جاپانی ین کی گراوٹ اور مداخلت: کیا USDJPY دوبارہ 157.00 سے اوپر جا سکتا ہے؟
Political Victory, Fiscal Stimulus Plans and Central Bank Policies Shape Currency Market Direction
USDJPY Analysis and Japan Intervention Impact کے حوالے سے حالیہ مارکیٹ اتار چڑھاؤ نے ٹریڈرز کو ایک اہم موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ جاپان میں ہونے والے حالیہ انتخابات اور بینک آف جاپان (BoJ) کی پالیسیوں نے فاریکس مارکیٹ میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
موجودہ صورتحال سرمایہ کاروں کے لیے ایک پیچیدہ مگر دلچسپ منظرنامہ پیش کر رہی ہے. جہاں جاپان کی مالیاتی پالیسی، سیاسی فیصلے اور امریکی معاشی ڈیٹا مل کر عالمی کرنسی مارکیٹ کی سمت کا تعین کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آنے والے ہفتوں میں USDJPY کی نقل و حرکت نہ صرف ایشیائی مارکیٹس بلکہ عالمی مالیاتی رجحانات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
اہم نکات (Key Points)
-
سیاسی اثرات: جاپان کی حکمران جماعت (LDP) کی جیت نے مالیاتی پیکجز (Fiscal Stimulus) کی راہ ہموار کر دی ہے. جس سے ین (JPY) پر دباؤ بڑھا ہے۔
-
زبانی مداخلت: وزیر خزانہ کاتایاما کی جانب سے کرنسی کی قدر مستحکم کرنے کے بیانات نے USDJPY کو 157.70 سے واپس 157.00 کے نیچے دھکیل دیا ہے۔
-
افراط زر کے اعداد و شمار: ٹوکیو میں افراطِ زر (Inflation) کی کمی نے بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود میں جلد اضافے کی امیدوں کو کم کر دیا ہے۔
-
امریکی فیڈرل ریزرو: فیڈ کی جانب سے 2026 میں مزید دو ریٹ کٹس (Rate Cuts) کی توقعات ڈالر کی بالادستی کو محدود کر رہی ہیں۔
-
ٹیکنیکل لیولز: 157.64 ایک مضبوط مزاحمت (Resistance) ہے. جبکہ 155.60 ایک اہم سپورٹ کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
جاپانی انتخابات اور ین کی کمزوری: کیا ہو رہا ہے؟
اتوار کو جاپان کے ایوان زیریں (Lower House) کے انتخابات میں وزیر اعظم ثنائے تاکایچی (Sanae Takaichi) کی جماعت (LDP) نے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔ ایک Expert Financial Market Content Strategist کے طور پر، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا. کہ مارکیٹ صرف جیت کو نہیں دیکھتی. بلکہ اس کے بعد آنے والی پالیسیوں کو دیکھتی ہے۔
تاکایچی نے اپنی مہم کے دوران کھانے پینے کی اشیاء پر 8% کنزیومر ٹیکس (Consumption Tax) دو سال کے لیے ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس قسم کے اقدامات اگرچہ عوام کے لیے پرکشش ہیں. لیکن ماہرین اسے قرضوں پر مبنی اخراجات (Debt-funded spending) کے طور پر دیکھ رہے ہیں. جو جاپانی معیشت کے مالیاتی ڈھانچے (Fiscal Outlook) کے لیے تشویشناک ہے۔
زبانی مداخلت (Verbal Intervention) کیا ہے؟ جب حکومت یا مرکزی بینک کے حکام صرف بیانات کے ذریعے کرنسی کی قیمت کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو اسے زبانی مداخلت کہا جاتا ہے۔ وزیر خزانہ کاتایاما کے حالیہ بیانات اسی زمرے میں آتے ہیں۔
مارکیٹ میں میرے 10 سالہ تجربے نے مجھے سکھایا ہے کہ جب بھی کوئی جاپانی اہلکار "کرنسی کی غیر مستحکم حرکت” کا ذکر کرتا ہے. تو وہ اصل میں ایک سرخ جھنڈا دکھا رہا ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ماضی میں بھی جب USDJPY نے 150 اور 160 کے نفسیاتی لیولز کو عبور کرنے کی کوشش کی. تو اسی طرح کی "زبانی مداخلت” نے عارضی طور پر بڑے ٹرینڈز کو پلٹ دیا تھا۔
بینک آف جاپان (BoJ) بمقابلہ امریکی فیڈرل ریزرو (Fed)
Tokyo Inflation کے اعداد و شمار اور BoJ کا موقف
پچھلے ہفتے ٹوکیو سے جاری ہونے والے سی پی آئی (CPI) کے اعداد و شمار توقع سے کم رہے۔ یہ فروری 2022 کے بعد سب سے کم سطح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ طلب کی کمی کی وجہ سے قیمتوں پر دباؤ کم ہے. جس سے بینک آف جاپان (BoJ) کے لیے شرح سود (Interest Rates) بڑھانا مشکل ہو گیا ہے۔
تاہم، BoJ کی حالیہ میٹنگ کے منٹس (Summary of Opinions) سے پتہ چلتا ہے کہ بورڈ کے ارکان اب بھی ہاکش (Hawkish – سخت پالیسی کے حامی) ہیں۔ وہ کمزور ین کی وجہ سے بڑھتی ہوئی قیمتوں پر فکر مند ہیں۔ اگر سروسز سیکٹر کی گروتھ اسی طرح جاری رہی. تو 2026 کی پہلی ششماہی میں ریٹ ہائیک (Rate Hike) ممکن ہے۔
امریکی ڈالر (USD) کی صورتحال
دوسری جانب، امریکی ڈالر دو ہفتوں کی بلند ترین سطح پر ہے۔ Federal Reserve کی گورنر لیزا کک کے بیانات نے ڈالر کو سہارا دیا ہے. کیونکہ ان کا خیال ہے کہ افراطِ زر کے خطرات اب بھی موجود ہیں۔ لیکن، ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کہ وہ کیون وارش (Kevin Warsh) جیسے امیدوار کو ترجیح دیں گے. جو شرح سود کم کرنے کے حق میں ہوں. ڈالر کی لمبی اڑان کے آگے بند باندھ رہے ہیں۔
| عنصر (Factor) | جاپانی ین (JPY) پر اثر | امریکی ڈالر (USD) پر اثر |
| انتخابات (Elections) | منفی (Negative) | غیر جانبدار |
| شرح سود (Interest Rates) | مستحکم/کم | کمی کی توقع |
| مداخلت کا خطرہ | مثبت (Supportive) | غیر جانبدار |
ٹیکنیکل انالیسس (Technical Analysis): USDJPY کے اگلے اہداف
USDJPY Analysis and Japan Intervention Impact کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے چارٹ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ٹیکنیکل لحاظ سے، اس جوڑے (Pair) نے حال ہی میں 156.50 کے اہم لیول کو عبور کیا ہے۔
-
موونگ ایوریج (SMA): 4 گھنٹے کے چارٹ پر 100-period SMA اور 61.8% فیبوناہی ریٹریسمنٹ (Fibonacci Retracement) کا ٹوٹنا بیلوں (Bulls) کے حق میں ہے۔
-
آر ایس آئی (RSI): آر ایس آئی 68.92 پر ہے، جو کہ اوور باؤٹ (Overbought) زون کے بالکل قریب ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ قیمتوں میں کسی بھی وقت تھوڑا سا پل بیک (Pullback) آ سکتا ہے۔
-
ایم اے سی ڈی (MACD): اگرچہ MACD مثبت علاقے میں ہے، لیکن اس کا ہسٹوگرام سکڑ رہا ہے. جو اس بات کی علامت ہے کہ خریدنے والوں کی طاقت (Momentum) کم ہو رہی ہے۔
اہم سپورٹ اور ریزسٹنس لیولز
-
مزاحمت (Resistance): 157.64 (78.6% Retracement)
-
سپورٹ (Support): 155.60 (50% Retracement)

کیا آپ کو ابھی USDJPY ٹریڈ کرنا چاہیے؟
موجودہ صورتحال میں "انتظار کرو اور دیکھو” کی پالیسی بہترین ہو سکتی ہے۔ ایک طرف جاپانی حکومت کی مداخلت کا ڈر ہے. اور دوسری طرف امریکی لیبر مارکیٹ کی رپورٹس (JOLTS اور Jobless Claims) آنے والی ہیں۔
ٹریڈرز کے لیے مشورہ: اگر USDJPY 157.64 کے لیول سے مسترد (Reject) ہوتا ہے..تو یہ ایک اچھا سیلنگ موقع ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ 158.00 کے اوپر بند ہوتا ہے. تو مداخلت کے باوجود مارکیٹ مزید اوپر جا سکتی ہے۔
امریکی ڈالر کو اس وقت تقویت ملی جب سرمایہ کاروں نے اندازہ لگایا کہ Federal Reserve مستقبل میں شرح سود میں کمی کر سکتا ہے مگر افراط زر کے خطرات ابھی ختم نہیں ہوئے۔ فیڈ کے بعض عہدیداروں کے بیانات نے مارکیٹ میں یہ تاثر پیدا کیا. کہ ڈالر ابھی بھی مضبوط رہ سکتا ہے۔ امریکی لیبر مارکیٹ کے ڈیٹا اور جاب رپورٹس کو اب سرمایہ کار انتہائی توجہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ اعداد و شمار USDJPY کی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔
حرف آخر.
مختصراً یہ کہ USDJPY اس وقت دو پاٹوں کے درمیان پس رہا ہے۔ جاپان کی سیاسی تبدیلی اور مالیاتی پالیسی ین کو کمزور کر رہی ہے. جبکہ زبانی مداخلت اور امریکی فیڈ کی پالیسی ڈالر کی برتری کو چیلنج کر رہی ہے۔ ایک تجربہ کار ٹریڈر کے طور پر، میرا مشورہ ہے. کہ ان بنیادی عوامل (Fundamentals) کو نظر انداز نہ کریں. کیونکہ موجودہ مارکیٹ صرف ٹیکنیکل لیولز پر نہیں بلکہ سیاسی بیانات پر چل رہی ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا جاپان کی زبانی مداخلت ین کو 150.00 تک واپس لا سکے گی. یا ڈالر 160.00 کا ہدف چھو لے گا؟
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



