AUDUSD کی مضبوطی، کمزور US Dollar اور عالمی پیچیدہ صورتحال کا نیا موڑ
Soft US Dollar, Stable Australia Data and China Support Keep AUDUSD on the Front Foot
فاریکس مارکیٹ (Forex market) میں اس وقت آسٹریلوی ڈالر (AUD) اور امریکی ڈالر (USD) کے درمیان ایک دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں AUDUSD Price Analysis سے یہ بات واضح ہوتی ہے. کہ آسٹریلوی ڈالر نے مسلسل تیسرے سیشن میں اپنی برتری برقرار رکھی ہے۔
جہاں ایک طرف ویسٹ پیک لیڈنگ اکنامک انڈیکس (Westpac Leading Economic Index) میں بہتری نے مقامی سطح پر اعتماد بحال کیا ہے. وہیں دوسری طرف امریکی ڈالر کی عالمی سطح پر کمزوری، خاص طور پر امریکہ اور گرین لینڈ کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی تنازعات کے باعث، اس جوڑی (Pair) کو اوپر لے جانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ایک تجربہ کار اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میں دیکھ رہا ہوں. کہ مارکیٹ اب 0.6760 سے 0.6780 کی اہم حد کو دوبارہ چھونے کے لیے تیار ہے۔
اہم نکات.
-
امریکی ڈالر کی کمزوری: آسٹریلوی ڈالر کی حالیہ تیزی کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی اپنی قدر میں کمی ہے. جو سیاسی بیان بازی اور عالمی تناؤ کا نتیجہ ہے۔
-
تکنیکی مضبوطی (Technical Strength): AUDUSD فی الحال 200 روزہ اور 200 ہفتہ وار موونگ ایوریج (Moving Averages) سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے. جو کہ ایک مثبت رجحان (Bullish Trend) کی علامت ہے۔
-
آر بی اے (RBA) کا سخت موقف: آسٹریلوی مرکزی بینک فی الحال شرح سود (Interest Rates) میں کمی کے حق میں نہیں ہے. جس سے مقامی کرنسی کو سپورٹ مل رہی ہے۔
-
چین کا کردار: اگرچہ چین کی ترقی کی رفتار ماضی جیسی نہیں. مگر حالیہ تجارتی ڈیٹا آسٹریلیا کے لیے ایک حفاظتی ڈھال کا کام کر رہا ہے۔
کیا AUDUSD کی قیمت میں حالیہ اضافہ پائیدار ہے؟
حالیہ اضافہ پائیدار نظر آتا ہے. کیونکہ یہ نہ صرف تکنیکی بنیادوں پر مضبوط ہے. بلکہ اسے بنیادی عوامل (Fundamental Factors) کی بھی حمایت حاصل ہے۔ آسٹریلوی ڈالر نے 0.6700 کی نفسیاتی حد (Psychological Level) کو کامیابی سے عبور کر لیا ہے. جو کہ خریداروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی نشاندہی کرتا ہے۔
آسٹریلوی ڈالر کی اس اڑان میں ویسٹ پیک انڈیکس کے مثبت اعداد و شمار نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ جب ہم AUDUSD Price Analysis کو گہرائی سے دیکھتے ہیں. تو معلوم ہوتا ہے کہ مارکیٹ کے شرکاء اب آسٹریلیا کے لیبر مارکیٹ ڈیٹا اور فلیش پی ایم آئی (PMI) کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار آنے والے ہفتوں میں قیمت کی سمت کا تعین کریں گے۔
اپنے 10 سالہ تجربے میں میں نے دیکھا ہے. کہ جب کوئی کرنسی جوڑی مسلسل تین دن تک اہم ریزسٹنس لیول کے قریب بند ہوتی ہے. تو یہ اکثر ایک بڑے بریک آؤٹ (Breakout) کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ 2026 کے آغاز میں ہم بالکل یہی صورتحال دیکھ رہے ہیں۔
آسٹریلیا کے معاشی اعداد و شمار: نرمی مگر مضبوطی
آسٹریلیا کی معیشت کے بارے میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا. کہ یہ "ٹھنڈی” تو ہو رہی ہے. مگر "ٹوٹ” نہیں رہی۔ معاشی اصطلاح میں اسے ‘سافٹ لینڈنگ’ (Soft Landing) کہا جاتا ہے۔
مینوفیکچرنگ اور سروسز (PMI)
دسمبر کے پی ایم آئی (PMI) انڈیکس کے مطابق، مینوفیکچرنگ اور سروسز کے شعبے اب بھی نمو (Expansion) کے زون میں ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کاروباری سرگرمیاں سست ضرور ہوئی ہیں. لیکن ابھی بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔
لیبر مارکیٹ اور بے روزگاری
لیبر مارکیٹ میں معمولی کمی آئی ہے، مگر بے روزگاری کی شرح 4.3% پر مستحکم ہے۔ فاریکس مارکیٹ کے ماہرین کے لیے یہ ایک مثبت اشارہ ہے کیونکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ معیشت میں ابھی بھی ملازمتیں پیدا کرنے کی سکت موجود ہے۔
| معاشی اشاریہ (Economic Indicator) | حالیہ ڈیٹا (Current Data) | سابقہ ڈیٹا (Previous Data) |
| جی ڈی پی (GDP Growth) | 0.4% QoQ | 0.7% QoQ |
| افراطِ زر (CPI Inflation) | 3.4% | 3.6% |
| بے روزگاری کی شرح (Unemployment Rate) | 4.3% | 4.3% |
چینی معیشت کا آسٹریلوی ڈالر پر اثر
آسٹریلوی ڈالر کو اکثر "چینی معیشت کا پراکسی” (Proxy for Chinese Economy) کہا جاتا ہے۔ چین میں خوردہ فروخت (Retail sales) اور صنعتی پیداوار میں معمولی بہتری نے آسٹریلوی ڈالر کو سہارا دیا ہے۔
اگرچہ چین اب اس رفتار سے ترقی نہیں کر رہا. جیسے ایک دہائی پہلے کرتا تھا. لیکن اس کا تجارتی سرپلس (Trade Surplus) اور مینوفیکچرنگ پی ایم آئی کا 50.1 پر ہونا یہ ثابت کرتا ہے. کہ وہ اب بھی آسٹریلیا کی برآمدات (Exports) کا سب سے بڑا خریدار رہے گا۔
ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کی پالیسی
آر بی اے (RBA) کے گورنر مشیل بلک (Michele Bullock) نے واضح کر دیا ہے. کہ وہ فی الحال شرح سود کم کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ مارکیٹ میں اس وقت تقریباً 28 فیصد امکان ہے. کہ فروری میں شرح سود میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ جب کسی ملک کا مرکزی بینک "ہاکش” (Hawkish) ہوتا ہے. تو اس کی کرنسی کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔
مرکزی بینکوں کے بیانات کو پڑھنا ایک فن ہے۔ جب گورنر بلک "تھوڑی دیر کے لیے رکنے” (holding for longer) کی بات کرتی ہیں. تو اس کا مطلب ہے کہ وہ افراط زر کے 2 فیصد تک گرنے کا انتظار کر رہی ہیں۔ اس دوران آسٹریلوی ڈالر کے گرنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔
تکنیکی تجزیہ: اہم لیولز اور رجحانات
تکنیکی لحاظ سے AUDUSD Price Analysis خریداروں کے حق میں دکھائی دے رہی ہے۔
سپورٹ اور ریزسٹنس (Support & Resistance)
-
ریزسٹنس (Resistance): پہلا ہدف 0.6766 ہے. جس کے بعد 0.6942 (2024 کی بلند ترین سطح) اور پھر 0.7000 کا نفسیاتی لیول آتا ہے۔
-
سپورٹ (Support): اگر قیمت گرتی ہے. تو 0.6659 اور پھر 0.6532 (200 روزہ موونگ ایوریج) ایک مضبوط دیوار ثابت ہوں گے۔
انڈیکیٹرز کی صورتحال
-
RSI (Relative Strength Index): یہ 62 کے قریب ہے. جو ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں ابھی مزید اوپر جانے کی گنجائش (Room to Grow) موجود ہے. اور یہ ابھی "اوور باؤٹ” (Overbought) نہیں ہوئی۔
-
ADX (Average Directional Index): 29 کی ریڈنگ ایک مضبوط ٹرینڈ کی نشاندہی کر رہی ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی اور خطرات
(Future Strategy and Risks)
ایک ٹریڈر کے طور پر آپ کو صرف ایک رخ نہیں دیکھنا چاہیے۔ اگرچہ صورتحال مثبت ہے. لیکن چند خطرات (risks) موجود ہیں:
-
عالمی خطرات: اگر امریکہ اور ای یو (EU) کے درمیان ٹیرف (Tariffs) کی جنگ چھڑتی ہے، تو سرمایہ کار محفوظ پناہ گاہوں (Safe havens) جیسے کہ سونے یا امریکی ڈالر کی طرف بھاگیں گے. جس سے آسٹریلوی ڈالر گر سکتا ہے۔
-
لیبر رپورٹ: 22 جنوری کی رپورٹ اگر توقع سے خراب آئی. تو یہ تیزی کا رجحان عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر، آسٹریلوی ڈالر (AUD) اس وقت ایک مضبوط پوزیشن میں ہے۔ امریکی ڈالر کی عالمی سیاسی مسائل کی وجہ سے کمزوری اور آسٹریلیا کے اندرونی معاشی استحکام نے اسے ایک پرکشش سرمایہ کاری بنا دیا ہے۔ AUDUSD Price Analysis کے مطابق، جب تک قیمت 200 روزہ موونگ ایوریج (0.6532) سے اوپر ہے، خریداری کا رجحان غالب رہے گا۔
آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ آسٹریلوی ڈالر 0.7000 کی سطح کو اس سال عبور کر پائے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اس تجزیے کو اپنے ٹریڈر دوستوں کے ساتھ شیئر کریں!
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



