Australian Dollar Declines Despite US Dollar Weakness on Dovish Fed Outlook

آسٹریلوی ڈالر امریکی ڈالر کی کمزوری کے باوجود دباؤ میں، فیڈ کی نرم پالیسی توقعات

آج بروز منگل، آسٹریلوی ڈالر (AUD) نے امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر کھو دی۔باوجود اس کے کہ امریکی ڈالر خود دباؤ میں تھا۔ یہ ایک غیر معمولی صورتحال تھی جس کی وجہ کئی اندرونی اور بیرونی عوامل تھے۔ جنہوں نے مارکیٹ کے رویے کو متاثر کیا۔ یہ کمی خاص طور پر اس وقت سامنے آئی جب سرمایہ کار فیڈرل ریزرو کی جانب سے بدھ کو ہونے والے پالیسی اجلاس کے نتائج کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔ مارکیٹ میں توقع یہ تھی کہ فیڈرل ریزرو اپنی پالیسی میں نرمی لائے گا۔ جو عام طور پر امریکی ڈالر کو کمزور کرتا ہے اور دیگر کرنسیوں کو مضبوطی دیتا ہے۔ تاہم، اس بار صورتحال مختلف تھی۔

RBA کا محتاط مؤقف اور اس کے اثرات

آسٹریلوی ریزرو بینک (RBA) کی اسسٹنٹ گورنر سارہ ہنٹر کے بیانات نے مارکیٹ کو مزید محتاط کر دیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ مہنگائی اپنے ہدف کے قریب ہے اور خطرات متوازن ہیں۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ بینک کو اپنے فیصلے مستقبل کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر کرنے ہوں گے۔ یہ بیان بنیادی طور پر مارکیٹ میں موجود ان قیاس آرائیوں کو کمزور کرنے کے لیے تھا کہ RBA جلد ہی شرح سود میں کمی کر سکتا ہے۔ اس محتاط رویے نے سرمایہ کاروں کو AUD میں سرمایہ کاری کرنے سے روک دیا۔ مارکیٹ میں اب یہ توقع 86% تک پہنچ چکی ہے کہ RBA ستمبر کے اجلاس میں شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔

RBA کے اس اعتماد کی کئی وجوہات ہیں: دوسری سہ ماہی میں آسٹریلیا کی GDP میں مضبوط اضافہ، جولائی میں ریکارڈ کیا گیا بڑا تجارتی سرپلس، اور جولائی کے مہنگائی کے اعداد و شمار میں اضافہ۔ ان تمام عوامل نے مل کر یہ اشارہ دیا کہ آسٹریلوی معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہے۔ اور اسے فوری طور پر کسی مالیاتی محرک کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے باوجود، RBA گھریلو اخراجات کی سست روی اور چین کی معاشی سست روی سے منسلک خطرات کو نظرانداز نہیں کر رہا۔ جو AUD پر طویل مدتی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

امریکہ-چین TikTok معاہدہ: ایک امید کی کرن

جہاں ایک طرف آسٹریلوی ڈالر دباؤ میں تھا۔ وہیں امریکہ اور چین کے درمیان TikTok کے حوالے سے ہونے والے ایک تجارتی معاہدے نے مارکیٹ میں ایک مثبت رجحان پیدا کیا۔ معاہدے کے تحت TikTok کو امریکی ملکیت میں منتقل کیا جائے گا۔ اور اس کی حتمی منظوری صدر ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کے درمیان ایک فون کال پر متوقع ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اس معاہدے کو "بہت اچھا” قرار دیا اور امریکہ اور چین کے تعلقات کو "انتہائی مضبوط” بتایا۔

یہ معاہدہ آسٹریلوی ڈالر کے لیے ایک اچھی خبر تھی۔ کیونکہ چین آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات AUD کی قدر میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ تاہم، اس خوش خبری کا اثر دیگر عالمی خدشات اور عوامل کی وجہ سے محدود ہو گیا۔

امریکی ڈالر کی کمزوری: عالمی معاشی دباؤ کا عکاس

US Dollar Index (DXY)، جو چھ بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر کو ناپتا ہے۔ 97.20 کی سطح پر تجارت کر رہا ہے اور دباؤ میں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ امریکی معیشت سے متعلق آنے والے اعداد و شمار اور فیڈرل ریزرو کی پالیسی توقعات ہیں۔ سرمایہ کار اب اگست کے امریکی ریٹیل سیلز کے اعداد و شمار پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر یہ اعداد و شمار توقعات سے کمزور رہے تو مندی کے خدشات مزید بڑھیں گے اور فیڈ پر شرح سود میں کمی کے لیے دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔

فیڈرل ریزرو کی ممکنہ پالیسی: وسیع تر اثرات

مارکیٹ میں تقریباً یہ یقین ہے کہ اس ہفتے فیڈ 25 بیسس پوائنٹس کی شرح سود میں کمی کرے گا۔ اگرچہ 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کا امکان بھی موجود ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ امریکی روزگار کے اعداد و شمار میں کمزوری ہے۔ بے روزگاری کے دعوے اکتوبر 2021 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ جو مزدور مارکیٹ کی کمزوری کا واضح اشارہ ہے۔ اگرچہ مہنگائی کے اعداد و شمار (CPI) مضبوط رہے ہیں۔ مگر فیڈ کی توجہ زیادہ تر روزگار کی صورتحال پر ہے۔

اس حوالے سے مورگن اسٹینلے اور ڈوئچے بینک جیسے بڑے بینکوں نے پیش گوئی کی ہے۔ کہ فیڈ سال 2025 میں مزید تین بار شرح سود میں کمی کرے گا (ستمبر، اکتوبر، دسمبر)۔ یہ تمام پیش گوئیاں عالمی فاریکس مارکیٹ میں ایک نرم رویے کی جانب اشارہ کر رہی ہیں، جو امریکی ڈالر کی قدر کو مزید دباؤ میں رکھ سکتی ہیں۔

چینی معیشت: AUD کے لیے ایک خطرہ

آسٹریلیا کے لیے چین کی معیشت کی حالت انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ چین کے اگست کے معاشی اعداد و شمار ملے جلے رہے۔ریٹیل سیلز میں 3.4% اضافہ ہوا جبکہ 3.8% کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ اسی طرح، صنعتی پیداوار میں 5.2% اضافہ ہوا جبکہ 5.8% کی توقع تھی۔ یہ اعداد و شمار چین میں صارفین اور صنعتی شعبے میں سست روی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ جو آسٹریلوی ڈالر کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ چونکہ آسٹریلیا کی برآمدات کا بڑا حصہ چین کو جاتا ہے۔ لہذا چین میں طلب میں کمی براہ راست آسٹریلوی ڈالر پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔

آسٹریلوی ڈالر کی کمزوری کے پیچھے بنیادی وجوہات

جبکہ امریکی ڈالر کمزور تھا اور فیڈ کی پالیسی توقعات بھی مارکیٹ کے حق میں تھیں۔ اس کے باوجود AUDUSD کی قدر میں اضافہ نہیں ہوا۔ اس کی بنیادی وجوہات تین اہم نکات میں سموئی ہوئی ہیں:

1. RBA کا غیر جانبدار مؤقف: RBA کی جانب سے مستقبل کی پالیسی پر واضح اشارے نہ ملنے کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کی صورتحال رہی۔

2. چین کی سست معیشت: چین کی معیشت میں سست روی کے خدشات نے آسٹریلوی ڈالر کی مانگ کو کم کر دیا۔

3. منافع لینے کا رجحان: پچھلے دنوں AUD میں ہونے والی تیزی کے بعد، سرمایہ کاروں نے اپنے منافع کو محفوظ کرنے کے لیے اپنی پوزیشنز کو فروخت کرنا شروع کر دیا۔ جس نے بھی AUD کی قدر کو کم کیا۔

تکنیکی تجزیہ اور آئندہ کی توقعات

تکنیکی طور پر، AUDUSD کا جوڑا 0.6720 کی سطح پر مزاحمت (resistance) اور 0.6650 کی سطح پر سپورٹ کے درمیان محدود دکھائی دے رہا ہے۔ اگر یہ جوڑا نیچے کی طرف ٹوٹتا ہے، تو اس کی قدر 0.6600 تک گر سکتی ہے۔ جبکہ اوپر کی سمت میں، اس کا اگلا ہدف 0.6780 ہو سکتا ہے۔

آنے والے دنوں میں، ٹریڈرز کو فیڈرل ریزرو کے پالیسی بیان، امریکی ریٹیل سیلز کے اعداد و شمار اور چین کے مزید معاشی ڈیٹا پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔ یہ تمام عوامل عالمی فاریکس مارکیٹ اور AUDUSD کے مستقبل کے رجحان کا تعین کریں گے۔

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی چیک کریں۔
Close
Back to top button