارحانہ کٹوتی (Aggressive Cuts) | معاشی سست روی (Economic slowdown) |
| نیل کاشکاری | محتاط / ڈووش | بے روزگاری میں اضافہ (Rise in jobless rate) |
روس اور امریکہ کا ٹکراؤ: کیا ہم ایک بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق روس نے Venezuela کے قریب اپنے بحری بیڑے اور ایک آبدوز کو متحرک کر دیا ہے۔ یہ قدم امریکہ کی جانب سے تیل کے ٹینکرز کو روکنے کی کوششوں کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے۔
فاریکس ٹریڈرز کے لیے یہ خبر انتہائی اہم ہے کیونکہ:
-
تیل کی قیمتیں (Oil Prices): Venezuela دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ سپلائی میں رکاوٹ عالمی افراط زر (Inflation) کو بڑھا سکتی ہے۔
-
عالمی طاقتوں کا تصادم: روس اور امریکہ کا آمنے سامنے آنا "رسک ایورژن” (Risk aversion) کو جنم دیتا ہے، جہاں سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ اور ڈالر سے نکل کر سونا (Gold) اور سوئس فرانک (CHF) خریدتے ہیں۔
ٹیکنیکل انالیسس: USDCHF کے لیے اگلے اہم لیولز
USDCHF فی الحال ایک نازک موڑ پر ہے۔ 0.7950 کی سطح ایک نفسیاتی اور تکنیکی سپورٹ (support) کے طور پر کام کر رہی ہے۔

کیا USDCHF مزید گرے گا؟
اگر قیمت 0.7950 سے نیچے مستحکم ہوتی ہے. تو اگلا ہدف 0.7880 اور پھر 0.7800 ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف، اگر آج شام آنے والا امریکی ISM سروسز PMI ڈیٹا توقع سے بہتر آتا ہے. تو ڈالر کو تھوڑی سہارا مل سکتا ہے. اور قیمت دوبارہ 0.8020 کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
میرا تجربہ بتاتا ہے کہ جب کوئی جوڑی (pair) ایک طویل عرصے کے بعد کسی بڑی خبر پر اتنی اہم سطح (Level) توڑتی ہے. تو اکثر ایک "فالس بریک آؤٹ” (false breakout) کا خطرہ ہوتا ہے۔ ٹریڈرز کو چاہیے. کہ وہ جلد بازی میں سیل (Sell) کرنے کے بجائے ری-ٹیسٹ (Re-Test) کا انتظار کریں۔
سوئس فرانک کو سیف ہیون (Safe-haven) کیوں کہا جاتا ہے؟
سوئس فرانک کو محفوظ ترین کرنسی اس لیے سمجھا جاتا ہے. کیونکہ سوئٹزرلینڈ کا سیاسی نظام انتہائی مستحکم ہے. وہاں افراط زر کم رہتا ہے. اور ملک پر بیرونی قرضے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ عالمی بحرانوں میں لوگ اپنی دولت کی حفاظت کے لیے سوئس بینکوں کا رخ کرتے ہیں۔
سوئس فرانک کی طرح سونا بھی ایک محفوظ اثاثہ ہے۔ جیو پولیٹیکل تناؤ میں عام طور پر سونا اور CHF ایک ہی سمت میں حرکت کرتے ہیں۔
مستقبل کی حکمت عملی
وینزویلا کی صورتحال اور امریکی فیڈرل ریزرو کی بدلتی ہوئی پالیسی نے USDCHF کو ایک بئیرش (bearish) ٹرینڈ میں دھکیل دیا ہے۔ ٹریڈرز کو اس وقت دو بڑے عوامل پر نظر رکھنی چاہیے: ایک طرف واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، اور دوسری طرف امریکی معاشی ڈیٹا۔
اس وقت مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ (volatility) بہت زیادہ ہے۔ چھوٹی لاٹ (Small Lot Size) کے ساتھ ٹریڈ کریں اور اسٹاپ لاس (Stop loss) کا استعمال لازمی بنائیں۔ وینزویلا کے معاملے میں کوئی بھی اچانک مثبت یا منفی خبر مارکیٹ کا رخ سیکنڈوں میں بدل سکتی ہے۔
آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ڈالر 0.7900 سے نیچے گرے گا. یا یہاں سے واپسی ممکن ہے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



