NZDUSD دباؤ میں، مضبوط Chinese PMI بھی New Zealand Dollar کو سہارا نہ دے سکا

Market Caution, Fed Signals and Thin Liquidity Shape a Fragile FX Narrative

فاریکس مارکیٹ (Forex Market) میں بدھ کے روز نیوزی لینڈ ڈالر (NZD) اور امریکی ڈالر (USD) کی جوڑی یعنی NZDUSD میں مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ ایشیائی سیشن کے دوران یہ جوڑی 0.5785 کے قریب ٹریڈ ہو رہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چین کی جانب سے مینوفیکچرنگ کے مثبت اعداد و شمار (PMI Data) سامنے آنے کے باوجود کیوی ڈالر کو سہارا نہیں مل سکا۔ مارکیٹ کے شرکاء اس وقت فیڈرل ریزرو (Fed) کی پالیسی اور نئے سال کی چھٹیوں کے باعث کم ہوتی ہوئی لیکویڈیٹی (Liquidity) پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

خلاصہ.

  • NZDUSD میں گراوٹ: مثبت چینی مینوفیکچرنگ ڈیٹا کے باوجود کیوی ڈالر 0.5800 کی سطح سے نیچے برقرار ہے۔

  • چین کا معاشی ڈیٹا: چین کا مینوفیکچرنگ PMI دسمبر میں 50.1 رہا. جو توقعات سے بہتر ہے۔

  • فیڈرل ریزرو کا اثر: امریکی فیڈرل ریزرو کے منٹس (Minutes) نے جنوری میں شرح سود میں کٹوتی کے امکانات کو کم کر دیا ہے۔

  • مارکیٹ کا موڈ: نئے سال کی تعطیلات کے باعث ٹریڈنگ والیم (Trading Volume) کم ہے. جس سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔

NZDUSD پر چینی PMI ڈیٹا کے اثرات کیا ہیں؟

چین نیوزی لینڈ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے. اس لیے چین کے معاشی حالات براہ راست نیوزی لینڈ ڈالر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ دسمبر کے مہینے میں چین کا مینوفیکچرنگ PMI بڑھ کر 50.1 ہو گیا. جو کہ 49.2 کی توقعات سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ اسی طرح نان مینوفیکچرنگ PMI بھی 50.2 تک پہنچ گیا ہے۔

عام حالات میں، اس طرح کے مثبت ڈیٹا سے نیوزی لینڈ ڈالر کی قدر میں اضافہ ہونا چاہیے تھا. کیونکہ چین کی جانب سے طلب (Demand) بڑھنے کی توقع ہوتی ہے۔ تاہم، مارکیٹ میں اس وقت "احتیاط” کا عنصر غالب ہے۔ سرمایہ کار صرف ایک ماہ کے ڈیٹا پر بھروسہ کرنے کے بجائے طویل مدتی استحکام دیکھنا چاہتے ہیں۔

یہاں میرا ذاتی تجربہ یہ کہتا ہے کہ جب سال کے آخری ایام میں اہم ڈیٹا آتا ہے. تو اکثر مارکیٹ ‘Buy the rumor, sell the fact’ کے اصول پر چلتی ہے۔ بڑے بینک اور انسٹی ٹیوشنز (Institutions) اپنی پوزیشنز بند کر رہے ہوتے ہیں. جس کی وجہ سے اچھے ڈیٹا پر بھی کرنسی اوپر جانے کے بجائے وہیں رک جاتی ہے یا نیچے گرتی ہے۔

فیڈرل ریزرو کے منٹس اور امریکی ڈالر کی مضبوطی

امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) نے دسمبر کی میٹنگ میں شرح سود (Interest Rate) میں 25 بنیادی پوائنٹس کی کٹوتی کی تھی. جس کے بعد ریٹ 3.50% سے 3.75% کے درمیان آگئے ہیں۔ حالیہ جاری کردہ منٹس (FOMC Minutes) سے یہ ظاہر ہوتا ہے. کہ حکام مزید کٹوتیوں کے حق میں تو ہیں. لیکن وہ اس حوالے سے منقسم (Divided) ہیں کہ اگلی کٹوتی کب ہونی چاہیے۔

کیا جنوری میں مزید کٹوتی ہوگی؟

فیڈرل ریزرو کے منٹس کے بعد، مارکیٹ میں جنوری میں شرح سود کم ہونے کے امکانات (Odds) کم ہو کر صرف 15% رہ گئے ہیں۔ جب شرح سود برقرار رہنے یا کٹوتی میں تاخیر کی توقع ہوتی ہے. تو امریکی ڈالر (USD) کو تقویت ملتی ہے. جو NZDUSD جیسے پیئرز پر دباؤ ڈالتا ہے۔

ٹیکنیکل آؤٹ لک: 0.5800 کی سطح کی اہمیت

ٹیکنیکل انالیسس (Technical Analysis) کے لحاظ سے 0.5800 ایک نفسیاتی مزاحمتی سطح (Psychological Resistance) بن چکی ہے۔ جب تک NZDUSD اس سطح سے نیچے ہے، فروخت کنندگان (Sellers) کا پلڑا بھاری رہے گا۔

کلیدی لیول اہمیت
0.5800 فوری مزاحمت (Resistance)
0.5785 موجودہ سپورٹ (Support)
0.5750 اگلا ہدف (Target if bearish)

NZDUSD as on 31st December 2025
NZDUSD as on 31st December 2025

آگے کیا ہوگا؟ (What to Expect Next)

آج بدھ کے روز سرمایہ کاروں کی نظریں امریکہ کے "انیشل جاب لیس کلیمز” (Initial Jobless Claims) پر ہوں گی۔ اگر لیبر مارکیٹ (Labor Market) میں مضبوطی نظر آئی. تو امریکی ڈالر مزید مضبوط ہو سکتا ہے. جس سے NZDUSD 0.5750 کی طرف گر سکتا ہے۔

تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ نئے سال کے آغاز کی وجہ سے مارکیٹ میں والیم کم ہے. جس کا مطلب ہے کہ قیمتوں میں اچانک بڑی تبدیلی (Volatility) بھی آ سکتی ہے. جو کہ کسی ٹھوس خبر کے بغیر ہو سکتی ہے۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button