USDJPY کی 156 سے اوپر زوردار پرواز، BoJ Rate Hike کے بعد Japanese Yen دباؤ میں

Bank of Japan’s 25bps Hike to 0.75% Keeps Policy Dovish, Fueling USDJPY Rally

USDJPY کی جوڑی نے Bank of Japan (BoJ) کی جانب سے شرح سود میں حالیہ اضافے کے بعد 156.00 کی سطح کو عبور کر لیا ہے۔ اگرچہ مرکزی بینک نے اپنی پالیسی کو سخت کیا ہے. لیکن مارکیٹ کا ردعمل جاپانی ین (JPY) کے لیے خاصا کمزور رہا ہے۔ اس بلاگ میں ہم اس فیصلے کے پیچھے چھپے عوامل اور فاریکس مارکیٹ پر اس کے دور رس اثرات کا جائزہ لیں گے۔

اہم نکات (Key Highlights)

  • شرح سود میں اضافہ: بینک آف جاپان نے مارکیٹ کی توقعات کے مطابق اپنی مختصر مدت کی شرح سود کو 0.50% سے بڑھا کر 0.75% کر دیا ہے۔

  • ین (Yen) کی کمزوری: شرح سود بڑھنے کے باوجود USDJPY میں تیزی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کار اب بھی جاپانی ریٹس کو عالمی سطح کے مقابلے میں بہت کم (Accommodative) دیکھ رہے ہیں۔

  • مہنگائی کا ہدف: بینک کا ماننا ہے کہ 2% افراط زر (Inflation) کا ہدف پائیدار بنیادوں پر حاصل ہونے کے قریب ہے۔

  • مستقبل کا اشارہ: گورنر یوئڈا (Governor Ueda) نے واضح کیا ہے کہ اگر معاشی اعداد و شمار مثبت رہے. تو مزید اضافے ممکن ہیں۔

بینک آف جاپان نے شرح سود کیوں بڑھائی؟

بینک آف جاپان نے 30 سالوں میں بلند ترین شرح سود مقرر کر کے اپنی مانیٹری پالیسی (Monetary Policy) کو نارملائز کرنے کی سمت میں ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی اجرتوں (Wages) اور افراط زر کے درمیان ایک توازن پیدا کرنا ہے۔

BoJ نے شرح سود میں 25 بنیادی پوائنٹس کا اضافہ اس لیے کیا. کیونکہ جاپان کی معیشت اب ایک ایسے مرحلے میں ہے جہاں مہنگائی اور تنخواہوں میں اضافہ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہا ہے۔ بینک کا مقصد اپنی کرنسی کو سہارا دینا اور طویل عرصے سے جاری منفی ریٹ کے ماحول سے باہر نکلنا ہے۔

کیا جاپان کی معیشت اس اضافے کو برداشت کر سکتی ہے؟

مرکزی بینک کے مطابق، اگرچہ معیشت میں کچھ کمزوریاں موجود ہیں. لیکن مجموعی طور پر ریکوری کا عمل جاری ہے۔ کارپوریٹ منافع بلند ترین سطح پر ہیں. اور لیبر مارکیٹ میں تیزی برقرار ہے۔

فنانشل مارکیٹس میں اکثر دیکھا گیا ہے. کہ جب کوئی مرکزی بینک ایک طویل عرصے کے بعد پالیسی بدلتا ہے. تو پہلی چند تبدیلیاں علامتی (Symbolic) زیادہ ہوتی ہیں۔

10 سالہ ٹریڈنگ تجربے کی بنیاد پر، میں نے یہ سیکھا ہے کہ مارکیٹ صرف "ریٹ ہائیک” کو نہیں دیکھتی. بلکہ یہ دیکھتی ہے کہ "رئیل انٹرسٹ ریٹ” (Real Interest Rate) اب بھی کتنا منفی ہے۔ جاپان میں ریٹ بڑھنے کے باوجود مہنگائی کے مقابلے میں حقیقی شرح سود اب بھی منفی ہے. یہی وجہ ہے کہ ین مضبوط ہونے کے بجائے گرا ہے۔

USDJPY  نفسیاتی ہدف 156.00 سے اوپر کیوں نکلا؟

عام طور پر جب کوئی ملک شرح سود بڑھاتا ہے. تو اس کی کرنسی مضبوط ہوتی ہے. لیکن USDJPY کے معاملے میں الٹ ہوا۔ اس کی وجہ "Buy the rumor, sell the news” کی حکمت عملی اور جاپانی ریٹس کا امریکی فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کے مقابلے میں اب بھی بہت کم ہونا ہے۔

مارکیٹ کا ردعمل اور نفسیاتی سطح

USDJPY کا 156.00 کی سطح کو دوبارہ حاصل کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹریڈرز BoJ کے اس اقدام کو بہت زیادہ "Hiawkish” (سخت) نہیں سمجھ رہے۔ جب تک جاپانی ریٹس 1% یا اس سے اوپر نہیں جاتے. ڈالر کے مقابلے میں ین کا کیری ٹریڈ (Carry Trade) پرکشش رہے گا۔

USDJPY as on 19th December 2025 after BOJ Rate Hike
USDJPY as on 19th December 2025 after BOJ Rate Hike

بینک آف جاپان کی پالیسی سٹیٹمنٹ کے اہم نکات

پہلو (Aspect) تفصیلات (Details)
ووٹنگ پالیسی کا فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا۔
افراط زر (Inflation) 2% ہدف کے پائیدار حصول کی امید ظاہر کی گئی ہے۔
اجرتیں (Wages) اگلے سال بھی کمپنیوں کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کا قوی امکان ہے۔
رئیل ریٹس ریٹ بڑھنے کے باوجود رئیل انٹرسٹ ریٹ "نمایاں طور پر منفی” رہیں گے۔

ٹریڈرز کے لیے اگلا لائحہ عمل.

اب تمام نظریں گورنر یوئڈا کی پریس کانفرنس پر ہیں۔ ٹریڈرز یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا دسمبر یا جنوری میں ایک اور اضافہ ممکن ہے؟

اگر آپ USDJPY میں ٹریڈنگ کر رہے ہیں، تو 156.50 اور 157.00 کی مزاحمتی سطحوں (Resistance levels) پر نظر رکھیں۔ دوسری طرف، 154.80 ایک مضبوط سپورٹ (Support) کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ جاپانی ین میں اتار چڑھاؤ (Volatility) بڑھنے کا خدشہ ہے. لہذا اسٹاپ لاس (Stop Loss) کا استعمال لازمی کریں۔

فاریکس مارکیٹ میں "پالیسی ڈائیورجنس” (Policy Divergence) سب سے بڑا محرک ہوتی ہے۔ جب امریکہ ریٹ کم کرنے کا سوچ رہا ہو. اور جاپان بڑھا رہا ہو، تو طویل مدتی رجحان ین کی مضبوطی کی طرف ہونا چاہیے. لیکن مارکیٹ اکثر فوری طور پر ری ایکٹ نہیں کرتی۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ ایسی خبروں کے بعد ابتدائی سپائیک (Spike) مخالف سمت میں آتی ہے. تاکہ ریٹیل ٹریڈرز کو "ٹراپ” (Trap) کیا جا سکے۔

حرف آخر.

BOJ کا فیصلہ تاریخی تو ہے. لیکن مارکیٹ کے لیے غیر متوقع نہیں تھا۔ 0.75% کی شرح سود ابھی بھی عالمی معیار کے مطابق بہت کم ہے۔ USDJPY کا 156.00 سے اوپر جانا ظاہر کرتا ہے. کہ مارکیٹ ابھی مزید وضاحت چاہتی ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا BoJ کا یہ 25 bps کا اضافہ ین کو مستقل طور پر سنبھال پائے گا. یا ہمیں جلد ہی 160.00 کی سطح دوبارہ دیکھنے کو ملے گی؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button