AUDUSD کی قیمت 0.6700 کے قریب مستحکم: RBA کی ہاکش پالیسی اور مارکیٹ کا مستقبل
RBA Outlook, US Dollar Weakness and China Data Shape AUDUSD Financial Story
فاریکس مارکیٹ (forex market) میں آسٹریلوی ڈالر (AUD) اس وقت ایک دلچسپ موڑ پر کھڑا ہے۔ بدھ کے روز AUDUSD Forecast and RBA Interest Rate Outlook کے حوالے سے سرمایہ کاروں کی نظریں اس بات پر جمی رہیں. کہ چین کے مثبت معاشی اعداد و شمار (PMIs) کے باوجود آسٹریلوی ڈالر 0.6700 کی سطح کے گرد کیوں گھوم رہا ہے۔
ایک طرف ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کے سخت گیر موقف (Hawkish Stance) نے مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے. تو دوسری طرف امریکی ڈالر (USD) کی کمزوری نے اس جوڑی کو سہارا دیا ہوا ہے۔
تکنیکی طور پر AUDUSD کا 20 ہفتوں کی EMA سے اوپر رہنا ایک مضبوط قلیل مدتی اپ ٹرینڈ کی نشاندہی کرتا ہے. جہاں 0.6561–0.6546 کا زون مضبوط سپورٹ کے طور پر ابھرتا ہے۔
14 روزہ RSI 60 سے اوپر رہتے ہوئے مثبت مومینٹم کی تصدیق کر رہا ہے. اور چونکہ یہ ابھی اوورباٹ سطح تک نہیں پہنچا. اس لیے اوپر کی جانب مزید گنجائش موجود ہے۔ اگر ہفتہ وار بنیاد پر 0.6700 سے اوپر بندش ملتی ہے. تو اکتوبر کی بلند سطح 0.6810 ایک حقیقت بن سکتی ہے. جو اس مالیاتی کہانی کو اگلے باب میں داخل کر دے گی۔
اس بلاگ میں ہم گہرائی سے جائزہ لیں گے. کہ وہ کون سے عوامل ہیں. جو آسٹریلوی ڈالر کی سمت متعین کر رہے ہیں. اور آنے والے مہینوں میں ٹریڈرز کو کن سطحوں پر نظر رکھنی چاہیے۔
خلاصہ.
-
مستحکم قیمت: آسٹریلوی ڈالر (AUD) چین کے بہتر مینوفیکچرنگ ڈیٹا کے باوجود 0.6700 کی رینج میں محدود ہے۔
-
RBA کا ہاکش موقف: ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کی میٹنگ کے منٹس (Minutes) سے ظاہر ہوتا ہے. کہ 2026 میں شرح سود (Interest rates) میں اضافے کا امکان موجود ہے۔
-
امریکی ڈالر پر دباؤ: فیڈرل ریزرو (Fed) کی جانب سے 2026 میں ریٹ کٹ کی توقعات نے ڈالر انڈیکس (DXY) کو 11 ہفتوں کی کم ترین سطح 97.75 پر دھکیل دیا ہے۔
-
ٹیکنیکل آؤٹ لک: جوڑی 20-ہفتہ کی EMA (ایکسپونینشل موونگ ایوریج) سے اوپر ٹریڈ کر رہی ہے. جو کہ ایک مثبت رجحان (Bullish Trend) کی نشاندہی ہے۔
RBA کی مانیٹری پالیسی اور شرح سود کی توقعات؟
ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کے حالیہ منٹس سے پتہ چلتا ہے کہ بینک کے حکام نے 2026 میں شرح سود بڑھانے کی ضرورت پر بحث کی ہے۔ مارکیٹ سوائپس (Swaps) کے مطابق، جون 2026 تک ریٹ میں اضافے کے مکمل امکانات موجود ہیں. جس کی وجہ سے آسٹریلوی ڈالر کو دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں برتری حاصل ہو رہی ہے۔
ریزرو بینک آف آسٹریلیا کی 9 دسمبر کی میٹنگ کے منٹس جاری ہوئے ہیں. جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے. کہ اگر مہنگائی (Inflation) کے خطرات بڑھتے رہے تو 2026 میں شرح سود میں اضافہ ناگزیر ہو سکتا ہے۔ مالیاتی ماہرین کا ماننا ہے. کہ اگرچہ فروری میں اضافے کا امکان صرف 27% ہے. لیکن جون تک مارکیٹ نے اسے مکمل طور پر "پرائس ان” (Priced In) کر لیا ہے۔
اپنی 10 سالہ ٹریڈنگ جرنی کے دوران میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی کوئی سینٹرل بینک "ممکنہ اضافے” کی بات کرتا ہے، تو مارکیٹ فوری ردعمل دینے کے بجائے ایک رینج بنا لیتی ہے. جب تک کہ ٹھوس ڈیٹا سامنے نہ آ جائے۔ 2014 کے دور میں بھی جب آسٹریلوی معیشت اسی طرح کے موڑ پر تھی. تو سست روی کے باوجود آر بی اے کے سخت بیانات نے ٹریڈرز کو محتاط رکھا تھا۔
چین کے PMI ڈیٹا کا AUDUSD پر اثر کیوں نہیں ہوا؟
اگرچہ چین کے مینوفیکچرنگ اور بزنس پی ایم آئی (PMI) ڈیٹا میں غیر متوقع بہتری دیکھی گئی ہے. لیکن سال کے اختتام پر ٹریڈنگ والیوم (Trading Volume) کم ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں زیادہ حرکت نہیں ہوئی۔ آسٹریلوی ڈالر کو اکثر چینی معیشت کا "پروکسی” (Proxy) سمجھا جاتا ہے. لیکن موجودہ سال نو کی سست روی نے اس کے اثر کو محدود کر دیا ہے۔
چین آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ جب چین کی فیکٹریوں میں کام بڑھتا ہے. تو آسٹریلیا سے خام مال (Commodities) کی طلب بڑھتی ہے، جو اصولی طور پر AUD کو اوپر لے جاتی ہے۔ تاہم، 0.6700 کی نفسیاتی سطح (Psychological Level) پر موجود فروخت کنندگان (Sellers) نے فی الحال اس تیزی کو روکا ہوا ہے۔
امریکی ڈالر (USD) کی کمزوری اور فیڈرل ریزرو کا کردار
امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) اس وقت 97.75 کی سطح پر ہے. جو پچھلے 11 ہفتوں کی سب سے کم ترین سطح ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو یقین ہے. کہ فیڈرل ریزرو (Fed) 2026 میں کم از کم 50 بنیادی پوائنٹس کی کٹوتی کرے گا۔
جب امریکہ میں شرح سود کم ہونے کی توقع ہو. اور آسٹریلیا میں بڑھنے کی، تو "انٹرسٹ ریٹ ڈفرینشل” (Interest Rate Differential) آسٹریلوی ڈالر کے حق میں چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ AUDUSD میں گراوٹ کے بجائے استحکام نظر آ رہا ہے۔
ٹیکنیکل تجزیہ (Technical Analysis): اہم سپورٹ اور ریزسٹنس لیولز
ٹریڈنگ کے نقطہ نظر سے، AUDUSD اس وقت ایک مضبوط اپ ٹرینڈ (Uptrend) میں ہے۔ ذیل میں چند اہم ٹیکنیکل اشارے دیئے گئے ہیں:
| انڈیکیٹر / لیول | ویلیو / پوزیشن | اہمیت |
| Current Price | 0.6700+ | اہم نفسیاتی حد |
| 20-Week EMA | 0.6561 | کلیدی سپورٹ (Short-term Trend) |
| 14-Day RSI | 60.93 | مثبت مومنٹم (Bullish Bias) |
| Next Resistance | 0.6810 | اکتوبر کا ہائی (Target) |

کیا AUDUSD نفسیاتی ہدف 0.6800 تک جا سکتا ہے؟
تکنیکی طور پر، جب تک قیمت 20-ہفتہ کی موونگ ایوریج (0.6561) سے اوپر ہے. ہر معمولی گراوٹ (Pullback) خریداری کا موقع ہو سکتی ہے۔ اگر یہ جوڑی ہفتہ وار بنیادوں پر 0.6700 سے اوپر بند ہونے میں کامیاب ہو جاتی ہے. تو اگلا ہدف 0.6810 ہو سکتا ہے۔
میرے تجربے میں، جب RSI 60 کے قریب ہو. اور قیمت اوپر کی طرف مائل ہو. تو یہ "اوور بوٹ” (overbought) ہونے سے پہلے ایک آخری جمپ ضرور مارتی ہے۔ ٹریڈرز کو 0.6700 پر بریک آؤٹ کا انتظار کرنا چاہیے. نہ کہ زبردستی انٹری لینی چاہیے
مستقبل کی حکمت عملی: ٹریڈرز کے لیے اہم مشورے
آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی نقل و حرکت کا انحصار درج ذیل عوامل پر ہوگا:
-
آسٹریلوی افراط زر کا ڈیٹا: اگر افراط زر کے اعداد و شمار توقع سے زیادہ آئے. تو آر بی اے پر ریٹ بڑھانے کا دباؤ بڑھے گا۔
-
امریکہ کے روزگار کی رپورٹ (NFP): امریکی لیبر مارکیٹ میں کمزوری ڈالر کو مزید گرا سکتی ہے۔
-
جیو پولیٹیکل حالات: عالمی تناؤ اکثر "سیف ہیون” (safe-haven) کرنسی کے طور پر ڈالر کی طلب بڑھا دیتا ہے۔
حرف آخر.
مجموعی طور پر، AUDUSD Forecast and RBA Interest Rate Outlook یہ اشارہ دے رہا ہے. کہ آسٹریلوی ڈالر میں تیزی کا رجحان برقرار رہنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ ریزرو بینک آف آسٹریلیا کا سخت موقف اور فیڈرل ریزرو کی نرم پالیسی کا ملاپ AUDUSD کو اوپر لے جانے کے لیے بہترین ایندھن فراہم کر رہا ہے۔ تاہم، 0.6700 کی سطح پر مارکیٹ کا ٹھہراؤ ظاہر کرتا ہے کہ بڑے سرمایہ کار ابھی کسی حتمی فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔
ایک تجربہ کار ٹریڈر کے طور پر میری نصیحت ہے. کہ موجودہ مارکیٹ میں "چیس” (chase) کرنے کے بجائے کلیدی سپورٹ لیولز (0.6560) کے دوبارہ ٹیسٹ ہونے کا انتظار کریں. یا 0.6720 کے واضح بریک آؤٹ پر نظر رکھیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا ریزرو بینک آف آسٹریلیا واقعی 2026 میں شرح سود بڑھائے گا. یا یہ صرف ایک زبانی دعویٰ ہے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



