کمزور برطانوی معاشی اعداد و شمار کے باوجود GBPUSD کی 1.3600 سے اوپر مزاحمت برقرار
Pound Sterling Struggles as Growth Concerns and Rate Cut Expectations Shape Market Sentiment
برطانوی پاؤنڈ (GBP) اس وقت ایک ایسی نازک صورتحال سے گزر رہا ہے جہاں معاشی اعداد و شمار اور سیاسی ہلچل دونوں نے اسے گھیر رکھا ہے۔ حالیہ "ڈیٹا ڈمپ” (Data Dump) یا معاشی رپورٹوں کے انبار کے بعد GBPUSD کی جوڑی 1.3600 کی نفسیاتی سطح سے اوپر تو موجود ہے. لیکن اس کی مضبوطی پر سوالیہ نشانات لگ چکے ہیں۔ ایک تجربہ کار ٹریڈر کے طور پر، ہم جانتے ہیں. کہ جب مارکیٹ توقعات سے کمزور ڈیٹا دیکھتی ہے، تو قیمت کا استحکام اکثر عارضی ہوتا ہے۔
تکنیکی اعتبار سے GBPUSD مثبت رفتار ظاہر کر رہا ہے کیونکہ RSI سطح 50 سے اوپر رہتے ہوئے مستحکم خریداری کے رجحان کی نشاندہی کر رہا ہے۔ مزید اضافہ کی صورت میں 1.3869 اہم مزاحمتی سطح بن سکتی ہے. جبکہ اس سے اوپر بریک آؤٹ نئی تیزی کو جنم دے سکتا ہے۔ دوسری جانب کمزوری کی صورت میں 1.3570 اور 1.3518 اہم سپورٹ لیولز ہیں. جن کے ٹوٹنے سے مارکیٹ مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
اہم نکات
-
معاشی سست روی: برطانیہ کی چوتھی سہ ماہی (Q4) کی جی ڈی پی (GDP) صرف 0.1% رہی. جو کہ ماہرین کی 0.2% کی توقع سے کم ہے۔
-
مرکزی بینک کا موقف: بینک آف انگلینڈ (BoE) نے شرح سود برقرار رکھی ہے لیکن مستقبل میں کٹوتی (rate cut) کے واضح اشارے دیے ہیں۔
-
سیاسی غیر یقینی صورتحال: وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی قیادت کو اندرونی خلفشار اور استعفوں کا سامنا ہے. جس نے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کیا ہے۔
-
تکنیکی صورتحال: GBPUSD فی الحال ایک "ایسنڈنگ چینل” (ascending channel) میں ہے. جہاں 1.3652 اور 1.3570 اہم سپورٹ لیولز ہیں۔
کیا برطانوی جی ڈی پی کے اعداد و شمار پاؤنڈ کے لیے خطرہ ہیں؟
برطانیہ کی ابتدائی جی ڈی پی رپورٹ نے مارکیٹ کو مایوس کیا ہے۔ 0.1% کی ترقی یہ ظاہر کرتی ہے کہ معیشت بمشکل جمود سے باہر نکل رہی ہے۔ خاص طور پر صنعتی شعبے (industrial sector) میں تنزلی نے پاؤنڈ پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔ جب معیشت سست روی کا شکار ہو، تو کرنسی کی قدر میں اضافہ مشکل ہو جاتا ہے. کیونکہ سرمایہ کار زیادہ منافع بخش اثاثوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔
میں نے پچھلی دہائی میں کئی بار دیکھا ہے کہ جب GDP توقعات سے صرف 0.1% بھی کم آتی ہے. تو مارکیٹ فوری ردعمل دینے کے بجائے "ویٹ اینڈ واچ” (wait and watch) کی پالیسی اپناتی ہے۔ یہ خاموشی اکثر کسی بڑے بریک آؤٹ سے پہلے کا طوفان ہوتی ہے، کیونکہ بڑے انسٹی ٹیوشنل پلیئرز اپنی پوزیشنز ری بیلنس کر رہے ہوتے ہیں۔
بینک آف انگلینڈ (BoE) کا ڈووش (Dovish) جھکاؤ اور اس کے اثرات
فروری کی میٹنگ میں بینک آف انگلینڈ نے شرح سود تو تبدیل نہیں کی. لیکن 5-4 کا ووٹنگ اسپلٹ (Vote Split) انتہائی اہم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بینک کے اندر ایک بڑی تعداد اب شرح سود کم کرنے کے حق میں ہے۔ گورنر اینڈریو بیلی کا یہ بیان کہ افراط زر (Inflation) ہدف تک توقع سے جلد پہنچ جائے گی، اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ 2026 میں شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس (bps) کی کمی متوقع ہے۔
شرح سود میں کمی کا پاؤنڈ پر کیا اثر ہوگا؟
جب کوئی مرکزی بینک شرح سود کم کرنے کا اشارہ دیتا ہے، تو اس کرنسی کی مانگ کم ہو جاتی ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے اب پاؤنڈ میں ہولڈنگ رکھنا اتنا پرکشش نہیں رہا. جتنا چند ماہ پہلے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 1.3700 کی سطح پر GBPUSD کو فروخت کے دباؤ (Supply) کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

برطانیہ کا سیاسی بحران: کیئر اسٹارمر کی مشکلات
معیشت کے ساتھ ساتھ برطانیہ کا سیاسی منظر نامہ بھی پاؤنڈ کے لیے سازگار نہیں ہے۔ وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے چیف ایڈ، مورگن میک سوینی کا استعفیٰ اور اس کے گرد گھومنے والے تنازعات نے حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ جب کسی ملک کی قیادت غیر یقینی ہو. تو غیر ملکی سرمایہ کار اپنا سرمایہ نکالنے کو ترجیح دیتے ہیں. جسے "کیپیٹل فلائٹ” (capital flight) کہا جاتا ہے۔
اسکاٹش لیبر پارٹی کی جانب سے استعفے کا مطالبہ سیاسی خطرات (Political Risks) کو مزید بڑھا رہا ہے۔ اگرچہ اعلیٰ قیادت نے وزیر اعظم کی حمایت کی ہے. لیکن مارکیٹ میں بے چینی برقرار ہے۔
امریکی ڈالر (USD) کی کمزوری: پاؤنڈ کے لیے ایک لائف لائن
اگر GBPUSD اس وقت 1.3600 سے اوپر برقرار ہے، تو اس کی بڑی وجہ ڈالر انڈیکس (DXY) کی اپنی کمزوری ہے۔ فیڈرل ریزرو (Fed) کی جانب سے سال کے آخر تک مزید دو بار شرح سود میں کمی کے امکانات نے ڈالر کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔
اس کے علاوہ، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کی خبروں نے "رسک آن” (Risk-On) ماحول پیدا کیا ہے. جس سے ڈالر کی بطور "سیف ہیون” (Safe-Haven) مانگ کم ہوئی ہے۔ یہ صورتحال GBPUSD کو گرنے سے بچائے ہوئے ہے۔
GBPUSD ٹیکنیکل انالیسس (Technical Analysis)
تکنیکی طور پر، GBPUSD کا رجحان ابھی بھی مثبت زون میں ہے۔
کیا GBPUSD میں تیزی کا رجحان برقرار ہے؟
14 روزہ آر ایس آئی (RSI) 55.94 پر ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں ابھی بھی خریداروں کا غلبہ ہے اور یہ "اوور بوٹ” (overbought) نہیں ہوئی۔ 9 روزہ ای ایم اے (EMA) کا 50 روزہ ای ایم اے سے اوپر ہونا ایک "بولش سگنل” (bullish signal) ہے۔
| لیول کی قسم | قیمت (Price) | اہمیت |
| اہم مزاحمت (Resistance) | 1.3869 | ستمبر 2021 کے بعد بلند ترین سطح |
| نفسیاتی ہدف | 1.4110 | اسینڈنگ چینل کی بالائی حد |
| فوری سپورٹ (Support) | 1.3652 | 9-day EMA |
| اہم سپورٹ | 1.3518 | 50-day EMA |
ٹریڈنگ میں اکثر EMA کا کراس اوور محض ایک نمبر نہیں ہوتا، بلکہ یہ مارکیٹ کے بدلتے ہوئے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ 1.3518 کی سطح پر 50-day EMA کا موجود ہونا اسے ایک "اسٹیل وال” (Steel Wall) بناتا ہے۔ جب تک قیمت اس سے اوپر ہے، میں شارٹ سیلنگ سے گریز مشورہ دیتا ہوں۔
مستقبل کی حکمت عملی
آنے والے دنوں میں امریکی ریٹیل سیلز (Retail Sales) اور نان فارم پے رولز (NFP) کے اعداد و شمار انتہائی اہم ہوں گے۔ اگر امریکہ میں روزگار کے اعداد و شمار توقع سے بہتر آتے ہیں، تو ڈالر دوبارہ مضبوط ہو سکتا ہے. جو پاؤنڈ کو 1.3500 کی طرف دھکیل دے گا۔
اگر ڈالر کی کمزوری برقرار رہتی ہے اور برطانیہ کے سیاسی حالات مستحکم ہوتے ہیں، تو 1.3869 اگلا بڑا ہدف ہو سکتا ہے۔ تاہم درحقیقت مارکیٹ اب اس سال 50 بنیادی پوائنٹس کی کمی کی توقع کر رہی ہے. جو کہ GBPUSD کی طویل مدتی تیزی کو روک سکتا ہے۔ 1.3570 سے 1.3650 کا زون خریداری کے لیے ایک اچھا ری انٹری پوائنٹ ثابت ہو سکتا ہے. بشرطیکہ اسٹاپ لاس (Stop Loss) 1.3500 سے نیچے ہو.
اختتامیہ.
GBPUSD اس وقت دو متضاد قوتوں کے درمیان پھنسا ہوا ہے: ایک طرف برطانیہ کی کمزور معیشت اور سیاسی مسائل ہیں. اور دوسری طرف امریکی ڈالر کی اپنی گراوٹ۔ ایک تجربہ کار اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میرا مشورہ ہے کہ موجودہ سطحوں پر محتاط رہیں۔ 1.3600 کا برقرار رہنا خوش آئند ہے. لیکن حقیقی تیزی کے لیے 1.3700 کے اوپر کلوزنگ ضروری ہے۔
مارکیٹ ہمیشہ آپ کو دوسرا موقع دیتی ہے، اس لیے جلد بازی کے بجائے معاشی کیلنڈر (Economic Calendar) پر نظر رکھیں اور اپنی رسک مینجمنٹ کو ترجیح دیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا کیئر اسٹارمر کے سیاسی مسائل پاؤنڈ کو 1.3500 سے نیچے لے جائیں گے یا ڈالر کی کمزوری اسے بچا لے گی؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



