آسٹریلوی ڈالر کا اتار چڑھاؤ: افراطِ زر کے اعداد و شمار اور AUDUSD پر اس کے اثرات

Softer Australian Inflation and Dovish Fed Tone Drive Currency Market Swings

آسٹریلوی ڈالر (AUD) اور امریکی ڈالر (USD) کی جوڑی یعنی AUDUSD اس وقت فاریکس مارکیٹ (Forex Market) میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ بدھ کے ایشیائی سیشن کے دوران، آسٹریلیا کے کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) یعنی Inflation کے اعداد و شمار جاری ہونے کے بعد اس جوڑی میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ (Volatility) دیکھا گیا۔

ابتدائی طور پر قیمت 0.6720 کی سطح تک گری. لیکن جلد ہی اس نے واپسی کی اور 15 ماہ کی بلند ترین سطح 0.6750 کے قریب پہنچ گئی۔ یہ تحریر آپ کو ان عوامل کی گہرائی میں لے جائے گی. جو اس وقت مارکیٹ کو چلا رہے ہیں. بشمول ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کے ممکنہ فیصلے اور امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) کی پالیسی۔

اہم نکات (Key Takeaways)

  • افراطِ زر میں کمی: آسٹریلیا کے افراط زر کے اعداد و شمار توقع سے کچھ کم رہے. جس کی وجہ سے سود کی شرح (Interest Rates) میں فوری اضافے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔

  • AUD/USD کی بحالی: قیمت 0.6720 سے تیزی سے ریکور ہو کر 0.6750 کے قریب پہنچ گئی ہے. جو کہ ایک اہم مزاحمتی سطح (Resistance Level) ہے۔

  • امریکی ڈالر کا دباؤ: امریکہ میں مینوفیکچرنگ ڈیٹا (ISM PMI) کے کمزور نتائج نے ڈالر کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔

  • آگے کیا ہوگا؟: سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکی بے روزگاری کے اعداد و شمار (Unemployment Data) پر لگی ہوئی ہیں. جو فیڈرل ریزرو کے اگلے قدم کا تعین کریں گے۔

آسٹریلیا کے افراطِ زر (CPI) کے اعداد و شمار مارکیٹ پر کیسے اثر انداز ہوئے؟

جب آسٹریلیا کے افراطِ زر (Inflation) کے تازہ ترین اعداد و شمار سامنے آئے، تو مارکیٹ میں ایک دم ہلچل مچ گئی۔ مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی نے ان قیاس آرائیوں کو ٹھنڈا کر دیا. کہ RBA اگلے ماہ شرح سود میں اضافہ کرے گا۔

آسٹریلوی سی پی آئی (CPI) ڈیٹا نے مارکیٹ کو یہ پیغام دیا کہ مہنگائی قابو میں آ رہی ہے. جس کے نتیجے میں آسٹریلوی ڈالر پر ابتدائی دباؤ آیا۔ تاہم، عالمی سطح پر امریکی ڈالر کی کمزوری نے اسے دوبارہ سہارا دیا. اور قیمت واپس اوپر آگئی۔

میں نے گزشتہ دہائی میں کئی بار دیکھا ہے. کہ جب مارکیٹ پہلے سے کسی سخت فیصلے (Hawkish Move) کی توقع کر رہی ہو اور ڈیٹا معمولی سا بھی مختلف آئے. تو ‘نی جیرک ری ایکشن’ (Knee-jerk reaction) ہوتا ہے۔ یہاں بھی وہی ہوا؛ ٹریڈرز نے پہلے بیچا. پھر بڑی تصویر (Big Picture) کو دیکھ کر دوبارہ خریداری شروع کر دی۔

امریکی معیشت کی سست روی اور ڈالر پر اس کے اثرات

امریکی ڈالر (USD) کی حالیہ گراوٹ کی بڑی وجہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کے کمزور اعداد و شمار ہیں۔ آئی ایس ایم (ISM) مینوفیکچرنگ پی ایم آئی (PMI) گزشتہ 14 ماہ کی کم ترین سطح 47.9 پر آ گیا ہے۔

کیا فیڈرل ریزرو شرح سود میں کمی کرے گا؟

امریکہ سے آنے والے اعداد و شمار ‘فیڈ ڈووش’ (Fed Doves) یعنی ان لوگوں کے موقف کو مضبوط کر رہے ہیں جو شرح سود میں کمی کے حامی ہیں۔ منیاپولس فیڈ کے صدر نیل کاشکاری کے حالیہ بیانات نے بھی بے روزگاری بڑھنے کے خطرات کی نشاندہی کی ہے. جس کا مطلب ہے کہ فیڈرل ریزرو رواں سال ایک سے زائد بار شرح سود کم کر سکتا ہے۔

تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis): AUDUSD کے اہم لیولز

اگر ہم چارٹ پر نظر ڈالیں تو AUDUSD ایک دلچسپ موڑ پر کھڑا ہے۔

سپورٹ اور ریزسٹنس قیمت (Price Level) اہمیت
فوری مزاحمت (Resistance) 0.6750 15 ماہ کی بلند ترین سطح
فوری سپورٹ (Support) 0.6720 سی پی آئی ڈیٹا کے بعد کی کم ترین سطح
میجر سپورٹ (Major Support) 0.6700 نفسیاتی سطح (Psychological Level)

ٹیکنیکل آؤٹ لک: جوڑی کی 0.6740 سے اوپر رہنے کی کوشش اس بات کی علامت ہے. کہ خریدار (Bulls) اب بھی مارکیٹ میں موجود ہیں۔ اگر قیمت 0.6750 کا لیول توڑنے میں کامیاب ہو جاتی ہے. تو اگلا ہدف 0.6800 ہو سکتا ہے۔

AUDUSD as on 7th January 2026
AUDUSD as on 7th January 2026

آسٹریلوی ڈالر (AUD) کیوں گرنے کے بعد دوبارہ سنبھل گیا؟

اس کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی کمزوری ہے۔ اگرچہ آسٹریلیا کا ڈیٹا کمزور تھا. لیکن امریکہ کا مینوفیکچرنگ ڈیٹا اس سے بھی زیادہ خراب رہا. جس نے سرمایہ کاروں کو دوبارہ آسٹریلوی ڈالر کی طرف راغب کیا۔

مارکیٹ اب مکمل طور پر امریکی بے روزگاری کے اعداد و شمار (Non-Farm Payrolls) کی منتظر ہے۔ یہ ڈیٹا واضح کرے گا. کہ آیا امریکی معیشت واقعی کساد بازاری (Recession) کی طرف جا رہی ہے یا نہیں۔

مستقبل کی حکمت عملی

ایک دہائی سے زائد عرصے تک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو دیکھنے کے بعد، میں یہ کہہ سکتا ہوں. کہ موجودہ صورتحال ‘ویٹ اینڈ واچ’ (Wait and Watch) کی ہے۔ آسٹریلوی ڈالر اس وقت اپنی مضبوطی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے. کیونکہ RBA ابھی بھی دیگر مرکزی بینکوں کے مقابلے میں سخت پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔

ایک تجربہ کار ٹریڈر ہمیشہ یہ جانتا ہے کہ ‘ڈیٹا ریڈنگ’ صرف آدھی جنگ ہے. باقی آدھی جنگ اس ڈیٹا پر مارکیٹ کے ‘سینٹیمنٹ’ (Sentiment) کو سمجھنا ہے۔ فی الوقت مارکیٹ امریکی ڈالر سے بیزار نظر آ رہی ہے. جو کہ AUDUSD کے لیے مثبت ہے۔

AUDUSD نے 0.6750 کے قریب مضبوطی دکھائی ہے۔ اگرچہ آسٹریلیا میں افراط زر تھوڑی کم ہوئی ہے. لیکن امریکی معیشت کی سست روی آسٹریلوی ڈالر کو سہارا دے رہی ہے۔ ٹریڈرز کو چاہیے کہ وہ 0.6720 کے سپورٹ لیول پر نظر رکھیں. اور کسی بھی بڑے فیصلے سے پہلے امریکی لیبر مارکیٹ کے ڈیٹا کا انتظار کریں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا ریزرو بینک آف آسٹریلیا اب بھی شرح سود بڑھانے کی ہمت کرے گا. یا عالمی رجحان کے مطابق کمی کا راستہ اختیار کرے گا؟

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button