AUDUSD دباؤ میں، افراطِ زر کی توقعات میں کمی، US Dollar اب بھی مارکیٹ کا اصل حکمران

Australian Inflation Data, RBA Stance, China Signals and USD Dominance Shape AUDUSD Outlook

آسٹریلوی ڈالر (AUD) کے لیے حالیہ سیشنز کافی چیلنجنگ ثابت ہوئے ہیں۔ AUDUSD Forecast and Australia Inflation Outlook کے تناظر میں دیکھا جائے. تو جوڑی 0.6700 کی اہم نفسیاتی سطح سے نیچے آ گئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ آسٹریلیا میں مہنگائی کی توقعات (Inflation Expectations) میں معمولی کمی اور امریکی ڈالر (USD) کی مضبوطی ہے۔

ٹریڈنگ کی دنیا میں، قیمتوں کی نقل و حرکت محض اعداد و شمار نہیں ہوتی. بلکہ یہ مارکیٹ کے شرکاء کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ اس وقت آسٹریلوی ڈالر ایک ایسی پوزیشن پر ہے. جہاں اسے ایک طرف گھریلو معاشی سست روی کا سامنا ہے. تو دوسری طرف چین کی جانب سے ملنے والی غیر یقینی مدد اس کی راہ میں حائل ہے۔

اہم نکات (Key Takeaways)

  • آسٹریلیا کی کنزیومر انفلیشن ایکسپیکٹیشنز جنوری میں 4.7% سے کم ہو کر 4.6% رہ گئی ہیں. جس سے آسٹریلوی ڈالر پر دباؤ بڑھا ہے۔

  • AUDUSD فی الحال 0.6700 کی مزاحمتی سطح (Resistance) سے نیچے ٹریڈ کر رہا ہے. جبکہ امریکی ڈالر مارکیٹ کے مجموعی رجحان کو کنٹرول کر رہا ہے۔

  • ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کا سخت موقف (Hawkish Stance) اور سود کی شرح میں کمی سے گریز کرنسی کو بڑی گراوٹ سے بچائے ہوئے ہے۔

  • ٹیکنیکل لحاظ سے، جب تک قیمت 200 دن کی موونگ ایوریج (0.6521) سے اوپر ہے. درمیانی مدت کا رجحان مثبت رہ سکتا ہے۔

آسٹریلیا میں افراط زر کی صورتحال کیا ہے؟ 

آسٹریلیا میں افراط زر کی شرح میں کمی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں، لیکن یہ عمل توقع سے زیادہ سست ہے۔ جنوری کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، صارفین کی مہنگائی کی توقعات 4.6% تک گر گئی ہیں۔ اگرچہ یہ کمی معمولی ہے. لیکن یہ مارکیٹ کو یہ پیغام دینے کے لیے کافی ہے. کہ شاید اب قیمتوں کا دباؤ اپنے عروج سے گزر چکا ہے۔

آسٹریلیا میں افراط زر بتدریج کم ہو رہی ہے لیکن اب بھی RBA کے ہدف (2-3%) سے اوپر ہے۔ ہینڈ لائن CPI نومبر میں 3.4% ریکارڈ کی گئی. جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ معیشت "سافٹ لینڈنگ” (Soft Landing) کی طرف بڑھ رہی ہے. جہاں ترقی کی رفتار برقرار رہتے ہوئے Inflation قابو میں آ رہی ہے۔

یہاں میرا تجربہ یہ کہتا ہے کہ جب انفلیشن ایکسپیکٹیشنز میں معمولی کمی آتی ہے. تو ریٹیل ٹریڈرز اکثر جذباتی ہو کر بڑی سیلنگ شروع کر دیتے ہیں. جبکہ بڑے انسٹی ٹیوشنل پلیئرز اس وقت تک انتظار کرتے ہیں. جب تک RBA اپنی پالیسی میں واضح تبدیلی کا اشارہ نہ دے۔

امریکی ڈالر (USD) کا غلبہ اور AUDUSD پر اس کے اثرات

اس وقت AUDUSD Forecast and Australia Inflation Outlook کو سمجھنے کے لیے امریکی معیشت پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) میں اتار چڑھاؤ براہ راست آسٹریلوی ڈالر کی قیمت پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ فیڈرل ریزرو (Fed) کی آزادی اور مستقبل میں ریٹ کٹس (Rate Cuts) کے حوالے سے قیاس آرائیاں ڈالر کو عارضی طور پر کمزور کرتی ہیں. جس سے AUD کو "بریتھنگ اسپیس” (Breathing Space) ملتی ہے۔

امریکی ڈالر کیوں اہم ہے؟

امریکی ڈالر عالمی ریزرو کرنسی ہے. اور جب بھی عالمی مارکیٹ میں خطرے کا احساس (Risk-off sentiment) بڑھتا ہے. سرمایہ کار محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں ڈالر کی طرف بھاگتے ہیں۔ اس کے برعکس، آسٹریلوی ڈالر کو ایک "رسک کرنسی” (Risk Currency) سمجھا جاتا ہے. جو عالمی معاشی ترقی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کی پالیسی: کیا ریٹ کٹ قریب ہے؟

آسٹریلوی مرکزی بینک کی گورنر مشیل بلک (Michele Bullock) نے واضح کر دیا ہے. کہ بینک فی الحال شرح سود کم کرنے کی جلدی میں نہیں ہے۔ دسمبر کی میٹنگ کے منٹس (Minutes) ظاہر کرتے ہیں. کہ پالیسی ساز ابھی اس بات پر بحث کر رہے ہیں. کہ آیا موجودہ مالیاتی حالات افراط زر کو روکنے کے لیے کافی سخت ہیں۔

RBA کا موقف اور مارکیٹ کے خدشات

عنصر (Factor) موجودہ صورتحال (Current Status) اثر (Impact on AUD)
کیش ریٹ (Cash Rate) 3.60% نیوٹرل سے مثبت
لیبر مارکیٹ (Labour Market) بے روزگاری 4.3% پر مستحکم سپورٹ فراہم کرتی ہے
معاشی نمو (GDP Growth) 0.4% سہ ماہی (Q3) معمولی سست روی

RBA کا موقف فی الحال "ہاکش ہولڈ” (Hawkish Hold) ہے. یعنی وہ ریٹ تو نہیں بڑھا رہے. لیکن اسے کم کرنے کا بھی کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ یہ پالیسی آسٹریلوی ڈالر کو دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں ایک تقابلی فائدہ (Yield Advantage) دیتی ہے. جس سے اس کی قدر میں بڑی گراوٹ کا امکان کم ہو جاتا ہے۔

چین کی معیشت اور آسٹریلوی ڈالر کا گہرا تعلق

آسٹریلیا کی معیشت کا ایک بڑا حصہ خام مال (Commodities) کی برآمدات پر منحصر ہے، اور چین آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ چین کی جی ڈی پی (GDP) نمو 4.0% پر مستحکم ہے. اور وہاں کے مینوفیکچرنگ ڈیٹا (PMI) میں بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

تاہم، چین اب وہ "انجن” ثابت نہیں ہو رہا جو ماضی میں آسٹریلوی ڈالر کو تیزی سے اوپر لے جاتا تھا۔ چینی مرکزی بینک (PBoC) کی جانب سے جارحانہ محرکات (Stimulus) کی کمی نے آسٹریلوی ڈالر کی ریکوری کو محدود کر دیا ہے۔

تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis): اہم لیولز اور رجحانات

ٹیکنیکل بنیادوں پر دیکھا جائے تو AUDUSD ایک مشکل موڑ پر ہے۔ جوڑی نے حال ہی میں 0.6700 کی سطح سے نیچے بریک آؤٹ کیا ہے. جو کہ ایک منفی اشارہ ہو سکتا ہے۔

AUDUSD as on 15th January 2026
AUDUSD as on 15th January 2026

سپورٹ اور ریزسٹنس لیولز (Support & Resistance)

  • فوری مزاحمت (Resistance): 0.6766 (جنوری کی بلند ترین سطح) اور اس کے بعد 0.7000 کا نفسیاتی لیول۔

  • فوری سپورٹ (Support): 0.6595 (55-day SMA) اور سب سے اہم 200 دن کی موونگ ایوریج جو 0.6521 پر موجود ہے۔

جب تک AUDUSD اپنی 200 دن کی سمپل موونگ ایوریج (SMA) سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے. مارکیٹ کا طویل مدتی رجحان (Long-term trend) اب بھی تیزی (Bullish) کی طرف مائل سمجھا جائے گا۔ تاہم، 0.6580 سے نیچے کا بریک آؤٹ ایک گہری اصلاح (Correction) کا باعث بن سکتا ہے۔

میں نے پچھلے 10 سالوں میں دیکھا ہے کہ 200-day SMA فاریکس مارکیٹ میں ایک "لائن ان دی سینڈ” کی طرح کام کرتی ہے۔ جب تک قیمت اس سے اوپر ہے، ہر ڈپ (Dip) کو خریداری کے موقع کے طور پر دیکھا جاتا ہے. لیکن اس کے ٹوٹتے ہی مارکیٹ میں پینک سیلنگ شروع ہو جاتی ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی: ٹریڈرز کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ ایک ریٹیل ٹریڈر ہیں، تو اس وقت مارکیٹ میں "ویٹ اینڈ واچ” (Wait and Watch) کی پالیسی بہترین ہے۔ AUDUSD Forecast and Australia Inflation Outlook ہمیں بتاتی ہے کہ مارکیٹ کسی بڑے محرک (Trigger) کا انتظار کر رہی ہے۔

  1. جنوری کا CPI ڈیٹا: جنوری کے آخر میں آنے والے ٹرمڈ مین (Trimmed Mean) CPI کے اعداد و شمار RBA کے اگلے فیصلے پر اثر انداز ہوں گے۔

  2. امریکی ڈیٹا: امریکی روزگار کی رپورٹ (NFP) اور مہنگائی کے اعداد و شمار ڈالر کی سمت متعین کریں گے۔

  3. رسک سینٹیمنٹ: عالمی مارکیٹ میں جیو پولیٹیکل حالات اور اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی پر نظر رکھیں۔

مختصر یہ کہ آسٹریلوی ڈالر اس وقت دو راہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف RBA کی سختی اور معیشت کی "سافٹ لینڈنگ” اسے سہارا دے رہی ہے. تو دوسری طرف امریکی ڈالر کا رعب اور چین کی سست ریکوری اسے اوپر جانے سے روک رہی ہے۔ 0.6800 کی سطح سے اوپر ایک واضح بریک آؤٹ ہی مارکیٹ میں حقیقی تیزی کی لہر پیدا کر سکتا ہے۔

آنے والے ہفتوں میں اتار چڑھاؤ (Volatility) بڑھنے کا امکان ہے. لہذا اپنی ٹریڈنگ میں مناسب رسک مینجمنٹ (Risk Management) کا استعمال یقینی بنائیں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ آسٹریلوی ڈالر 0.7000 کی سطح کو دوبارہ چھو پائے گا. یا امریکی ڈالر کا دباؤ اسے مزید نیچے لے جائے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button