پاول کی تقریر کے بعد آسٹریلوی ڈالر کیوں محدود رینج برقرار رکھے ہوئے ہے؟
Market reaction shows AUDUSD resilience as Federal Reserve signals flexible monetary policy
جیکسن ہول سمپوزیم مالیاتی دنیا کا ایک اہم واقعہ ہے. جہاں مرکزی بینکوں کے سربراہان مستقبل کی پالیسیوں کے اشارے دیتے ہیں۔ اس سال، فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کی تقریر نے توقعات سے بڑھ کر مارکیٹ بالخصوص Australian Dollar کو متاثر کیا۔ انہوں نے ایک نئے فریم ورک کا اعلان کیا جس کے تحت فیڈ افراط زر (Inflation) کو لچکدار طریقے سے ہدف بنائے گا۔ ان کا یہ کہنا کہ مزدوری کی مارکیٹ (labor market) پر خطرات بڑھ رہے ہیں اور یہ کہ ٹیرف (Tariffs) کا Inflation پر اثر محدود ہوگا، مارکیٹ کے لیے ایک واضح اشارہ تھا۔
یہ بیانات ایک نرم رویہ (Dovish tone) رکھتے تھے، جس سے یہ تاثر ملا کہ فیڈ شرح سود (Interest Rates) کو مستقبل میں جارحانہ طریقے سے کم کر سکتا ہے۔ اس کا فوری نتیجہ امریکی ڈالر میں ایک بڑی فروخت کی صورت میں سامنے آیا۔ ڈالر انڈیکس (USD Index) میں 0.7% کی نمایاں کمی دیکھی گئی، اور یہ 97.90 کی سطح تک گر گیا۔
خلاصہ
-
پاول کا بیان: فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول نے جیکسن ہول سمپوزیم میں زیادہ لچکدار (Flexible) مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا. جس کے بعد امریکی ڈالر میں بڑی گراوٹ آئی۔
-
Australian Dollar میں تیزی: پاول کے ان بیانات کے بعد، آسٹریلوی ڈالر (AUD) کے مقابلے میں امریکی ڈالر (USD) کمزور ہوا. اور AUDUSD جوڑا 0.6500 کی طرف بڑھا۔
-
مارکیٹ کا ردعمل: پاول کے نرم رویے (Dovish Stance) سے متاثر ہو کر، اسٹاک مارکیٹس میں بھی تیزی آئی. اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا۔
-
مستقبل کی توقعات: اگرچہ امریکی ڈالر میں عارضی طور پر تھوڑی ریکوری نظر آیا ہے. لیکن Federal Reserve کی جانب سے مستقبل میں شرح سود میں کمی کے امکانات AUDUSD کی مزید گراوٹ کو محدود کر رہے ہیں۔
Australian Dollar کا سفر: کمزوری سے طاقت کی طرف
اس ہفتے کے شروع میں، اے یو ڈی/یو ایس ڈی جوڑا 0.6500 کی سطح سے نیچے دباؤ میں تھا۔ اس کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی عمومی مضبوطی تھی۔ لیکن جیکسن ہول میں پاول کے بیانات کے بعد، یہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہوئی۔
پاول کے بیان کے بعد کیا ہوا؟
پاول کی تقریر کے بعد، سرمایہ کاروں کا رسک (Risk) لینے کا رجحان بڑھ گیا۔ جب مرکزی بینک شرح سود میں کمی کا اشارہ دیتا ہے. تو سرمایہ کار زیادہ منافع بخش (Higher-Yielding) لیکن قدرے خطرناک اثاثوں (Risky Assets) کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ آسٹریلوی ڈالر (AUD) ایک ایسی ہی کرنسی ہے. جو عالمی رسک سینٹیمنٹ (Global Risk Sentiment) سے بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔
میں نے اپنے دس سالہ کیریئر میں بارہا دیکھا ہے. کہ کس طرح ایک مرکزی بینک Central Banks کے سربراہ کا صرف ایک جملہ پوری مارکیٹ کا رخ بدل دیتا ہے۔ اکثر اوقات، مارکیٹ کی توجہ صرف شرح سود پر ہوتی ہے. لیکن حقیقی تجربہ کار جانتے ہیں کہ زبان کے اشارے (Verbal Cues) اور پالیسی فریم ورک میں چھوٹی تبدیلیاں بھی مستقبل کے رجحانات کا تعین کرتی ہیں۔
پاول کا یہ کہنا کہ وہ "میک اپ” حکمت عملی کو ختم کر رہے ہیں. ایک گہرا اشارہ تھا کہ فیڈ اب افراط زر کے بجائے ملازمتوں اور ترقی پر زیادہ توجہ دے سکتا ہے۔ یہ ایسی باریکیاں ہیں جنہیں فوری خبروں میں نظر انداز کیا جا سکتا ہے. لیکن لانگ ٹرم (Long-Term) ٹریڈرز کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہیں۔
Australian Dollar کی تکنیکی صورتحال (Technical Overview)
تکنیکی طور پر AUD/USD کی حالیہ حرکت دلچسپ ہے۔ ہفتے کی زیادہ تر مدت میں Bearish رجحان (Bearish trend) کے بعد، یہ جوڑا اچانک پلٹ گیا اور 0.6500 کی سطح کی طرف بڑھا۔ اس نے نہ صرف ہفتے کے نقصانات کا ایک حصہ پورا کیا بلکہ اس کی گراوٹ کو بھی محدود کر دیا۔
کیا 0.6500 کی سطح اہم ہے؟
جی ہاں، 0.6500 ایک نفسیاتی اور تکنیکی سطح (Psychological and Technical level) ہے۔ اگر یہ جوڑا اس سطح سے اوپر برقرار رہتا ہے. تو یہ اوپر کی طرف (Bullish) رجحان کی تصدیق کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اس کے نیچے دباؤ اس بات کی علامت ہو سکتا ہے. کہ طویل مدتی Bearish رجحان ابھی بھی برقرار ہے۔

اگلا ممکنہ اقدام کیا ہے؟
آنے والے دنوں میں، مارکیٹ کی نظریں امریکی ڈالر کی ریکوری کی رفتار اور مارکیٹ کے مجموعی رسک سینٹیمنٹ پر ہوں گی۔ اگرچہ امریکی ڈالر میں تھوڑی سی ریکوری دیکھی گئی. لیکن پاول کے بیانات کے بعد شرح سود میں کمی کے امکانات (Prospects of Rate Cuts) اب بھی اس پر وزن ڈال رہے ہیں۔ یہ صورتحال AUDUSD کو سپورٹ فراہم کر سکتی ہے۔
جیکسن ہول میں فیڈ کے سربراہ کے بیانات نے واضح کر دیا کہ عالمی مالیاتی پالیسیاں اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں۔ ایک تجربہ کار مالیاتی تجزیہ کار کے طور پر، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اب مارکیٹ کی نظریں صرف اقتصادی اعداد و شمار (Economic Data) پر نہیں، بلکہ مرکزی بینکوں کے بیانات کی ہر باریکی پر ہوں گی۔
Australian Dollar کے لیے، حالیہ ریکوری ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے. لیکن اس کی پائیداری (Sustainability) کا انحصار مستقبل میں آنے والے اعداد و شمار اور فیڈ کے مزید بیانات پر ہوگا۔ اس جوڑے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ (Volatility) بڑھ سکتا ہے. لہٰذا ٹریڈرز کو محتاط رہنا چاہیے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ فیڈ واقعی مستقبل میں شرح سود میں کمی کرے گا. یا یہ صرف ایک عارضی اشارہ تھا؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



