پاؤنڈ اسٹرلنگ دباؤ میں، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی سے GBP/USD 1.3360 کے قریب پھسل گیا

منگل کے یورپی سیشن کے دوران پاؤنڈ اسٹرلنگ (GBP/USD) اپنی بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں کمزور دکھائی دیا اور امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں تقریباً 0.3% گر کر 1.3360 کے قریب آ گیا۔

GBP/USD میں یہ کمی عالمی مارکیٹ میں بڑھتے ہوئے رسک آف سینٹیمنٹ کے باعث آئی، جو امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے سبب پیدا ہوا ہے۔ سرمایہ کاروں نے خطرناک اثاثوں سے پیسہ نکال کر محفوظ اثاثوں، خاص طور پر امریکی ڈالر، کا رخ کیا۔

آج GBP/USD کی کارکردگی (ہیٹ میپ خلاصہ)

آج کے کرنسی ہیٹ میپ کے مطابق:

پاؤنڈ سب سے زیادہ جاپانی ین (JPY) کے مقابلے میں کمزور رہا۔

GBP تقریباً تمام بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں منفی زون میں ٹریڈ کرتا رہا۔

محفوظ اثاثوں جیسے ین اور ڈالر نے مضبوطی دکھائی۔

یہ واضح اشارہ ہے کہ سرمایہ کار غیر یقینی صورتحال میں محفوظ کرنسیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔

توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور برطانیہ میں افراطِ زر کا خدشہ

مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی آئی ہے، جس نے برطانیہ میں ممکنہ افراطِ زر کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

تیل مہنگا ہونے سے:

ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں

گھریلو توانائی بل میں اضافہ ہوتا ہے

اشیائے خوردونوش کی قیمتیں متاثر ہوتی ہیں

اگر قیمتوں میں یہ دباؤ برقرار رہا تو برطانوی صارفین کی قوتِ خرید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے مجموعی معاشی سرگرمی سست پڑ سکتی ہے۔

بینک آف انگلینڈ کا محتاط مؤقف

Bank of England کے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے رکن ایلن ٹیلر نے ناروے کے مرکزی بینک کی میزبانی میں منعقدہ کانفرنس میں کہا کہ تیل کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مرکزی بینک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

افراطِ زر کے خدشات بڑھنے کے بعد مارکیٹ میں شرح سود میں کٹوتی کی توقعات کم ہو گئی ہیں۔

مارچ میں شرح سود میں کمی کا امکان اب 50% سے بھی کم رہ گیا ہے

پیر کے آغاز سے قبل یہ امکان تقریباً 80% تھا

یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کار اب BoE کی جانب سے جلد ریلیف کی توقع کم کر رہے ہیں۔

امریکی ڈالر کی مضبوطی اور محفوظ پناہ گاہ کی طلب

دوسری جانب، امریکی ڈالر کو جنگی صورتحال میں محفوظ اثاثہ سمجھا جا رہا ہے، جس کے باعث اس کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔

US Dollar Index (DXY) تقریباً چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح 98.75 کے قریب مضبوط ٹریڈ کر رہا ہے۔

ڈالر کی مضبوطی نے GBP/USD پر اضافی دباؤ ڈالا، کیونکہ:

سرمایہ کار رسک سے بچ رہے ہیں

امریکی معیشت نسبتاﹰ مستحکم دکھائی دے رہی ہے

فیڈ کی پالیسی کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے

آگے کیا؟ – نان فارم پے رولز پر نظر

اب سرمایہ کاروں کی نظریں جمعہ کو جاری ہونے والے امریکی نان فارم پے رولز (NFP) ڈیٹا پر مرکوز ہیں۔

یہ رپورٹ واضح کرے گی کہ:

امریکی لیبر مارکیٹ کتنی مضبوط ہے

کیا افراطِ زر کے دباؤ برقرار رہ سکتے ہیں

Federal Reserve کی آئندہ پالیسی سمت کیا ہو سکتی ہے

اگر روزگار کا ڈیٹا مضبوط آیا تو ڈالر مزید مضبوط ہو سکتا ہے، جس سے GBP/USD میں مزید کمی کا امکان پیدا ہوگا۔

تکنیکی منظرنامہ (GBP/USD)

GBP/USD 1.3400 نفسیاتی مزاحمتی سطح اب رکاوٹ بن چکی ہے۔

1.3300 اگلا اہم سپورٹ لیول ہے۔

اگر رسک آف فضا برقرار رہی تو 1.3250 تک کمی خارج از امکان نہیں۔

خلاصہ

GBP/USD پاؤنڈ اسٹرلنگ اس وقت تین بڑے دباؤ کا شکار ہے:

مشرقِ وسطیٰ کی جنگی کشیدگی

توانائی کی قیمتوں میں اضافہ

امریکی ڈالر کی محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت

جب تک عالمی صورتحال میں بہتری نہیں آتی یا امریکی ڈیٹا کمزور نہیں آتا، GBP/USD پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

اگر آپ چاہیں تو میں اسی انداز میں انگلش ٹائٹل، میٹا ڈسکرپشن، ٹیگز اور امیج پرامپٹ بھی تیار کر دوں تاکہ آپ اسے اپنی ویب سائٹ پر براہِ راست استعمال کر سکیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button