Fed Rate Decision اور امریکی ڈالر USDJPY کی سمت: BoJ میٹنگ سے کیا توقع رکھیں؟

Divergence between Fed and BoJ outlooks drives volatility in USDJPY pair

گزشتہ رات سے Fed Rate Decision کے بعد سے جاپانی Yen مسلسل دباؤ میں ہے کیونکہ USD کی بحالی کے ساتھ عالمی مارکیٹوں میں غیر یقینی بڑھ گئی ہے۔ FOMC کے بعد امریکی سینٹرل بینک کے نرم مؤقف اور جاپان کے کمزور معاشی اعداد و شمار نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ سرمایہ کار اب اپنی توجہ آئندہ ہونے والی BoJ میٹنگ پر مرکوز کر رہے ہیں. جو مارکیٹ کے رجحانات کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

تاہم ان واقعات کی وجہ سے چند روز سے مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی بڑھتی ہوئی مضبوطی نے ین کو دباؤ میں رکھا ہے۔ کمزور گھریلو ڈیٹا اور جاپانی سیاست میں غیر یقینی صورتحال نے بھی سرمایہ کاروں کو محتاط کیا ہے۔ تاہم، BoJ کی جانب سے مستقبل میں شرح سود بڑھانے کے امکانات کے پیش نظر، ین کی گراوٹ کی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔

اہم نکات

  • جاپانی ین (JPY) حال ہی میں امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں کمزور ہوا ہے، اس کی ایک اہم وجہ کمزور مقامی معاشی اعداد و شمار اور USDJPY کی مجموعی مضبوطی ہے۔

  • مارکیٹ کی نظریں اب بینک آف جاپان (BoJ) کی آئندہ میٹنگ پر ہیں، جہاں شرح سود کو تبدیل نہ کرنے کی توقع ہے۔

  • BoJ کی پالیسی اسٹیٹمنٹ اور مستقبل کے بارے میں ان کے بیانات ین (JPY) کی آئندہ سمت کا تعین کریں گے. خاص طور پر جب فیڈرل ریزرو (Fed) شرح سود میں کمی جاری رکھنے کا اشارہ دے رہا ہے۔

  • امریکی ڈالر (USD) کو فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (FOMC) کے بعد بڑھتی ہوئی Inflation کے خدشات کی وجہ سے تقویت ملی. جس سے USDJPY کی قیمت میں تیزی آئی۔

  • مختصر مدت میں، ین (JPY) کی قدر میں مزید گراوٹ کی گنجائش محدود نظر آتی ہے. کیونکہ BoJ کی جانب سے مستقبل قریب میں پالیسی نارملائزیشن کی امید ہے۔

امریکی Fed اور جاپانی BoJ میں واضح فرق

امریکی Federal Reserve نے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کمی کرتے ہوئے مزید ریٹ کٹ کا عندیہ دیا ہے۔ اس کے برعکس، جاپانی BoJ محتاط انداز اپنائے ہوئے ہے اور قوی امکان ہے کہ وہ اپنی پالیسی کو معمول پر لانے کے سفر کو جاری رکھے گا۔ یہی تضاد USDJPY کے اتار چڑھاؤ کا بنیادی سبب ہے۔

جاپانی ین کی حالیہ گراوٹ: وجوہات کیا ہیں؟

جاپانی ین (JPY) کی قدر میں کمی کی کئی وجوہات ہیں. جن میں تازہ ترین جاپانی مشینری آرڈرز (Core Machinery Orders) کا کمزور ڈیٹا اور امریکی ڈالر (USD) کی مضبوطی شامل ہے۔

یہ ڈیٹا جاپان کی کاروباری سرمایہ کاری کی صحت کا ایک اہم اشارہ ہے. اور اس میں توقع سے زیادہ کمی نے معاشی صورتحال پر منفی تاثر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی فیڈرل ریزرو کے FOMC میٹنگ کے بعد کے بیانات نے ڈالر کو مضبوط کیا ہے. جس سے USDJPY کی جوڑی میں اضافہ ہوا۔

حال ہی میں، مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی بڑھتی ہوئی مضبوطی نے ین کو دباؤ میں رکھا ہے۔ کمزور گھریلو ڈیٹا اور جاپانی سیاست میں غیر یقینی صورتحال نے بھی سرمایہ کاروں کو محتاط کیا ہے۔ تاہم، BoJ کی جانب سے مستقبل میں شرح سود بڑھانے کے امکانات کے پیش نظر، ین کی گراوٹ کی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔

شرح سود میں فرق USDJPY پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟

جاپانی ین (JPY) اور امریکی ڈالر (USD) کی قیمتوں کا بڑا تعلق ان دونوں ممالک کی شرح سود میں فرق (Rate Differential) سے ہے۔ جب امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) شرح سود بڑھاتا ہے اور بینک آف جاپان (BoJ) انہیں کم رکھتا ہے. تو سرمایہ کار زیادہ منافع کی تلاش میں ین (JPY) سے نکل کر ڈالر (USD) میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ اس سے USDJPY کی جوڑی مضبوط ہوتی ہے۔

اس بار، فیڈ نے شرح سود میں کمی کا اشارہ دیا ہے. جبکہ BoJ کی پالیسی نارملائزیشن (Policy Normalization) کی راہ پر گامزن ہونے کی امید ہے۔ اس سے دونوں کی شرح سود کا فرق کم ہو سکتا ہے. جو ین (JPY) کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

بطور ایک تجربہ کار ٹریڈر، میں نے کئی سالوں سے یہ پیٹرن دیکھا ہے کہ شرح سود میں فرق کرنسیوں کی قدر کا ایک اہم محرک ہوتا ہے۔ ین (JPY) کی قدر میں تبدیلی کو سمجھنے کے لیے ہمیشہ فیڈ اور BoJ کی پالیسیوں پر گہری نظر رکھنا ضروری ہے۔

ایک بار میں نے دیکھا کہ ایک چھوٹی سی پالیسی سٹیٹمنٹ میں تبدیلی نے ین (JPY) کی قدر کو راتوں رات بہت زیادہ متاثر کیا. جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی بینکوں کے بیانات کو کتنی اہمیت حاصل ہے۔

آنے والی BoJ میٹنگ سے کیا توقع کی جا سکتی ہے اور یہ USDJPY کو کیسے متاثر کرے گی؟

مارکیٹ میں وسیع پیمانے پر یہ توقع کی جا رہی ہے کہ بینک آف جاپان (BoJ) اس میٹنگ میں اپنی شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔ تاہم، اصل توجہ ان کے پالیسی اسٹیٹمنٹ اور گورنر کی پریس کانفرنس پر ہوگی۔ سرمایہ کار مستقبل میں شرح سود میں اضافے کے اشاروں کی تلاش میں ہوں گے۔

اگر BoJ مستقبل میں شرح سود بڑھانے کے بارے میں کوئی سخت موقف اپناتا ہے. تو یہ ین کو فوری طور پر مضبوط کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ محتاط رویہ اپنائے، تو ین (JPY) پر دباؤ برقرار رہے گا۔

اہم نکات:

  • BoJ کا موقف: BoJ جاپان کے 2% افراط زر کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اپنی پالیسی نارملائزیشن کی راہ پر گامزن ہے۔ اگر وہ اس ہدف کے حصول میں پر اعتماد نظر آتے ہیں. تو یہ ین کے لیے مثبت ہوگا۔

  • عوامی بیانات: گورنر کے بیانات اور پریس کانفرنس کی تفصیلات انتہائی اہم ہوں گی. جو ہمیں پالیسی کے آئندہ رخ کے بارے میں اشارے دیں گی۔

تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis) اور آئندہ کا منظرنامہ

تکنیکی طور پر، USDJPY جوڑی نے 147.00 کی سطح سے اوپر ایک اہم ریکوری کی ہے۔ تاہم، 147.40-147.50 کی سطح پر اسے سخت مزاحمت (Stiff Resistance) کا سامنا ہے۔ اگر یہ اس سطح سے اوپر برقرار رہتا ہے. تو یہ 148.00 اور پھر 149.00 کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

اس کے برعکس، اگر یہ جوڑی نیچے کی طرف جاتی ہے. تو اسے 146.20 اور 146.00 کی سطح پر سپورٹ مل سکتی ہے۔ 145.50-145.45 کے نیچے کسی بھی گراوٹ سے قیمت 145.00 کی نفسیاتی سطح (Psychological Level) کو چیلنج کر سکتی ہے۔

مجموعی طور پر، اگرچہ مختصر مدت میں ڈالر میں تیزی نظر آ سکتی ہے. لیکن ین کی قدر میں گہری کمی محدود دکھائی دیتی ہے. کیونکہ مارکیٹ میں BoJ کی پالیسی نارملائزیشن کی توقعات بڑھ رہی ہیں۔

USDJPY as on 18th September 2025
USDJPY as on 18th September 2025

حرف آخر.

USDJPY کی قدر کا تعین اب فیڈرل ریزرو (Fed) اور بینک آف جاپان (BoJ) کی پالیسیوں کے درمیان توازن پر منحصر ہے۔ دونوں مرکزی بینک اپنے اپنے ملک کی معاشی صورتحال کے مطابق مختلف سمتوں میں گامزن ہیں۔ یہ فرق ہی USDJPY کی آئندہ حرکت کا تعین کرے گا۔ ٹریڈرز کے لیے، BoJ میٹنگ ایک اہم واقعہ ہے جو مارکیٹ میں نئی رفتار پیدا کر سکتا ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا BoJ اپنے محتاط رویے کو جاری رکھے گا یا وہ اپنی پالیسی نارملائزیشن کے بارے میں مزید سخت اشارے دے گا؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔

 

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button