USDCHF میں مندی: ٹرمپ کی تقریر اور امریکہ ایران کشیدگی کے درمیان سوئس فرانک مضبوط
Tariff Uncertainty, Safe-Haven Demand and Geopolitics Reshape Currency Market Sentiment
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ (State of the Union) خطاب اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی نے فاریکس مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔ بدھ کے ابتدائی یورپی سیشن کے دوران USDCHF کی قیمت 0.7730 کے قریب ٹریڈ ہو رہی ہے. جو کہ 0.7750 کی اہم سطح سے نیچے ہے۔
ڈالر کی اس کمزوری اور سوئس فرانک (Swiss Franc) کی مضبوطی کے پیچھے ٹیرف (Tariffs) کی نئی پالیسیاں اور ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری مذاکرات (Nuclear talks) سے وابستہ غیر یقینی صورتحال بنیادی عوامل ہیں۔
فی الحال Financial Story واضح ہے: سیاست نے معیشت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ Trump کی پالیسیوں، عالمی مذاکرات اور معاشی رپورٹس کے درمیان Currency Market ایک نازک توازن پر کھڑا ہے۔ اگر کشیدگی بڑھی تو Safe Haven Demand مزید مضبوط ہوگی، لیکن سفارتی کامیابی Dollar کو نئی زندگی دے سکتی ہے۔ یہی غیر یقینی آنے والے دنوں میں USDCHF کو سب سے زیادہ متحرک رکھنے والی طاقت بن سکتی ہے۔
مختصر خلاصہ.
-
ٹرمپ کا خطاب: صدر ٹرمپ نے معاشی کامیابیوں کا دعویٰ کیا. لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے ٹیرف پر پابندی کو "بدقسمتی” قرار دیا، جس سے ڈالر پر دباؤ بڑھا۔
-
محفوظ پناہ گاہ (Safe-haven) کی طلب: ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنیوا مذاکرات سے قبل سرمایہ کار سوئس فرانک کو ترجیح دے رہے ہیں۔
-
تکنیکی صورتحال: جوڑا 0.7750 کی نفسیاتی سطح سے نیچے آ گیا ہے. جو مزید مندی کا اشارہ ہو سکتا ہے۔
-
آنے والے اہم اعدادوشمار: جمعہ کو جاری ہونے والے سوئس GDP اور امریکی PPI رپورٹس مارکیٹ کی اگلی سمت کا تعین کریں گی۔
USDCHF کیوں گر رہا ہے؟
USDCHF میں حالیہ گراوٹ کی بنیادی وجہ امریکی ڈالر کی کمزوری اور سوئس فرانک کی بطور "سیف ہیون” (Safe-haven) طلب میں اضافہ ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے نئے 15% عالمی ٹیرف کے اعلان نے تجارتی جنگ کے خدشات کو جنم دیا ہے. جبکہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو سوئس فرانک کی جانب راغب کیا ہے۔
ٹرمپ کی معاشی پالیسیاں اور ٹیرف کا اثر
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں معیشت کی بحالی کا سہرا اپنے سر لیا. لیکن ان کا یہ کہنا کہ ٹیرف پر سپریم کورٹ کا فیصلہ "بدقسمتی” تھا، مارکیٹ میں غیر یقینی کا باعث بنا۔ انہوں نے سیکشن 122 کے تحت 15% نئے عالمی ٹیرف (Global Tariffs) کا ذکر کیا ہے. جو کہ اگرچہ ان کے بقول ایک مضبوط حل ہے، مگر عالمی تجارت کے لیے خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔
مالیاتی منڈیوں میں میرے 10 سالہ تجربے کے دوران، میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی امریکہ یکطرفہ ٹیرف یا تجارتی پابندیوں کا ذکر کرتا ہے. ڈالر عارضی طور پر غیر مستحکم ہو جاتا ہے. کیونکہ عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کا خوف پیدا ہوتا ہے۔
ایران کے ساتھ کشیدگی اور جنیوا مذاکرات
جمعرات کو جنیوا میں ہونے والے ایٹمی مذاکرات سے قبل ماحول کافی کشیدہ ہے۔ لبنان سے امریکی سفارت خانے کے عملے کا انخلاء اس بات کی نشاندہی کرتا ہے. کہ صورتحال کسی بھی وقت بگڑ سکتی ہے۔ سوئس فرانک تاریخی طور پر جنگ یا سیاسی بحران کے دوران مضبوط ہوتا ہے۔ اگر مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت نہ ہوئی تو فرانک مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔
تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis): اہم لیولز
فی الوقت 0.7730 ایک مضبوط سپورٹ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اگر قیمت اس سے نیچے برقرار رہتی ہے، تو اگلا ہدف 0.7700 ہو سکتا ہے۔ اوپر کی جانب، 0.7780 اور 0.7810 مزاحمتی (Resistance) زونز ہیں جنہیں عبور کرنا ڈالر کے لیے ضروری ہے۔
| لیول کی قسم | قیمت (Price) | اہمیت |
| فوری سپورٹ (Immediate Support) | 0.7730 | موجودہ ٹریڈنگ رینج |
| نفسیاتی سپورٹ (Psychological Support) | 0.7700 | بڑی مندی کا سنگ میل |
| فوری ریزسٹنس (Immediate Resistance) | 0.7780 | ریکوری کے لیے پہلا رکاوٹ |
| مضبوط ریزسٹنس (Strong Resistance) | 0.7850 | رجحان کی تبدیلی کا اشارہ |
جیو پولیٹیکل عوامل اور سوئس فرانک کی پوزیشن
سوئٹزرلینڈ کی غیر جانبداری اور مستحکم معیشت کی وجہ سے سوئس فرانک (CHF) کو ہمیشہ مشکل حالات میں ترجیح دی جاتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں جہاں ایک طرف ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں نے امریکی ڈالر کو غیر مستحکم کیا ہے. وہیں مشرق وسطیٰ کی بے یقینی نے فرانک کو "پاور ہاؤس” بنا دیا ہے۔
یاد رکھیں کہ جیو پولیٹیکل حالات پر مبنی ٹریڈنگ میں "سٹاپ لاس” (Stop Loss) کا استعمال لازمی ہے. کیونکہ ایک مثبت خبر (جیسے ایران معاہدہ) قیمت کو تیزی سے اوپر لے جا سکتی ہے۔
رواں ہفتے کے اہم معاشی واقعات (Economic Calendar)
آنے والے دنوں میں دو بڑے ڈیٹا ریلیز ہونے والے ہیں جو مارکیٹ کا رخ بدل سکتے ہیں.
-
سوئس Q4 GDP: اگر سوئٹزرلینڈ کی جی ڈی پی کے اعدادوشمار توقع سے بہتر آئے. تو فرانک مزید مضبوط ہوگا۔
-
امریکی PPI (Producer Price Index): یہ رپورٹ مہنگائی (Inflation) کی شرح کو جانچنے کے لیے اہم ہے۔ اگر پروڈیوسر پرائس انڈیکس بڑھ کر آتا ہے. تو فیڈرل ریزرو (Fed) کی جانب سے سخت پالیسی کی امید میں ڈالر دوبارہ بحال ہو سکتا ہے۔
مستقبل کی پیش گوئی (Market Outlook)
قلیل مدتی طور پر (Short-term)، USDCHF کا رجحان منفی نظر آتا ہے۔ جب تک ایران مذاکرات کا نتیجہ سامنے نہیں آتا، مارکیٹ میں احتیاط برتی جائے گی۔ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں، تو ہم 0.7680 کی سطح بھی دیکھ سکتے ہیں۔ تاہم، اگر ٹرمپ کی پالیسیوں سے امریکی معیشت میں حقیقی بہتری کے آثار نظر آئے، تو طویل مدتی (Long-term) بنیادوں پر ڈالر دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر سکتا ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟
کیا آپ کو لگتا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوں گے یا سوئس فرانک اپنی اڑان جاری رکھے گا؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں!
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



