GBPUSD کی 1.3400 کے قریب پیش قدمی: کیا پاؤنڈ اپنی برتری برقرار رکھ پائے گا؟
UK GDP, BoE Signals and Fed Pressure Shape the GBPUSD Financial Story
گزشتہ چند سیشنز میں عالمی کرنسی مارکیٹ (Forex Market) میں ایک دلچسپ صورتحال دیکھنے کو ملی ہے. جہاں برطانوی پاؤنڈ (GBP) نے امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے۔ GBPUSD کی جوڑی اس وقت 1.3400 کی نفسیاتی سطح (Psychological Level) کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے. جس کی بڑی وجہ ڈالر انڈیکس (DXY) میں آنے والی حالیہ کمی اور عالمی سطح پر رسک سینٹیمنٹ (Risk Sentiment) میں بہتری ہے۔
اس بلاگ میں ہم نہ صرف موجودہ قیمتوں کا جائزہ لیں گے بلکہ برطانوی معیشت کے بنیادی اعداد و شمار (Fundamental Data) ، بینک آف انگلینڈ کی پالیسی، اور Federal Reserve کے مستقبل پر تفصیلی بحث کریں گے۔
کلیدی نکات.
-
GBPUSD کی موجودہ صورتحال: پاؤنڈ 1.3400 کی سطح کو عبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے. جبکہ ڈالر پر دباؤ برقرار ہے۔
-
برطانوی معیشت کا حال: برطانیہ کے جی ڈی پی (GDP) اور مینوفیکچرنگ ڈیٹا پر سب کی نظریں ہیں. جو شرح سود کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔
-
امریکی ڈالر اور فیڈرل ریزرو: امریکی افراط زر (Inflation) مستحکم ہے. لیکن صدر ٹرمپ کی جانب سے ریٹ کٹ (Rate Cut) کے لیے دباؤ اور جیروم پاول کی قانونی صورتحال مارکیٹ میں غیر یقینی پیدا کر رہی ہے۔
-
ٹیکنیکل انالیسس: 1.3393 ایک اہم مزاحمتی سطح (Resistance) ہے. جبکہ 1.3485 کا بریک آؤٹ پاؤنڈ کو مزید اوپر لے جا سکتا ہے۔
GBPUSD کی قیمت میں اضافے کی اصل وجہ کیا ہے؟
جب ہم فاریکس مارکیٹ میں کسی جوڑی (Currency Pair) کا تجزیہ کرتے ہیں. تو ہمیں دو مختلف معیشتوں کے درمیان توازن کو دیکھنا ہوتا ہے۔ GBPUSD میں حالیہ تیزی کی دو بنیادی وجوہات ہیں.
-
ڈالر کی پسپائی (Dollar Weakness): امریکی ڈالر انڈیکس، جو چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر بتاتا ہے. 99.10 کے قریب آگیا ہے۔ اگرچہ دسمبر کے افراط زر (CPI) کے اعداد و شمار نے ڈالر کو عارضی سہارا دیا تھا، لیکن اب سرمایہ کاروں کا رجحان دوبارہ رسک کی طرف بڑھ رہا ہے، جس سے ڈالر کی طلب کم ہوئی ہے۔
-
برطانوی معیشت سے وابستہ امیدیں: برطانیہ کے آفس فار نیشنل سٹیٹسٹکس (ONS) سے توقع ہے. کہ نومبر کے دوران معیشت میں 0.1% کا اضافہ ہوا ہوگا۔ اگر یہ ڈیٹا مثبت آتا ہے. تو یہ پاؤنڈ کے لیے مزید ایندھن کا کام کرے گا۔
ایک تجربہ کار ٹریڈر کے طور پر میں نے دیکھا ہے. کہ جب مارکیٹ کسی نفسیاتی سطح جیسے 1.3400 کے قریب ہوتی ہے. تو محض ڈیٹا کافی نہیں ہوتا، بلکہ مارکیٹ پارٹیسپینٹس کا "موڈ” زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں، بیئرز (Bears) یعنی فروخت کرنے والے تھک چکے ہیں. اور 1.3000 کے سپورٹ زون سے ریباؤنڈ ایک کلاسک ٹرینڈ ریورسل کی نشاندہی کر رہا ہے۔
برطانوی جی ڈی پی اور بینک آف انگلینڈ کا مستقبل (UK GDP & BoE Policy Outlook)
برطانیہ کی معاشی نمو (Economic Growth) گزشتہ چند مہینوں سے سست روی کا شکار رہی ہے۔ ستمبر اور اکتوبر میں جی ڈی پی میں 0.1% کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
کیا بینک آف انگلینڈ شرح سود میں کمی کرے گا؟
بینک آف انگلینڈ (BoE) کے پالیسی ساز ایلن ٹیلر کے حالیہ بیانات نے مارکیٹ کو ایک نئی سمت دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شرح سود جلد ہی اپنی "نیوٹرل سطح” (Neutral Level) پر آ جائے گی۔ ان کے مطابق، 2026 کے وسط تک افراط زر اپنے ہدف پر واپس آ جائے گی۔
سرمایہ کاروں کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ BoE اب جارحانہ انداز اپنانے کے بجائے بتدریج (Gradual) ریٹ کٹس کی طرف بڑھے گا۔ جب شرح سود میں کمی کی رفتار سست ہوتی ہے. تو وہ کرنسی (پاؤنڈ) دیگر کے مقابلے میں مضبوط رہتی ہے۔
امریکی سیاست اور فیڈرل ریزرو کا ٹکراؤ (US Politics and Fed Independence)
امریکی ڈالر اس وقت ایک عجیب و غریب صورتحال کا شکار ہے۔ ایک طرف معاشی اعداد و شمار (CPI) کہہ رہے ہیں. کہ فیڈرل ریزرو کو شرح سود برقرار رکھنی چاہیے. کیونکہ Inflation اب بھی 2.6% – 2.7% پر مستحکم ہے۔ دوسری طرف، سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
فیڈ چیئرمین جیروم پاول پر دباؤ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پر جیروم پاول کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے "Too Late Powell” کہا ہے. اور ایک بڑے ریٹ کٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے. کہ جیروم پاول کو کچھ قانونی الزامات کا سامنا ہے. جسے عالمی مرکزی بینکوں کے سربراہان نے سیاسی مداخلت قرار دیا ہے۔
یورپی سنٹرل بینک (ECB) اور بینک آف انگلینڈ سمیت دنیا کے نو بڑے مرکزی بینکوں نے فیڈرل ریزرو کی آزادی (Central Bank Independence) کی حمایت میں بیان جاری کیا ہے۔ مالیاتی منڈیوں میں مرکزی بینک کی آزادی ایک "کارنر اسٹون” یا بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ اگر یہ آزادی خطرے میں پڑتی ہے. تو ڈالر پر اعتماد کم ہو سکتا ہے. جو طویل مدت میں GBPUSD کو مزید اوپر دھکیل دے گا۔
تکنیکی تجزیہ: GBPUSD کے لیے اگلے اہداف (Technical Analysis & Targets)
ٹیکنیکل چارٹس پر نظر ڈالیں تو GBPUSD ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔

| کلیدی لیول (Key Levels) | قیمت (Price) | اہمیت (Significance) |
| فبوناچی 50% (Fibonacci) | 1.3393 | یہ سطح اس وقت سخت مزاحمت (Resistance) کا کام کر رہی ہے۔ |
| 20-Day EMA | 1.3439 | اس سے اوپر کلوزنگ پاؤنڈ کے لیے بہت مثبت ہوگی۔ |
| فبوناچی 61.8% | 1.3485 | اگر پاؤنڈ اس سے اوپر نکلتا ہے تو بیئرش ٹرینڈ ختم ہو جائے گا۔ |
| RSI (Neutral) | 52 | یہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں ابھی مزید اوپر جانے کی گنجائش موجود ہے۔ |
ٹریڈنگ حکمت عملی (Trading Strategy)
موجودہ حالات میں، 1.3390 سے 1.3400 کا زون "میک اور بریک” (Make or Break) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر پاؤنڈ 1.3485 کے لیول کو عبور کر لیتا ہے. تو ہم 1.3600 کی طرف ایک نئی ریلی دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم، اگر قیمت یہاں سے گرتی ہے. تو 1.3250 کا سپورٹ لیول دوبارہ ٹیسٹ ہو سکتا ہے۔
میں نے اکثر دیکھا ہے کہ فبوناچی کا 61.8% لیول جسے "گولڈن ریشو” کہا جاتا ہے. ٹرینڈ کی تبدیلی کا حتمی فیصلہ کرتا ہے۔ جب تک قیمت 1.3485 کے نیچے ہے. بڑے ادارہ جاتی ٹریڈرز (Institutional Traders) محتاط رہیں گے۔ ایک گھنٹے (H1) یا چار گھنٹے (H4) کے کینڈل اسٹک چارٹ پر 1.3439 کے اوپر کلوزنگ کا انتظار کرنا ایک سمجھدار فیصلہ ہوگا۔
مستقبل کی پیش گوئی (Conclusion & Outlook)
GBPUSD کا حالیہ سفر صرف نمبروں کا کھیل نہیں. بلکہ یہ عالمی سیاست، مرکزی بینکوں کی خود مختاری اور معاشی ڈیٹا کا ایک پیچیدہ امتزاج ہے۔ پاؤنڈ اس وقت مضبوط نظر آ رہا ہے. لیکن اسے اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے 1.3485 کی رکاوٹ کو عبور کرنا ہوگا۔
سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے. کہ وہ صرف ٹیکنیکل انڈیکیٹرز پر بھروسہ نہ کریں. بلکہ برطانیہ کے جی ڈی پی اور امریکہ کے پی پی آئی (PPI) ڈیٹا پر بھی کڑی نظر رکھیں۔ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ (Volatility) بڑھ سکتا ہے. لہذا مناسب اسٹاپ لاس (Stop Loss) کا استعمال لازمی ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا پاؤنڈ 1.3500 کی سطح کو چھو پائے گا یا ڈالر دوبارہ واپسی کرے گا؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



