بلوچستان میں پانی کی قلت: ADB کا 48 ملین ڈالر کا قرضہ اور معاشی اثرات
A $48 Million Leap Toward Climate-Resilient Water Management in Balochistan
بلوچستان، رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ، ایک دہائی سے زائد عرصے سے پانی کی شدید قلت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف زراعت کو خطرے میں ڈال رہی ہے. بلکہ مجموعی علاقائی معیشت اور لاکھوں افراد کی روزی روٹی کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ ایسے میں، ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی جانب سے ADB funding Balochistan water کے لیے اضافی $48 ملین کے قرضے کی منظوری ایک نہایت اہم اور بروقت اقدام ہے۔
یہ فنانسنگ بلوچستان واٹر ریسورسز ڈویلپمنٹ سیکٹر پروجیکٹ کے تحت ہوگی. جس کا مقصد پانی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، آبپاشی کی کارکردگی کو بڑھانا، اور صوبے میں پانی کے پائیدار استعمال کو فروغ دینا ہے۔ ایک مالیاتی حکمت عملی ساز کے طور پر، اس ڈویلپمنٹ کا تجزیہ کرنا ضروری ہے. کہ یہ علاقائی معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے امکانات پر کیا اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
خلاصہ (Key Points)
-
ADB funding Balochistan water کے لیے 48 ملین ڈالرز کی اضافی منظوری بلوچستان میں پانی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔
-
اس فنڈنگ سے چوری انفلٹریشن گیلری (Churi Infiltration Gallery) اور سری ٹوئی ڈیم کمانڈ ایریا (Siri Toi Dam command area) کی ترقی جیسے اہم منصوبوں کو مکمل کیا جائے گا. جو پہلے بجٹ کی رکاوٹوں کا شکار تھے۔
-
سری ٹوئی ڈیم کی تکمیل 36 ملین کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرے گی. جس سے 16,592 ہیکٹر زرعی رقبے کو باقاعدہ پانی کی فراہمی یقینی ہوگی۔
-
جدید پائپڈ واٹر ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کا استعمال روایتی کھلی نہروں کے مقابلے میں پانی کے ضیاع کو کم کرکے زرعی کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا۔
-
پروجیکٹ کا مقصد پائیدار واٹر مینجمنٹ کے ذریعے زرعی آمدنی میں اضافہ کرنا اور علاقائی غربت کی شرح کو کم کرنا ہے. جس کے دور رس معاشی فوائد متوقع ہیں۔
ADB کی اضافی فنانسنگ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ADB نے بلوچستان واٹر ریسورسز ڈویلپمنٹ سیکٹر پروجیکٹ کے لیے اضافی $48 ملین کی فنانسنگ کو منظور کیا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے. کہ اس اضافی فنڈنگ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
یہ اضافی فنانسنگ پروجیکٹ کے ان اہم اجزاء کی تکمیل کے لیے ضروری ہے. جو بجٹ کی رکاوٹوں کی وجہ سے تاخیر کا شکار تھے. جن میں چوری انفلٹریشن گیلری کی تعمیر، سری ٹوئی ڈیم کمانڈ ایریا کی ترقی، اور واٹرشیڈ مینجمنٹ کی سرگرمیاں شامل ہیں۔ ان اجزاء کی تکمیل آبپاشی کی کارکردگی کو بڑھانے. پانی کے ضیاع کو کم کرنے، اور سیلاب کی وجہ سے ہونے والے مٹی کے کٹاؤ کو روکنے کے لیے ناگزیر ہیں۔
یہ ایک عام ترقیاتی رجحان ہے جہاں بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو اکثر تخمینہ لاگت سے زیادہ فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے. خاص طور پر اقتصادی چیلنجز یا موسمیاتی واقعات کی وجہ سے قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر۔
پانی کے بنیادی ڈھانچے میں کون سی جدت شامل ہے؟
پروجیکٹ کے تحت پانی کی تقسیم کے نظام میں کیا خاص بات ہے؟
ADB کے اس پروجیکٹ کے تحت سری ٹوئی کمانڈ ایریا میں ایک جدید پائپڈ واٹر ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک (Innovative Piped Water Distribution Network) متعارف کرایا جائے گا۔ ADB کے مطابق، یہ نظام روایتی کھلے چینل سسٹمز کے مقابلے میں اعلی کارکردگی (Higher Efficiency) ، کموئی کے کم نقصان (Reduced Conveyance Losses). اور بہتر سروس ڈیلیوری کو یقینی بنائے گا۔ پانی کے انتظام میں یہ تکنیکی تبدیلی طویل مدتی پائیداری کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
فنانشل مارکیٹس میں، ہم دیکھتے ہیں. کہ "کارکردگی” اور "انفراسٹرکچر کی جدت” ہمیشہ طویل مدتی قدر (Long-Term Value) کو آگے بڑھاتی ہے۔ جس طرح ایک سرمایہ کار روایتی سست عمل کے بجائے تیز رفتار الیکٹرانک ٹریڈنگ پلیٹ فارمز کو ترجیح دیتا ہے.
اسی طرح پانی کے شعبے میں پائپڈ نیٹ ورک کا استعمال پانی کی ‘رسد کی کارکردگی’ کو بہتر بناتا ہے۔ یہ نہ صرف براہ راست زرعی پیداوار کو بڑھاتا ہے. بلکہ اس سے بچنے والے پانی کو دیگر معاشی شعبوں یا گھریلو استعمال کے لیے بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے. جس سے پورے علاقے کی مالی صحت پر مثبت اثر پڑتا ہے۔
بلوچستان کی معیشت کے لیے ADB فنڈنگ کی کیا اہمیت ہے؟
بلوچستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی زراعت ہے. جو صوبے کی کل معاشی پیداوار کا تقریباً دو تہائی حصہ ہے. اور یہاں کے 13 ملین رہائشیوں میں سے 60% کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ تاہم، پانی کی کمی اور آب و ہوا کی کمزوریوں نے ان روزی روٹیوں کو شدید خطرے میں ڈال رکھا ہے. جس کے نتیجے میں علاقائی غربت کی شرح قومی اوسط سے تقریباً دوگنی ہے۔
ADB funding Balochistan water کے اہم معاشی فوائد درج ذیل ہیں:
-
ذخیرہ شدہ پانی کی بڑھتی ہوئی دستیابی: سری ٹوئی ڈیم، جو ژوب (Zhob) اور مولا (Mula) دریاؤں کے طاسوں پر مرکوز ہے. ایک بار مکمل ہونے پر 36 ملین کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔
-
زرعی رقبے کی آبپاشی: یہ منصوبہ 16,592 ہیکٹر کے کمانڈ ایریا میں گھریلو اور زرعی استعمال کے لیے پانی کی موثر اور منصفانہ ترسیل کو یقینی بنائے گا. جس میں خوشکابہ (Rainwater Harvesting) کے تحت 1,839 ہیکٹر بھی شامل ہیں۔
-
غربت میں کمی: پانی کی قابل اعتماد دستیابی زرعی پیداوار کو مستحکم کرے گی. جس سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا. اور وہ غربت کی لکیر سے اوپر اٹھ سکیں گے۔
-
خواتین کو بااختیار بنانا: اس پروجیکٹ سے خاص طور پر زراعت سے وابستہ خواتین کے لیے بہتر معاشی مواقع پیدا ہوں گے. جو کہ پاکستان میں سماجی اور مالیاتی شمولیت کے لیے اہم ہے۔
پائیداری اور موسمیاتی لچک (Climate Resilience) کو کیسے یقینی بنایا جائے گا؟
طویل مدتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے، پروجیکٹ میں آب و ہوا کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات شامل ہیں:
| پائیداری کا اقدام | مقصد |
| واٹرشیڈ مینجمنٹ (Watershed Management) | زمین کے انحطاط (land degradation) کو کم کرنا۔ |
| شجرکاری (Afforestation) | مٹی کے کٹاؤ کو کم کرنا اور ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانا۔ |
| مٹی کا تحفظ (Soil Conservation) | سیلاب کے انتظام کو بہتر بنانا۔ |
| چیک ڈیموں کی تعمیر (Construction of check dams) | پانی کی بچت اور زیر زمین پانی کی سطح کو بہتر بنانا۔ |
یہ اقدامات، جو جاپان فنڈ فار پراسپروس اینڈ ریزیلیئنٹ ایشیا اینڈ دی پیسفک اور ہائی لیول ٹیکنالوجی فنڈ کی طرف سے شریک مالی اعانت یافتہ (Cofinanced) ہیں. بلوچستان میں ایک آب و ہوا کے لیے لچکدار (Climate-Resilient) اور پائیدار پانی کے وسائل کے انتظام کے نظام کو قائم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
فنانشل مارکیٹس کے لیے ایک اشارہ
پانی ایک اہم وسیلہ ہے، اور اس کی کمی کسی بھی علاقے کے مالیاتی اور معاشی استحکام کو فوری طور پر متاثر کر سکتی ہے۔ ADB funding Balochistan water کا فیصلہ محض ایک ترقیاتی قرضہ نہیں ہے. یہ ایک ایسا بنیادی ڈھانچہ ہے. جو زرعی پیداوار کو مستحکم کر کے ملک کے فوڈ سیکورٹی (Food Security) کو مضبوط کرتا ہے. اور علاقائی عدم مساوات کو کم کرتا ہے۔
فنانشل مارکیٹس میں سرمایہ کاری کے نقطہ نظر سے، ایک مستحکم زراعت کا شعبہ اور بہتر انفراسٹرکچر ملک کے مجموعی کریڈٹ پروفائل (Credit Profile) کو بہتر بناتا ہے۔ جیسا کہ ایک تجربہ کار مالیاتی حکمت عملی ساز مشاہدہ کرتا ہے. طویل مدتی سرمایہ کاری ہمیشہ ان خطوں میں بہتی ہے. جہاں قدرتی وسائل کا انتظام مضبوط ہوتا ہے. کیونکہ یہ آپریشنل خطرات (Operational Risks) کو کم کرتا ہے۔ یہ منصوبہ اس بات کا ثبوت ہے. کہ ترقیاتی مالیات براہ راست معاشی اور انسانی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔
یہ ایک ایسا قدم ہے. جو بلوچستان کے لوگوں کے لیے بہتر روزی روٹی اور ایک پائیدار مستقبل کی ضمانت دے سکتا ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ Asian Development Bank کی طرف سے اس طرح کی ترقیاتی فنڈنگ کا پاکستان کی مجموعی معاشی کارکردگی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ اس کے تعلقات پر کیا اثر پڑے گا؟ اپنے خیالات کمنٹس میں شیئر کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



