چین میں Deflation کے خدشات: NZDUSD پر اثرات اور مستقبل کی سمت؟

in-depth analysis covers the key factors, impacts, and future outlook for traders

چین کی معیشت میں مسلسل ڈیفلیشن Deflation کے خدشات کی وجہ سے  امریکی ڈالر کے مقابلے میں نیوزی لینڈ ڈالر NZDUSD کمزور ہو کر 0.5950 کی سطح کے قریب آگیا ہے۔ مارکیٹ میں اس حرکت نے بہت سے ٹریڈرز اور سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس آرٹیکل میں، ہم اس صورتحال کا گہرائی سے تجزیہ کریں گے کہ یہ کیوں ہو رہا ہے، اس کے کیا اثرات ہیں، اور آگے کیا ممکنہ منظرنامے ہو سکتے ہیں۔

چینی معیشت کی صورتحال اسوقت عالمی مارکیٹس میں ایک نئے رسک فیکٹر کے طور پر سامنے آئی ہے۔ دنیا بھر میں جہاں افراط زر ایک بڑا مسئلہ ہے۔ وہیں دنیا کی سب سے بڑی پیداواری معیشت میں تفریط زر یعنی Deflation سر درد بنی ہوئی ہے۔ کچھ عرصۂ قبل موڈیز نے بھی اس سال کے کیلئے Chinese Growth Rate کے تخمینے میں 0.5 فیصد کمی کر دی تھی۔

اہم نکات

  • NZD/USD میں کمی کی وجہ: NZDUSD کی قدر میں کمی کی سب سے بڑی وجہ چین میں مسلسل بڑھتے ہوئے Deflation کے خدشات ہیں۔ چین نیوزی لینڈ کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے. لہذا چین کی معاشی صحت کا براہ راست اثر نیوزی لینڈ کی کرنسی پر ہوتا ہے۔

  • Deflation کیا ہے؟ ڈیفلیشن کا مطلب ہے کہ اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں مسلسل کمی آنا۔ یہ مہنگائی (inflation) کے برعکس ہے۔ جب صارفین کو یہ امید ہو کہ قیمتیں مزید کم ہوں گی. تو وہ خریداری مؤخر کر دیتے ہیں. جس سے اقتصادی سرگرمیاں سست ہو جاتی ہیں۔

  • NZD/USD پر اثر: چین کی کمزور ہوتی ہوئی ڈیمانڈ (Demand) کی وجہ سے نیوزی لینڈ کی برآمدات (Exports) پر منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہے، خاص طور پر Metals اور ڈیری مصنوعات (Dairy Products) جیسی اہم برآمدات پر۔ اس سے NZD کی قدر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

  • آگے کیا؟ ٹریڈرز اب چین کی جانب سے ممکنہ مالیاتی اور معاشی محرک (Stimulus) اقدامات اور امریکی فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی آئندہ مانیٹری پالیسی (Monetary Policy) کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ عوامل NZDUSD کی آئندہ سمت کا تعین کریں گے۔

NZDUSD کیوں کمزور ہو رہا ہے؟ چین کا Deflation خطرہ کیسے متاثر کرتا ہے؟

NZDUSD کی قدر میں حالیہ کمی کا تعلق براہ راست چین کی معیشت سے ہے۔ چین کا پیداواری قیمت انڈیکس (Producer Price Index – PPI) مسلسل کئی مہینوں سے کم ہو رہا ہے. جو اس بات کی علامت ہے کہ فیکٹریوں کی سطح پر قیمتیں کم ہو رہی ہیں اور طلب (Demand) میں کمی ہے۔

چونکہ چین نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے. اس لیے نیوزی لینڈ کی معیشت کا انحصار بڑی حد تک چین کی مارکیٹ پر ہے۔ جب چین میں طلب کم ہوتی ہے. تو وہ نیوزی لینڈ کی مصنوعات، جیسے ڈیری اور لکڑی، کی خریداری کم کر دیتا ہے. جس سے نیوزی لینڈ کی برآمدات اور معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔ نتیجتاً، اس کا سیدھا اثر Kiwi Dollar کی قیمت پر پڑتا ہے۔

NZDUSD as on 13th August 2025, Chinese Deflation fear has weakened the Demand
NZDUSD as on 13th August 2025, Chinese Deflation fear has weakened the Demand

Deflation کیا ہے اور یہ کرنسی پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟

Deflation ایک اقتصادی حالت ہے. جہاں وقت کے ساتھ اشیاء اور خدمات کی عام قیمتوں میں کمی آتی ہے۔ یہ مہنگائی (inflation) کے بالکل برعکس ہے۔ جب ڈیفلیشن ہوتی ہے تو آپ کے پیسے کی قوت خرید (Purchasing Power) بڑھ جاتی ہے۔ اگرچہ یہ عام صارفین کے لیے اچھا لگ سکتا ہے. لیکن ایک طویل مدت کے لیے یہ معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

چین کے اقتصادی مسائل کی اصل جڑ اسکا ریئل اسٹیٹ اور پراپرٹی سیکٹر ہے۔ جو کہ کچھ عرصہ پہلے تک اسکی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا اور مجموعی قومی آمدنی کا 35 فیصد اسی سے حاصل کیا جاتا تھا۔

معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ دو عشرے پہلے تک اس میں زبردست تیزی رہی۔ اور ملک میں کسی حد تک Privatization کو پروان چڑھایا گیا۔ لیکن اس کے بعد کورونا کی عالمی وباء شروع ہوئی اور سب کچھ زمیں بوس ہو گیا۔

صرف چین ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر سکڑنا شروع ہو گیا۔ لیکن دیگر طاقتور ممالک کے برعکس بیجنگ انتظامیہ پابندیوں کو سخت کرتی چلی گئی اور Zero Covid Policy کا سختی سے نفاذ کیا گیا۔ جس سے یہ شعبہ دوبارہ سنبھل نہیں پایا۔

ڈیفلیشن کے منفی اثرات درج ذیل ہیں:

  • صارفین کا خرچ مؤخر کرنا: لوگ یہ سوچ کر خریداری روک دیتے ہیں. کہ مستقبل میں قیمتیں مزید کم ہوں گی۔ اس سے مارکیٹ میں سرگرمیاں رک جاتی ہیں۔

  • کاروباروں کے منافع میں کمی: قیمتیں کم ہونے سے کمپنیوں کے منافع کم ہو جاتے ہیں. جس سے وہ پیداوار کم کرنے اور ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

  • قرضوں کی حقیقی قیمت میں اضافہ: ڈیفلیشن سے قرضوں کی حقیقی قیمت بڑھ جاتی ہے. جس سے قرض لینے والوں کے لیے انہیں واپس کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

کسی کرنسی پر اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ایک ڈیفلیشنری معیشت میں اکثر سرمایہ کار اپنا پیسہ نکال لیتے ہیں. کیونکہ وہاں ترقی کے امکانات کم ہوتے ہیں. جس سے اس ملک کی کرنسی کمزور ہو جاتی ہے۔

NZD/USD پر تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis) اور مستقبل کی سمت

NZDUSD اس وقت 0.5950 کی نفسیاتی (Psychological) سطح کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ ایک اہم سپورٹ اور مزاحمت (Support and Resistance) کا زون  ہے۔

ممکنہ منظرنامے:

  • اگر قیمت اس سطح سے نیچے گرتی ہے: اگر Chinese Deflation کے اعداد و شمار مزید خراب ہوتے ہیں. یا امریکہ کی معاشی صورتحال مضبوط رہتی ہے. تو NZDUSD مزید گر کر 0.5900 کی سطح کو ٹیسٹ کر سکتا ہے. اور اس کے بعد 0.5850 کی جانب بڑھ سکتا ہے۔

  • اگر قیمت اس سطح پر واپس آتی ہے: اگر چین کی حکومت کوئی بڑے معاشی محرک اقدامات (Stimulus Measures) کا اعلان کرتی ہے. یا امریکہ کے اقتصادی ڈیٹا میں کمزوری آتی ہے، تو NZDUSD واپس اوپر جا سکتا ہے۔ اس صورت میں، اس کی اگلی مزاحمت (Resistance) 0.6000 کی نفسیاتی سطح پر ہوگی۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟ مارکیٹ کی توقعات

مستقبل میں NZD/USD کی حرکت دو اہم عوامل پر منحصر ہوگی:

  1. چین کے معاشی اقدامات: مارکیٹ کو امید ہے کہ چین کی حکومت اپنی سست ہوتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کے لیے مزید اقدامات کرے گی۔ ان اقدامات میں شرح سود (Interest Rates) میں کمی یا مالیاتی محرک (Fiscal Stimulus) شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو چین کی معاشی صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے. جس سے NZD کو سپورٹ ملے گی۔

  2. امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسی: امریکہ کے حال ہی میں آنے والے کمزور مہنگائی کے اعداد و شمار سے یہ توقعات بڑھ گئی ہیں. کہ فیڈرل ریزرو ستمبر میں اپنی شرح سود میں کمی کر سکتا ہے۔ اگر فیڈرل ریزرو شرح سود میں کمی کرتا ہے، تو USD کمزور ہو سکتا ہے. جس سے NZDUSD جوڑے کو اوپر کی طرف دھکا مل سکتا ہے۔

حرف آخر.

NZDUSD کی موجودہ کمزوری صرف ایک خبر کا ردعمل نہیں. بلکہ عالمی معیشت کی پیچیدگیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ چین کے Deflation کے خدشات ایک بڑا خطرہ ہیں. جو نہ صرف نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا بلکہ پوری دنیا کی مارکیٹوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

طویل عرصے کا نظریہ رکھنے والے ٹریڈرز اور سرمایہ کاروں کو صرف ایک خبر پر ردعمل دینے کے بجائے، ان بڑے معاشی دھاروں (Economic Currents) کو سمجھنا چاہیے جو عالمی سطح پر چل رہے ہیں۔ مارکیٹ کبھی بھی سیدھی لکیر میں نہیں چلتی اور اسی لیے ہمیں ہمیشہ بڑے عوامل کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ آپ کا اس صورتحال کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ چین ڈیفلیشن سے نکل آئے گا؟ ہمیں اپنی رائے سے نیچے کمنٹس میں آگاہ کریں.

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button