EURUSD ایک بار پھر دباؤ میں، USD کی واپسی اور Federal Reserve کے فیصلے سے قبل مارکیٹ میں بے چینی

Market Focus Shifts to Federal Reserve Independence Amid Political and Currency Turmoil

فاریکس مارکیٹ (Forex market) میں اس وقت ہلچل مچی ہوئی ہے۔ EURUSD Forecast and Fed Interest Rate Decision اس وقت عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں ہم نے دیکھا کہ یورو (Euro) نے 1.2080 کی سطح کو چھو کر پانچ سال کی بلند ترین سطح حاصل کی،

لیکن بدھ کے سیشن میں یہ دوبارہ 1.2000 کی نفسیاتی حد (Psychological Level) کے قریب آ گیا ہے۔ امریکی ڈالر (USD) میں آنے والی یہ حالیہ تیزی اور فیڈرل ریزرو (Fed) کا متوقع فیصلہ آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔

اہم نکات

  • یورو کی واپسی: یورو 1.2080 کی بلند ترین سطح سے گر کر 1.2000 کے قریب آ گیا ہے. جس کی وجہ ڈالر کی طلب میں اضافہ ہے۔

  • فیڈ کا کردار: مارکیٹ کی نظریں فیڈرل ریزرو کے شرح سود (Interest Rates) کے فیصلے اور مرکزی بینک کی خود مختاری (Autonomy) پر ہیں۔

  • سیاسی دباؤ: صدر ٹرمپ کی پالیسیاں اور فیڈ چیئرمین جیروم پاول پر دباؤ ڈالر کی عالمی حیثیت کو متاثر کر رہا ہے۔

  • تکنیکی صورتحال: EURUSD کو 1.1980 پر مضبوط سپورٹ (Support) حاصل ہے. جبکہ RSI اوور بوٹ (Overbought) زون میں ہے۔

فیڈرل ریزرو کا فیصلہ اور مارکیٹ کی توقعات

فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود کو برقرار رکھنے کی توقع ہے، لیکن سرمایہ کاروں کی اصل توجہ بینک کے مستقبل اور سیاسی مداخلت پر ہوگی۔ اگر فیڈ اپنی خود مختاری کا دفاع کرتا ہے. تو ڈالر مستحکم ہو سکتا ہے، ورنہ یورو کی برتری برقرار رہے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے ڈالر کی قدر میں کمی (Depreciation) کو سراہا ہے. جس سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیاں اور حکومتی اخراجات میں اضافہ ڈالر کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

میں نے اپنے 10 سالہ کیریئر میں دیکھا ہے. کہ جب بھی سیاست دان مرکزی بینکوں کے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں. مارکیٹ میں ‘وولیٹیلٹی’ (Volatility) غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ 1.2000 کی سطح محض ایک نمبر نہیں. بلکہ خریداروں اور بیچنے والوں کے درمیان ایک بڑا نفسیاتی میدان جنگ ہے۔

امریکی ڈالر میں واپسی کی وجوہات اور جاپانی ین کا اثر

ڈالر کی حالیہ ریکوری (Recovery) کے پیچھے صرف فیڈ نہیں بلکہ عالمی عوامل بھی شامل ہیں۔ مارکیٹ میں یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں. کہ امریکہ اور جاپان مل کر اپنی کرنسیوں کو مستحکم کرنے کے لیے مداخلت (Intervention) کر سکتے ہیں۔ بینک آف جاپان (BoJ) اور فیڈ کی جانب سے ‘ریٹ چیکس’ (Rate Checks) نے قیاس آرائی کرنے والے ٹریڈرز کو محتاط کر دیا ہے۔

Federal Reserve کی خودمختاری: اصل صورتحال

بدھ کے روز مارکیٹ کی توجہ مکمل طور پر Federal Reserve پر مرکوز ہے. جہاں شرح سود میں تبدیلی کی توقع تو کم ہے. مگر اصل سوال بینک کی خودمختاری کا ہے۔ صدر کی جانب سے چیئرمین جیروم پاول کو ہٹانے کے منصوبے، ایک گورنر کے خلاف اقدامات اور موجودہ چیئرمین پر قانونی دباؤ نے سرمایہ کاروں کو بے چین کر دیا ہے۔ یہی غیر یقینی صورتحال EURUSD میں اتار چڑھاؤ کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔

کیا ڈالر کی یہ تیزی پائیدار ہے؟

ڈالر پر دباؤ کی بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:

  1. تجارتی پالیسیاں: غیر متوقع تجارتی فیصلے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کر رہے ہیں۔

  2. فیڈ پر حملے: جیروم پاول کو ہٹانے کی کوششوں نے فیڈ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

  3. ریزرو کرنسی کا درجہ: سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ڈالر کا بطور عالمی ریزرو کرنسی (Reserve Currency) درجہ خطرے میں نظر آ رہا ہے۔

تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis): اہم لیولز پر ایک نظر

تکنیکی طور پر، EURUSD نے 1.2080 کے قریب مزاحمت (Resistance) محسوس کی ہے۔ یہ لیول فیبوناہچی ایکسٹینشن (Fibonacci Extension) کے مطابق ایک ‘ایگزاسشن لیول’ (Exhaustion Level) ہے. جہاں خریداروں کی ہمت جواب دینے لگتی ہے۔

لیول کی قسم قیمت (Price Level) اہمیت
فوری سپورٹ 1.1980 اگر یہ ٹوٹا تو مزید مندی آ سکتی ہے
میجر سپورٹ 1.1900 جنوری کی اہم ترین سطح
فوری ریزسٹنس 1.2082 منگل کی بلند ترین سطح
ٹارگٹ ریزسٹنس 1.2165 2021 کی بلند ترین چوٹی

تکنیکی اشارے (Technical Indicators):

  • RSI: اس وقت 70 سے اوپر ہے. جو ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ ‘اوور بوٹ’ (Overbought) ہے. اور یہاں سے کچھ کنسولیڈیشن (Consolidation) یا گراوٹ متوقع ہے۔

  • MACD: یہ اب بھی اوپر کی طرف اشارہ کر رہا ہے. لیکن اس کی رفتار مدھم پڑ رہی ہے۔

EURUSD as on 28th January 2026 ahead of Federal Reserve's Interest Rate Decision
EURUSD as on 28th January 2026 ahead of Federal Reserve’s Interest Rate Decision

سرمایہ کاروں کے لیے حکمت عملی (Actionable Insights)

موجودہ حالات میں EURUSD کے ٹریڈرز کو انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ فیڈ کے فیصلے سے پہلے بڑی پوزیشنز لینے سے گریز کریں۔ 1.1980 کا لیول ایک بہترین انٹری پوائنٹ ثابت ہو سکتا ہے. اگر مارکیٹ وہاں سے باؤنس (Bounce) کرتی ہے۔

EURUSD اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف یورو کی پانچ سالہ بلند ترین سطح ہے. اور دوسری طرف امریکی فیڈرل ریزرو کی ساکھ کا سوال۔ اگر فیڈ مارکیٹ کو مطمئن کرنے میں کامیاب رہا. تو ڈالر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر سکتا ہے. ورنہ 1.2165 کی سطح دور نہیں ہے۔

تجربہ کار ٹریڈرز ہمیشہ ‘نیوز ایونٹ’ کے دوران سائیڈ لائن پر رہنا پسند کرتے ہیں۔ یاد رکھیں، مارکیٹ کہیں نہیں جا رہی. آپ کا سرمایہ (Capital) محفوظ رہنا زیادہ ضروری ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا فیڈرل ریزرو اپنی خود مختاری برقرار رکھ پائے گا. یا صدر ٹرمپ کا دباؤ ڈالر کو مزید کمزور کر دے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button