USDJPY: کیا 159.00 کی مزاحمت برقرار رہے گی؟ مارکیٹ کے بدلتے رجحانات کا تفصیلی جائزہ
US Iran Ceasefire, Fed Policy Shift and Yen Pressure Shape USDJPY Trend
امریکی ڈالر اور جاپانی ین (USDJPY) کی جوڑی اس وقت ایک انتہائی دلچسپ موڑ پر کھڑی ہے۔ عالمی سیاست میں اتار چڑھاؤ، خاص طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں عارضی کمی اور جاپان کی جانب سے ممکنہ مداخلت کے خدشات نے اس جوڑی کو ایک محدود دائرے (range) میں قید کر دیا ہے۔
USDJPY analysis and forecast کے حوالے سے سرمایہ کار اس وقت تذبذب کا شکار ہیں. کہ کیا ڈالر اپنی برتری برقرار رکھ پائے گا یا جاپانی ین دوبارہ سے طاقت پکڑ کر اسے نیچے لے جائے گا۔
اہم نکات (Key Points)
-
مزاحمتی سطح (Resistance Level): 159.00 کی سطح ایک مضبوط دیوار ثابت ہو رہی ہے. جسے عبور کرنا ڈالر کے لیے فی الحال مشکل نظر آتا ہے۔
-
امریکہ-ایران تعلقات: ایران کی جانب سے "آبنائے ہرمز” (Strait of Hormuz) کھولنے کے فیصلے نے ڈالر کو عارضی سہارا دیا ہے، لیکن Federal Reserve کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات ختم ہونے نے دباؤ بھی بڑھایا ہے۔
-
جاپانی مداخلت (Forex Intervention): بینک آف جاپان اور وزارت خزانہ کی جانب سے مارکیٹ میں مداخلت کے خوف نے خریداروں کو محتاط کر دیا ہے۔
-
ٹیکنیکل آؤٹ لک: چار گھنٹے کے ٹائم فریم پر "سمیٹریکل ٹرائینگل” (Symmetrical Triangle) کا ٹوٹنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ کا رجحان مندی (bearish) کی طرف مائل ہے۔
USDJPY میں حالیہ تیزی کی وجوہات کیا ہیں؟
حالیہ سیشنز میں USDJPY نے 158.00 کی سطح سے نیچے گرنے کے بعد دوبارہ بحالی کی کوشش کی ہے. اس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والی جغرافیائی سیاسی (Geopolitical) صورتحال ہے۔
جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی سویلین انفراسٹرکچر پر حملے دو ہفتوں کے لیے موخر کرنے کا اعلان کیا. تو عالمی منڈیوں نے سکھ کا سانس لیا۔ ایران کا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر آمادگی ظاہر کرنا عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک بڑی خبر ہے۔ چونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی اسی راستے سے گزرتی ہے. اس لیے سپلائی چین کے خدشات میں کمی نے ڈالر کو ایک "محفوظ پناہ گاہ” (Safe-Haven) کی حیثیت سے سہارا دیا۔
لیکن یہاں ایک باریک نکتہ ہے: جہاں ایک طرف ڈالر مستحکم ہوا. وہیں دوسری طرف عالمی افراط زر (Inflation) کی توقعات کم ہونے سے امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) کے جارحانہ رویے میں کمی آئی ہے۔ مارکیٹ اب یہ ماننے لگی ہے. کہ اس سال مزید شرح سود (Interest Rate) نہیں بڑھے گی. جو طویل مدت میں ڈالر کے لیے منفی ثابت ہو سکتا ہے۔
کیا جاپانی مداخلت (Open Market Intervention) کا خطرہ حقیقی ہے؟
جاپانی حکام کی جانب سے کرنسی مارکیٹ میں براہ راست مداخلت یعنی Open Market Intervention کا ڈر وہ بنیادی وجہ ہے جو USDJPY کو 159.00 سے اوپر جانے سے روک رہا ہے۔ جب بھی یہ جوڑی 160.00 کے قریب پہنچتی ہے. جاپان کے بینک آف جاپان (BoJ) کی جانب سے ین کی خریداری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
اپنے 10 سالہ تجربے میں میں نے دیکھا ہے کہ جب مارکیٹ نفسیاتی سطحوں (Psychological Levels) کے قریب پہنچتی ہے. تو مرکزی بینکوں کے بیانات صرف الفاظ نہیں ہوتے. بلکہ وہ مارکیٹ کے جذبات (Market Sentiment) کو کنٹرول کرنے کا ایک ہتھیار ہوتے ہیں۔ 2022 میں بھی جب ین اسی طرح دباؤ کا شکار تھا. تو مداخلت نے اچانک ہزاروں پپس کی موومنٹ پیدا کی تھی. جس نے ناتجربہ کار ٹریڈرز کے اکاؤنٹس صاف کر دیے تھے۔
USDJPY کا تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis)
اگر ہم چارٹ کا گہرائی سے جائزہ لیں تو صورتحال مندی (Bearish) کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
1. سمیٹریکل ٹرائینگل کا بریک ڈاؤن (Symmetrical Triangle Breakdown)
چار گھنٹے والے چارٹ پر USDJPY نے ایک سمیٹریکل ٹرائینگل پیٹرن بنایا تھا. جو اب نیچے کی طرف ٹوٹ چکا ہے۔ اس بریک ڈاؤن کا مطلب یہ ہے کہ خریداروں (bulls) کا کنٹرول ختم ہو رہا ہے. اور اب بیچنے والے (Sellers) مارکیٹ پر حاوی ہو سکتے ہیں۔
2. موونگ ایوریج (EMA 200) کی رکاوٹ
200-پیریڈ ایکسپونینشل موونگ ایوریج ($EMA$) اس وقت 158.40 کے قریب موجود ہے۔ جب تک قیمت اس سطح سے نیچے ہے. ہر اچھال (Rebound) کو بیچنے کے موقع کے طور پر دیکھا جائے گا۔ یہ سطح ایک "ڈائنامک ریزسٹنس” (Dynamic Resistance) کا کام کر رہی ہے۔

3. ریلیٹیو اسٹرینتھ انڈیکس (RSI)
$RSI$ اس وقت 28 کے قریب ہے، جو کہ "اوور سولڈ” (Oversold) زون میں داخل ہو چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیمتوں میں بہت زیادہ گراوٹ آ چکی ہے. اور یہاں سے ایک عارضی واپسی یا "پل بیک” (Pullback) متوقع ہے. لیکن یہ واپسی صرف فروخت کرنے والوں کے لیے ایک بہتر انٹری پوائنٹ ثابت ہوگی۔
| سطح (Level) | نوعیت (Type) | اہمیت (Significance) |
| 159.00 | میجر ریزسٹنس | اس کے اوپر کلوزنگ ٹرینڈ بدل سکتی ہے |
| 158.40 | فوری رکاوٹ | 200 EMA اور ٹرینڈ لائن کا ملاپ |
| 157.50 | فوری سپورٹ | اس کے ٹوٹنے پر گراوٹ تیز ہوگی |
| 157.00 | میجر سپورٹ | اگلا بڑا ہدف |
مستقبل کا منظرنامہ: ٹریڈرز کے لیے حکمت عملی
اگر آپ USDJPY میں ٹریڈنگ کر رہے ہیں. تو اس وقت "Sell on Rallies” یعنی اچھال پر فروخت کرنا ایک بہتر حکمت عملی نظر آتی ہے۔
اگلا ہدف کیا ہو سکتا ہے؟ اگر قیمت 157.50 کی سپورٹ لیول کو توڑ دیتی ہے. تو ہم USDJPY کو تیزی سے 157.00 اور پھر 156.50 کی طرف گرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ دوسری طرف، جب تک قیمت 159.00 کے نیچے ہے. کوئی بھی بڑی تیزی (Bullish Trend) متوقع نہیں ہے۔
میں نے اکثر دیکھا ہے کہ ریٹیل ٹریڈرز $RSI$ کے اوور سولڈ ہونے پر فوراً خریداری شروع کر دیتے ہیں. لیکن یاد رکھیں کہ مضبوط ٹرینڈ میں $RSI$ کافی دیر تک اوور سولڈ رہ سکتا ہے۔ ہمیشہ پرائس ایکشن (Price action) کی تصدیق کا انتظار کریں. صرف انڈیکیٹر پر بھروسہ نہ کریں۔
اختتامیہ.
USDJPY اس وقت ایک پیچیدہ صورتحال میں ہے۔ ایک طرف امریکی ڈالر کو جیو پولیٹیکل کشیدگی سے سہارا مل رہا ہے. تو دوسری طرف فیڈرل ریزرو کے نرم رویے اور جاپانی مداخلت کے خوف نے اس کی پرواز روک دی ہے۔ ٹیکنیکل اشارے واضح طور پر مندی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں. خاص طور پر جب تک قیمت 159.00 کی سطح سے نیچے برقرار ہے۔
سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ جاپانی حکام کے بیانات اور امریکہ کی ایران سے متعلق اگلی پالیسی پر گہری نظر رکھیں۔ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال زیادہ ہے. اس لیے "اسٹاپ لاس” (Stop Loss) کا استعمال لازمی کریں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا جاپان واقعی مارکیٹ میں مداخلت کرے گا یا ڈالر ایک بار پھر 160.00 کی سطح کو چھو لے گا؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



