جاپانی ین کی گرتی قدر: ٹرمپ ٹیرف اور USDJPY کا تجزیہ

Analyzing the pressure on Japanese Yen amid BoJ uncertainty and Trump's aggressive trade policy

فاریکس مارکیٹ میں Japanese Yen اس وقت دباؤ کا شکار ہے۔ اس دباؤ کی ایک بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاپان سے ہونے والی تمام درآمدات پر اضافی 15 فیصد ٹیرف Tariffs عائد کرنے کی خبریں ہیں۔ اس کے علاوہ، بینک آف جاپان (BoJ) کی شرح سود میں اضافے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال اور عالمی سطح پر رسک-آن (Risk-On) ماحول بھی JPY کی قدر کو کمزور کر رہا ہے۔ اس صورتحال میں USDJPY کرنسی جوڑا اس وقت وسط 147.00s کی سطح سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے۔

اہم نکات.

 

  • ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ جاپانی درآمدات پر اضافی ٹیرف لگانے کی خبروں نے Japanese Yen کو کمزور کیا ہے۔ یہ خبریں جاپان کی مقامی سیاست میں ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ مل کر ین پر منفی اثر ڈال رہی ہیں۔

  • BoJ اور Fed کی پالیسیوں میں تفاوت: بینک آف جاپان (BoJ) کی شرح سود میں اضافے کی غیر یقینی صورتحال کے برعکس، امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) کی جانب سے ستمبر میں شرح سود میں کمی کی توقعات ہیں. جس سے ڈالر (USD) پر دباؤ پڑ رہا ہے۔

  • مخالفانہ عوامل: ایک طرف ٹرمپ کے ٹیرف اور BoJ کی غیر واضح پالیسی ین کو کمزور کر رہی ہے. جبکہ دوسری طرف فیڈ کی شرح سود میں کمی کی توقعات ڈالر کو کمزور کر رہی ہیں. جس سے USDJPY جوڑے کی سمت غیر واضح ہو گئی ہے۔

  • اہم تکنیکی سطحیں: تکنیکی طور پر (Technically)، USD/JPY جوڑے کو مزید اوپر جانے کے لیے 147.80-147.85 کی سطح سے اوپر پوزیشن حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس سطح کو عبور کرنے پر یہ جوڑا 149.00 کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

جاپانی ین کی قدر کو کون سے عوامل متاثر کر رہے ہیں؟

Japanese Yen کی قدر میں ہونے والی حالیہ کمی مختلف اہم عوامل کا نتیجہ ہے۔ ان عوامل میں بین الاقوامی تجارتی پالیسیاں، جاپان کی اندرونی معاشی صورتحال، اور بڑے مرکزی بینکوں (Central Banks) کی مالیاتی پالیسیاں شامل ہیں۔ یہ سب مل کر جاپانی ین کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔

کیا ٹرمپ کے ٹیرف کا جاپانی ین پر اثر پڑ رہا ہے؟

جی ہاں، ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاپانی درآمدات پر 15 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی خبروں نے Japanese Yen پر فوری طور پر منفی اثر ڈالا ہے۔ ٹیرف (Tariff) ایک ایسا ٹیکس ہوتا ہے جو درآمد شدہ اشیاء پر لگایا جاتا ہے۔

جب ایک ملک دوسرے ملک کی درآمدات پر ٹیرف لگاتا ہے. تو اس سے تجارتی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے. اور سرمایہ کار (Investors) ان ممالک کی کرنسیوں سے دور رہتے ہیں. جن پر ٹیرف کا دباؤ ہو۔ یہ خبر مارکیٹ میں تجارتی جنگ کے خدشات کو بڑھا دیتی ہے. جس کے نتیجے میں جاپانی ین جیسی کرنسی جو کہ ایک محفوظ پناہ گاہ (Safe-Haven) سمجھی جاتی ہے. کو نقصان پہنچتا ہے۔

یہ خبر اس وقت سامنے آئی ہے جب جاپان کی مقامی سیاست میں بھی ہلچل ہے۔ 20 جولائی کو حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (Liberal Democratic Party) کو ایوان بالا کے انتخابات میں نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نے ملک کی معاشی  حالت (Fiscal Health) کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں. کیونکہ اپوزیشن اخراجات بڑھانے اور ٹیکس کم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

بینک آف جاپان اور فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں کا جاپانی ین پر کیا اثر ہے؟

بینک آف جاپان (BoJ) اور امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) کی پالیسیوں میں موجود تفاوت Japanese Yen اور امریکی ڈالر (USD) کے جوڑے (USDJPY) کے لیے ایک اہم محرک (Driver) ہے۔

BoJ نے حال ہی میں شرح سود میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے. لیکن جاپان میں صارفین کی کمزور مانگ (Consumption) اور گرتی ہوئی اجرتوں (Real Wages) نے اس امکان کو فی الحال غیر یقینی بنا دیا ہے۔ اس کے برعکس، امریکی Federal Reserve کی جانب سے ستمبر میں شرح سود میں کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • بینک آف جاپان (BoJ): جاپان میں حالیہ اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے. کہ اجرتوں میں مسلسل چھٹے مہینے کمی ہوئی ہے، جس سے صارفین کی خریداری کی طاقت کمزور ہوئی ہے۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ BoJ شرح سود میں اضافے کے منصوبے کو مؤخر کر سکتا ہے. جس سے ین پر مزید دباؤ پڑے گا۔

  • امریکی فیڈرل ریزرو (Fed): امریکہ میں حالیہ کمزور معاشی اعداد و شمار، جیسے کہ غیر زرعی تنخواہوں کی رپورٹ (Nonfarm Payrolls) اور سروسز PMI، نے مارکیٹ کی یہ توقعات بڑھا دی ہیں. کہ فیڈرل ریزرو شرح سود میں کمی کرے گا۔ جب کسی ملک کا مرکزی بینک شرح سود کم کرتا ہے. تو اس کی کرنسی کی قدر عموماً کم ہو جاتی ہے۔

ان دو مختلف پالیسیوں کے تضاد نے جاپانی ین کی گراوٹ کو ایک حد تک روکا ہوا ہے، کیونکہ اگر ایک طرف BoJ کی جانب سے شرح سود میں اضافے کا عمل سست ہوتا دکھائی دے رہا ہے. تو دوسری جانب فیڈ کی جانب سے بھی شرح سود میں کمی کے امکانات موجود ہیں۔

USDJPY کا تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis)

تکنیکی طور پر (Technically)، USDJPY کا جوڑا ایک اہم سطح پر موجود ہے۔ حال ہی میں اس جوڑے نے 200-Period Simple Moving Average (SMA) سے اوپر کا ایک اچھا اچھال دکھایا ہے. جو کہ 146.60 کی سطح پر تھا۔ یہ ایک مثبت اشارہ ہے اور بلز (Bulls) کی پوزیشن کو مضبوط کرتا ہے۔

  • مزاحمت کی سطحیں (Resistance Levels): موجودہ صورتحال میں، 147.80-147.85 کی سطح ایک اہم مزاحمت (Resistance) کا کام کر رہی ہے۔ یہ 38.2% Fibonacci retracement کی سطح بھی ہے۔ اگر USD/JPY اس سطح کو عبور کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے. تو اس کے بعد یہ جوڑا 148.00 کی نفسیاتی سطح (Psychological level) اور پھر 148.45-148.50 کے علاقے کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

  • سپورٹ کی سطحیں (Support Levels): اگر یہ جوڑا نیچے کی طرف آتا ہے. تو 147.15 کی سطح فوری سپورٹ (support) فراہم کر سکتی ہے. جس کے بعد 147.00 کا نشان اہم ہے۔ اس کے علاوہ 146.75 کی سطح بھی اہم سپورٹ زون ہے. کیونکہ یہ 200-period SMA اور 50% Fibonacci retracement کی سطحوں کا ایک سنگم (confluence) ہے۔ اگر یہ سطح ٹوٹ جاتی ہے تو جوڑا 146.00 اور پھر 145.00 کی طرف تیزی سے گر سکتا ہے۔

USDJPY as on 7th August 2025
USDJPY as on 7th August 2025

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

آنے والے دنوں میں جاپانی ین کی قیمت امریکی معاشی اعداد و شمار اور تجارتی خبروں سے متاثر رہے گی۔ آج کے دن امریکی ہفتہ وار بے روزگاری کے دعوے (Initial Jobless Claims) اور FOMC کے اراکین کی تقریریں (Speeches) ڈالر کی قدر پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ سرمایہ کار (investors) ان واقعات پر گہری نظر رکھیں گے۔

اس کے علاوہ، جاپانی ین اور امریکی ڈالر کے درمیان موجودہ تضاد (Divergence) اور تجارتی پالیسیوں کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے، دونوں کرنسیوں میں اچانک بڑی حرکتیں (Volatility) دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ ٹریڈرز (Traders) کو محتاط رہنا چاہیے. اور کسی بھی نئی پوزیشن لینے سے پہلے واضح اشاروں (Signals) کا انتظار کرنا چاہیے۔

آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا ٹرمپ کے ٹیرف اور BoJ کی غیر یقینی پالیسی جاپانی ین کو مزید کمزور کر دے گی، یا فیڈ کی متوقع شرح میں کمی ڈالر پر زیادہ دباؤ ڈالے گی؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔

 

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button