کمزور برطانوی روزگار ڈیٹا کے باعث GBPUSD دباؤ کا شکار، Interest Rate Cut کی توقعات میں اضافہ
Bank of England Policy Outlook and Federal Reserve Expectations Drive Currency Market Volatility
برطانوی پاؤنڈ (GBP) اس وقت فاریکس مارکیٹ میں شدید دباؤ کا شکار ہے، خاص طور پر جب سے برطانیہ کے لیبر مارکیٹ کے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ منگل کے روز GBPUSD کی جوڑی 1.3600 کی نفسیاتی سطح سے نیچے گر گئی. اور اب 1.3550 کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس گراوٹ کی بنیادی وجہ برطانیہ میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ اور اجرتوں کی نمو (Wage Growth) میں کمی ہے، جس نے بینک آف انگلینڈ (BoE) کی جانب سے مارچ میں شرح سود میں کٹوتی (Interest Rate Cut) کے امکانات کو روشن کر دیا ہے۔
اس آرٹیکل میں ہم تفصیل سے جائزہ لیں گے کہ برطانیہ کی معیشت میں آنے والی یہ تبدیلیاں پاؤنڈ پر کیسے اثر انداز ہو رہی ہیں اور آنے والے دنوں میں امریکی ڈالر (USD) کی موومنٹ اس جوڑی کو کہاں لے جا سکتی ہے۔
اہم نکات (Key Highlights)
-
کمزور لیبر ڈیٹا: برطانیہ میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 5.2% ہو گئی ہے. جو 2021 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
-
BoE ریٹ کٹ: معاشی سست روی کے باعث مارکیٹ اب مارچ میں بینک آف انگلینڈ کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقع کر رہی ہے۔
-
ڈالر کی مضبوطی: امریکی ڈالر ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر ہے، جس سے GBPUSD پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
-
ٹیکنیکل سپورٹ: GBPUSD کے لیے 1.3550 کی سطح (200-Period SMA) ایک اہم دفاعی لائن ہے۔
برطانیہ کی ملازمتوں کی رپورٹ پاؤنڈ کے لیے کیوں نقصان دہ ثابت ہوئی؟
برطانیہ کے آفس فار نیشنل سٹیٹسٹکس (ONS) کی حالیہ رپورٹ نے سرمایہ کاروں کو حیران کر دیا۔ دسمبر تک کے تین مہینوں میں بے روزگاری کی شرح (ILO Unemployment Rate) بڑھ کر 5.2% تک جا پہنچی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، کلیمینٹ کاؤنٹ (jobless benefits) میں 28.8K کا اضافہ ظاہر کرتا ہے. کہ 2026 کے آغاز میں لیبر مارکیٹ سکڑ رہی ہے۔
جب لیبر مارکیٹ کمزور ہوتی ہے، تو مرکزی بینک عام طور پر معیشت کو سہارا دینے کے لیے شرح سود میں کمی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاؤنڈ میں فروخت کا دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔میں نے پچھلی دہائی میں کئی بار دیکھا ہے کہ جب بے روزگاری کی شرح میں غیر متوقع اضافہ ہوتا ہے. تو بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کار فوری طور پر اپنی پوزیشنز کو ریجسٹ کرتے ہیں. کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ BoE اب زیادہ دیر تک ہاکش (Hawkish) موقف برقرار نہیں رکھ سکے گا۔
اجرتوں میں کمی اور افراطِ زر کا تعلق
(Relationship between wage growth moderation and inflation)
رپورٹ کا ایک اور اہم پہلو اوسط آمدنی (Average Earnings) میں کمی ہے۔ بونس کے بغیر اجرتوں کی شرح 4.6% سے گر کر 4.2% پر آ گئی ہے۔ مرکزی بینکوں کے لیے اجرتوں میں کمی کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں افراطِ زر (inflation) قابو میں رہے گی، جو انہیں ریٹ کٹ کا گرین سگنل دیتا ہے۔ اگر کل آنے والے برطانیہ کے سی پی آئی (CPI) ڈیٹا نے بھی سست روی دکھائی، تو پاؤنڈ کی گراوٹ میں تیزی آ سکتی ہے۔
امریکی ڈالر کا کردار اور فیڈرل ریزرو کی پالیسی
(The role of USD and Federal Reserve policy)
ایک طرف پاؤنڈ کمزور ہو رہا ہے، تو دوسری طرف امریکی ڈالر (USD) اپنی برتری ثابت کر رہا ہے۔ اگرچہ ڈالر کو فیڈرل ریزرو (Fed) کی جانب سے جون میں ریٹ کٹ کی توقعات کا سامنا ہے، لیکن فی الحال یہ پاؤنڈ کے مقابلے میں محفوظ پناہ گاہ (safe haven) کے طور پر ابھرا ہے۔
تاہم، ڈالر کی یہ تیزی محدود ہو سکتی ہے کیونکہ:
-
مارکیٹ 2026 میں امریکہ میں کم از کم دو ریٹ کٹس کی توقع کر رہی ہے۔
-
فیڈ کی خود مختاری (Fed independence) سے متعلق سیاسی بحث ڈالر کی طویل مدتی مضبوطی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
سرمایہ کاروں کی نظریں اب بدھ کو جاری ہونے والے FOMC Minutes اور جمعہ کو PCE پرائس انڈیکس پر ہیں، جو ڈالر کی اگلی سمت کا تعین کریں گے۔
GBPUSD ٹیکنیکل انالیسس: کیا 1.3550 کی سطح برقرار رہے گی؟
ٹیکنیکل چارٹ پر، GBPUSD اس وقت ایک نازک موڑ پر ہے۔ 4 گھنٹے کے چارٹ پر قیمت 200-پیریڈ سمپل موونگ ایوریج (SMA) کے قریب ہے. جو 1.3550 کے گرد واقع ہے۔
-
MACD انڈیکیٹر: میک ڈی ہسٹوگرام منفی زون میں ہے. جو اس بات کی علامت ہے کہ سیلرز (Sellers) ابھی بھی مارکیٹ پر حاوی ہیں۔
-
RSI (Relative Strength Index): آر ایس آئی 40 کے قریب ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ ابھی ‘اوور سولڈ’ (Oversold) نہیں ہوئی، یعنی مزید گراوٹ کی گنجائش موجود ہے۔
اگر قیمت 1.3550 سے نیچے بند ہوتی ہے، تو اگلا ہدف 1.3500 اور پھر 1.3420 ہو سکتا ہے۔ ریکوری کے لیے، پاؤنڈ کو 1.3620 کی سطح سے اوپر نکلنا ہوگا تاکہ بائرز (buyers) دوبارہ متحرک ہو سکیں۔

اختتامیہ.
موجودہ صورتحال میں، GBPUSD کا رجحان منفی (Bearish) دکھائی دیتا ہے۔ برطانیہ کے کمزور معاشی ڈیٹا نے پاؤنڈ کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک تجربہ کار اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میرا مشورہ ہے. کہ ٹریڈرز 1.3550 کی سطح پر کڑی نظر رکھیں کیونکہ یہ "میک اور بریک” (Make or Break) لیول ہے۔ اگر یہاں سپورٹ ملتی ہے تو ایک مختصر ریلیف ریلی (relief rally) ممکن ہے، ورنہ پاؤنڈ کے لیے راستہ مزید کٹھن ہو جائے گا۔
آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ بینک آف انگلینڈ مارچ میں ریٹ کٹ کرے گا. یا وہ مہنگائی کے ڈیٹا کا انتظار کریں گے؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



