USDTRY نئی بلندیوں پر، Trump کی BRICS پر Tariff Threats سے Turkish Lira شدید دباؤ کا شکار

Fresh Highs For USDTRY As Trump Warns BRICS, Middle East Tensions Weaken Lira

ترکی کی معیشت ایک اور مشکل مرحلے میں داخل ہو چکی ہے. جہاں USDTRY نے خطرناک حد تک 40 کے قریب نئی بلندیوں کو چھوا ہے۔ اس دوران Trump کی جانب سے BRICS ممالک پر 10 فیصد اضافی Tariff Threats اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے Turkish Lira کو مزید کمزور کر دیا ہے. .جس سے عالمی مارکیٹس میں ایک نیا اضطراب پیدا ہوا ہے۔

خلاصہ.

  • Trump نے BRICS اتحادی ممالک کو امریکی مخالفت پر 10 فیصد اضافی Tariff لگانے کی دھمکی دی.

  • USDTRY مسلسل دوسرے دن بڑھتے ہوئے 39.98 کی تاریخی سطح تک پہنچ گئی.

  • مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان قطر میں مذاکرات ناکام ہونے سے Turkish Lira پر دباؤ بڑھا.

  • US Treasury Secretary Scott Bessent کے مطابق اگر معاہدے نہ ہوئے تو 1 اگست تک پرانے Tariffs بحال ہو سکتے ہیں.

  • US Commerce Secretary Howard Lutnick نے بتایا کہ Trump پیر کے دن 12-15 ممالک کو Tariff کے خطوط بھیج سکتے ہیں.

  • Central Bank of The Republic of Türkiye نے افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے شرح سود کو 46% پر برقرار رکھا.

  • جون 2025 میں افراط زر 35.05% تک گر گئی. جو نومبر 2021 کے بعد کم ترین سطح ہے.

مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے Turkish Lira پر دباؤ.

اسرائیل کی طرف سے غزہ میں حملے اور قطر میں غیر رسمی سیز فائر مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد مشرق وسطیٰ میں خطرات بڑھ گئے ہیں. جس نے Turkish Lira کی کمزوری کو مزید بڑھا دیا ہے۔

گزشتہ رات غزہ پر اسرائیل کے حملوں میں 39 افراد جاں بحق اور ایک دن پہلے 78 فلسطینی مارے گئے. جس نے سرمایہ کاروں کی خطرے سے بچنے کی طلب میں اضافہ کر دیا، جس سے USDTRY کو تقویت ملی۔

ٹرمپ کے Tariff Threats اور BRICS

پیر کے روز Trump نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ کوئی بھی ملک جو BRICS کی امریکی مخالف پالیسیوں کے ساتھ کھڑا ہوگا. اسے اضافی 10% Tariff ادا کرنا ہوگا۔ اس اعلان نے عالمی تجارت میں غیر یقینی کی کیفیت پیدا کر دی. اور سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی طرف متوجہ ہوئے. جس سے USD کو تقویت اور Turkish Lira کمزوری کا شکار ہوا.

ترکش سینٹرل بینک کی پالیسی

Central Bank of The Republic of Türkiye نے شرح سود کو 46% پر برقرار رکھا ہے، جس سے افراط زر جون 2025 میں 35.05% تک نیچے آگئی. جو نومبر 2021 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ تاہم، USDTRY کی بلند پرواز نے معاشی استحکام کے لیے چیلنجز برقرار رکھے ہیں۔

USDTRY کی تاریخی بلندی اور Trump کی Tariff Threats کے اثرات کے ساتھ BRICS ممالک کے خلاف امریکی موقف اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے ترک معیشت کے لیے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ اگرچہ Central Bank of The Republic of Türkiye نے افراط زر کو نیچے لانے میں کامیابی حاصل کی ہے. مگر جاری عالمی خطرات Turkish Lira پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button