بحران کی زد میں کیوی ڈالر: نیوزی لینڈ میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور Fed کی نئی پالیسیوں کے درمیان NZDUSD کا مستقبل

Rising Unemployment Rate Fuels Speculation Over RBNZ Rate Cuts While Fed Policy Uncertainty Strengthens USD

نیوزی لینڈ کی معیشت اس وقت ایک مشکل موڑ پر کھڑی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، نیوزی لینڈ میں بے روزگاری کی شرح (Unemployment Rate) میں توقع سے زیادہ اضافہ ہوا ہے. جس نے کیوی ڈالر (NZD) کو امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں NZDUSD کو نفسیاتی سطح 0.6000 کی  سے نیچے دھکیل دیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ، امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کیون وارش (Kevin Warsh) کو فیڈرل ریزرو کا اگلا چیئرمین نامزد کیے جانے کے بعد مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی ہے۔ کیا کیوی ڈالر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر پائے گا. یا امریکی ڈالر کی بڑھتی ہوئی طاقت اسے مزید نیچے لے جائے گی؟ اس تفصیلی تجزیے میں ہم ان تمام عوامل کا احاطہ کریں گے. جو آنے والے مہینوں میں NZDUSD Forecast پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

اہم نکات

  • نیوزی لینڈ میں بے روزگاری کی شرح دسمبر 2025 کی سہ ماہی میں بڑھ کر 5.4% ہو گئی ہے. جو کہ 2015 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

  • ریزرو بینک آف نیوزی لینڈ (RBNZ) کی جانب سے مئی تک شرح سود میں کمی (Rate Cut) کے امکانات 60% سے تجاوز کر گئے ہیں۔

  • امریکہ میں کیون وارش کی بطور فیڈ چیئرمین نامزدگی نے ڈالر کو مضبوط کیا ہے. کیونکہ انہیں ایک ‘ہاکش’ (Hawkish) شخصیت سمجھا جاتا ہے۔

  • NZDUSD اس وقت 0.5980 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے. اور 0.6000 کی سطح اب ایک مضبوط مزاحمت (Resistance) بن چکی ہے۔

نیوزی لینڈ میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ کیوں ہوا؟

نیوزی لینڈ کے محکمہ شماریات (Statistics New Zealand) کی حالیہ رپورٹ نے سرمایہ کاروں کو حیران کر دیا ہے۔ دسمبر 2025 کی سہ ماہی میں بے روزگاری کی شرح 5.3% سے بڑھ کر 5.4% ہو گئی. جبکہ مارکیٹ کا اندازہ 5.3% پر برقرار رہنے کا تھا۔

نیوزی لینڈ میں بے روزگاری کی شرح میں اضافے کی بنیادی وجہ لیبر سپلائی (Labour Supply) کا طلب سے زیادہ ہونا اور معاشی سرگرمیوں میں سستی ہے۔ اگرچہ روزگار کے مواقع میں 0.5% اضافہ ہوا. لیکن لیبر فورس میں شمولیت کی شرح (Participation Rate) 70.5% تک پہنچنے کی وجہ سے نوکریوں کے متلاشی افراد کی تعداد بڑھ گئی. جس نے مجموعی طور پر بے روزگاری کے اعداد و شمار کو اوپر دھکیل دیا۔

اپنے 10 سالہ تجربے میں، میں نے اکثر دیکھا ہے. کہ جب بے روزگاری کی شرح اپنی تاریخی اوسط سے تجاوز کرتی ہے. تو مرکزی بینکوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے کہ وہ شرح سود میں کمی کریں۔ نیوزی لینڈ جیسے چھوٹے ملک کے لیے، جہاں برآمدات کا بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے. کرنسی کی کمزوری ایک دو دھاری تلوار ثابت ہوتی ہے۔

کیا RBNZ شرح سود میں کمی کرے گا؟

بے روزگاری کے ان اعداد و شمار نے ریزرو بینک آف نیوزی لینڈ (RBNZ) کے لیے پالیسی کو نرم کرنے کا کیس مضبوط کر دیا ہے۔ مارکیٹ اب یہ دیکھ رہی ہے. کہ مئی 2026 کی میٹنگ تک شرح سود میں کمی کے واضح امکانات موجود ہیں۔

سوائپ مارکیٹ کے اشارے (Swap Market Indications)

سوائپ مارکیٹ (Swaps Market) کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اب 60% سے زیادہ امکان ہے. کہ مئی تک آفیشل کیش ریٹ (OCR) میں کمی کی جائے گی۔ جب معیشت میں ‘سستی’ (Slack) پیدا ہوتی ہے. اور لیبر مارکیٹ کمزور ہوتی ہے. تو Inflation کو کنٹرول کرنے کے بجائے معاشی نمو کو سہارا دینا ترجیح بن جاتا ہے۔

اشاریہ (Indicator) سابقہ (Previous) حالیہ (Actual) مارکیٹ توقع (Forecast)
بے روزگاری کی شرح (Unemployment Rate) 5.3% 5.4% 5.3%
روزگار میں تبدیلی (Employment Change) 0.0% 0.5% 0.3%
شرکت کی شرح (Participation Rate) 70.3% 70.5% 70.3%

فیڈرل ریزرو کی آزادی اور کیون وارش کی نامزدگی کا اثر

امریکہ میں سیاسی تبدیلیاں عالمی فاریکس مارکیٹ (Forex Market) پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق گورنر کیون وارش کو فیڈرل ریزرو کا نیا سربراہ نامزد کیا ہے. جس سے ڈالر کے بیلوں (Bulls) کو نئی طاقت ملی ہے۔

کیون وارش کون ہیں اور مارکیٹ انہیں کیسے دیکھتی ہے؟

کیون وارش کو ایک ‘انفلیشن ہاک’ (Inflation Hawk) کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ان کی توجہ عام طور پر فیڈ کے بیلنس شیٹ کو سکیڑنے (Shrinking the Balance Sheet) اور شرح سود کو ضرورت سے زیادہ کم نہ کرنے پر ہوتی ہے۔

اگر کیون وارش فیڈ چیئرمین بنتے ہیں، تو شرح سود میں کمی کی رفتار (Pace of Interest Rate Cuts) سست ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کہ وہ کیون وارش کو نامزد نہ کرتے اگر وہ شرح سود بڑھانے کا ارادہ رکھتے، مارکیٹ میں غیریقینی (Uncertainty) پیدا کر رہے ہیں۔ یہ ‘پولیٹیکل انٹرفیرنس’ (Political Interference) کے خدشات ڈالر کی طویل مدتی ساکھ کو متاثر کر سکتے ہیں. لیکن فی الحال ڈالر اپنی برتری برقرار رکھے ہوئے ہے۔

NZDUSD ٹیکنیکل انالیسس: 0.6000 سے نیچے کا سفر

ٹیکنیکل چارٹس پر NZDUSD کی صورتحال تشویشناک نظر آ رہی ہے۔ 0.6000 کی سطح کو توڑنا اس بات کی علامت ہے. کہ سیلرز (Sellers) مارکیٹ پر حاوی ہیں۔

مارکیٹ ری ایکشن (Market Reaction): ایشیائی سیشن کے دوران جوڑی 0.5980 تک گر گئی. جو کہ 0.36% کی یومیہ کمی ہے۔ اگر قیمت 0.5950 کی سپورٹ (Support) کو بھی توڑ دیتی ہے. تو اگلا ہدف 0.5900 ہو سکتا ہے۔

NZDUSD as on 5th Feb. 2026
NZDUSD as on 5th Feb. 2026

ٹریڈرز کے لیے حکمت عملی (Strategy for Traders)

  1. مزاحمت (Resistance): 0.6000 کی سطح اب ایک سپلائی زون (Supply Zone) بن چکی ہے۔ کسی بھی واپسی پر یہاں فروخت کے مواقع تلاش کیے جا سکتے ہیں۔

  2. سپورٹ (Support): 0.5950 ایک اہم لیول ہے جہاں سے مختصر مدت کے لیے باؤنس بیک (Bounce back) ممکن ہے۔

  3. رِسک مینجمنٹ (Risk Management): فیڈرل ریزرو کے حکام، خاص طور پر رافیل بوسٹک (Raphael Bostic) کے بیانات سے قبل اسٹاپ لاس (Stop Loss) کا استعمال لازمی کریں۔

حرف آخر.

نیوزی لینڈ کی لیبر مارکیٹ میں پیدا ہونے والی دراڑیں اور امریکہ میں فیڈرل ریزرو کی قیادت میں ممکنہ تبدیلی نے NZDUSD Forecast کو مندی (Bearish) کی طرف مائل کر دیا ہے۔ 5.4% کی بے روزگاری کی شرح محض ایک عدد نہیں ہے، بلکہ یہ RBNZ کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ صرف چارٹس پر بھروسہ کرنے کے بجائے عالمی سیاست اور مرکزی بینکوں کے بدلتے ہوئے بیانات پر گہری نظر رکھیں۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ 0.5950 کی سطح کیوی ڈالر کو گرنے سے بچا پائے گی. یا ہمیں مزید کمی کے لیے تیار رہنا چاہیے؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button