AUDUSD دباؤ میں، China GDP, RBA Policy اور Fed Rates نے صورتحال کو نیا موڑ دے دیا
Risk Sentiment, Chinese Growth and Central Bank Expectations Keep AUDUSD Below 0.6700
گزشتہ چند روز سے فاریکس مارکیٹ (Forex Market) میں AUDUSD Forecast After China GDP Data ٹریڈرز کے لیے مرکزِ نگاہ بنا ہوا ہے۔ چین کے حالیہ معاشی اعداد و شمار (economic data) کی اشاعت کے بعد آسٹریلوی ڈالر (Aussie Dollar) نے 0.6700 کی نفسیاتی سطح (Psychological level) کے نیچے اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہوئی ہے۔
اگرچہ چین سے آنے والے جی ڈی پی (GDP) کے اعداد و شمار توقعات سے بہتر رہے ہیں، لیکن مارکیٹ میں موجود "رسک آف” (Risk-Off) کیفیت نے آسٹریلوی ڈالر کی تیزی کو محدود کر دیا ہے۔ اس بلاگ میں ہم تفصیل سے جائزہ لیں گے. کہ ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کی پالیسی، امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) کا رویہ اور چین کی معاشی صورتحال کس طرح اس کرنسی پیئر پر اثر انداز ہو رہی ہے۔
اہم نکات (Key Points)
-
چین کا جی ڈی پی: چین کی معیشت نے 2025 کی چوتھی سہ ماہی میں 4.5% کی سالانہ شرح سے ترقی کی. جو مارکیٹ کی توقعات سے بہتر ہے۔
-
RBA کا سخت موقف: آسٹریلیا میں مہنگائی کی شرح (Inflation) اب بھی ہدف سے اوپر ہے، جس کی وجہ سے RBA کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات موجود ہیں۔
-
امریکی ڈالر کی صورتحال: امریکہ میں لیبر مارکیٹ کی بہتری کے باوجود فیڈرل ریزرو کی جانب سے 2026 میں پالیسی نرم کرنے کی توقعات ڈالر پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔
-
تکنیکی سطحیں: AUDUSD کے لیے 0.6670 ایک اہم سپورٹ (Support) زون ہے. جبکہ 0.6700 ایک مضبوط مزاحمت (Resistance) بنی ہوئی ہے۔
کیا چینی جی ڈی پی ڈیٹا آسٹریلوی ڈالر کو سہارا دے سکے گا؟
چین آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار (Trading Partner) ہے. اسی لیے چینی معیشت میں ہونے والی معمولی تبدیلی بھی آسٹریلوی ڈالر پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ حالیہ ڈیٹا کے مطابق چین کی سالانہ جی ڈی پی 4.5% رہی. جو کہ 4.4% کی پیشگوئی سے بہتر ہے۔
اگرچہ جی ڈی پی کے اعداد و شمار مثبت رہے، لیکن ریٹیل سیلز (Retail Sales) میں کمی اور فکسڈ ایسٹ انویسٹمنٹ (Fixed Asset Investment) میں منفی 3.8% کی گراوٹ نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیٹا ریلیز ہونے کے بعد AUDUSD میں صرف 0.02% کا معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
ایک دہائی کے تجربے میں میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی چین کا "ڈیٹا ڈمپ” ہوتا ہے. مارکیٹ صرف ہیڈ لائن نمبر کو نہیں. بلکہ اس کے اندرونی اجزاء جیسے ریٹیل سیلز کو دیکھتی ہے۔ اگر مینوفیکچرنگ اچھی ہو لیکن مقامی کھپت کم ہو. تو آسٹریلوی ڈالر کی لمبی مدت کی تیزی مشکوک ہو جاتی ہے۔
آسٹریلیا میں افراط زر اور RBA کا ممکنہ فیصلہ
آسٹریلیا کے کنزیومر انفلیشن ایکسپیکٹیشنز (Consumer Inflation Expectations) رپورٹ کے مطابق افراط زر کے دباؤ میں معمولی کمی آئی ہے (4.6%) ، لیکن یہ اب بھی RBA کے 2% سے 3% کے ٹارگٹ سے بہت دور ہے۔
| انڈیکیٹر (Indicator) | جنوری کی شرح (Current) | دسمبر کی شرح (Previous) |
| Inflation کی توقعات | 4.6% | 4.7% |
| RBA کا ہدف | 2.0% – 3.0% | 2.0% – 3.0% |
مارکیٹ اب یہ قیمت لگانا (Pricing In) شروع کر رہی ہے. کہ RBA اپنی اگلی میٹنگ میں شرح سود (Interest Rates) بڑھا سکتا ہے۔ جب ایک ملک کا مرکزی بینک شرح سود بڑھاتا ہے. تو اس کی کرنسی دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں پرکشش ہو جاتی ہے. کیونکہ سرمایہ کاروں کو زیادہ منافع ملتا ہے۔

امریکی فیڈرل ریزرو اور ڈالر انڈیکس کا کردار
امریکہ میں جابلیس کلیمز (Jobless Claims) میں کمی اور مینوفیکچرنگ سیکٹر میں بہتری نے امریکی ڈالر کو عارضی استحکام دیا ہے۔ تاہم، سرمایہ کاروں کا ماننا ہے. کہ فیڈرل ریزرو 2026 میں کم از کم ایک بار شرح سود میں کٹوتی ضرور کرے گا۔
جب مارکیٹ میں یہ توقع پیدا ہوتی ہے. کہ امریکی شرح سود کم ہوگی اور آسٹریلوی شرح سود بڑھے گی. تو اسے "انٹرسٹ ریٹ ڈفرینشل” (Interest Rate Differential) کہا جاتا ہے، جو کہ AUDUSD کو اوپر لے جانے کا بنیادی محرک بن سکتا ہے۔
AUDUSD کے لیے اہم ٹیکنیکل لیولز
اگر آپ ایک ٹریڈر ہیں، تو آپ کو درج ذیل سطحوں پر نظر رکھنی چاہیے:
-
سپورٹ زون (Support Zone): 0.6670 سے 0.6665 کا علاقہ ایک مضبوط بائنگ زون ثابت ہو رہا ہے۔ جب تک قیمت اس سے اوپر ہے، خریداری کا رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔
-
ریزسٹنس لیول (Resistance Level): 0.6700 ایک نفسیاتی رکاوٹ ہے۔ اس سطح کے اوپر کلوزنگ (Daily Close) ملنے کی صورت میں اگلا ہدف 0.6750 ہو سکتا ہے۔
-
رینج باؤنڈ ٹریڈنگ (Range-bound Trading): گزشتہ ایک ہفتے سے یہ جوڑا ایک ہی رینج میں پھنسا ہوا ہے. جو کسی بڑے بریک آؤٹ (Breakout) کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔
(Expert Insight) مارکیٹ کے نفسیاتی پہلو اور مستقبل کی پیشگوئی
دس سالہ مارکیٹ تجزیہ کاری کے دوران میں نے سیکھا ہے. کہ "نیوز ٹریڈنگ” (News Trading) اکثر دھوکہ دہی ثابت ہوتی ہے۔ چین کا ڈیٹا بظاہر اچھا ہے، لیکن مارکیٹ کا "رسک آف” ہونا یہ ظاہر کرتا ہے. کہ بڑے بینک اور انسٹی ٹیوشنل ٹریڈرز (Institutional Traders) ابھی مزید یقین دہانی چاہتے ہیں۔
فروری میں ہونے والی RBA کی میٹنگ اس جوڑے کی سمت کا تعین کرے گی۔ اگر RBA نے واقعی ہاکش (Hawkish) لہجہ اپنایا. تو ہم AUDUSD کو 0.6800 کی طرف جاتے دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر عالمی منڈیوں میں مندی کا رجحان برقرار رہا. تو آسٹریلوی ڈالر جیسی "رسک کرنسیوں” کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
حرف آخر.
مختصر یہ کہ AUDUSD Forecast After China GDP Data اس وقت دو متضاد قوتوں کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔ ایک طرف چین کا بہتر معاشی ڈیٹا اور RBA کی سخت پالیسی ہے، تو دوسری طرف عالمی اقتصادی بے یقینی۔ ٹریڈرز کو چاہیے کہ وہ 0.6700 کے بریک آؤٹ کا انتظار کریں اور اپنی رسک مینجمنٹ (Risk Management) کو سخت رکھیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا RBA فروری میں شرح سود بڑھائے گا. یا مارکیٹ صرف افواہوں پر چل رہی ہے؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



