PSX میں تیزی کی واپسی: کیا یہ غیر ملکی امداد کے اثرات ہیں؟

KSE100 Index Recovers Strongly as Foreign Aid Hits $4.51 Billion

PSX میں گزشتہ روز کی شدید مندی کے بعد آج ایک بار پھر خریداروں کی دلچسپی (Buying Interest) دیکھنے میں آئی۔  KSE100 Index نے 600 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ اپنی پوزیشن کو مستحکم کیا۔

جہاں ایک طرف مقامی معاشی اشاریے اور غیر ملکی امداد (Foreign Assistance) کے اعداد و شمار PSX کو سہارا دے رہے ہیں، وہاں عالمی مارکیٹس میں ہونے والی تبدیلیاں بھی پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے اہم اشارے فراہم کر رہی ہیں۔ اس مضمون میں ہم تفصیلی جائزہ لیں گے کہ موجودہ تیزی کے پیچھے کونسے عوامل کارفرما ہیں. اور آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی سمت کیا ہو سکتی ہے۔

اہم نکات

  • مارکیٹ ریکوری: KSE100 انڈیکس 654 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 187,688 پر بند ہوا۔

  • غیر ملکی امداد: مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی میں پاکستان کو 4.51 ارب ڈالر کی غیر ملکی امداد موصول ہوئی. جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہے۔

  • عالمی اثرات: امریکی صدر کے بیانات کے بعد عالمی مارکیٹس میں بہتری اور ڈالر کی قدر میں اضافے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا۔

  • تکنیکی صورتحال: مارکیٹ نے اپنے انٹرا ڈے کم ترین سطح (Intraday Low) سے شاندار واپسی کی. جو کہ نچلی سطح پر مضبوط سپورٹ کی نشاندہی کرتا ہے۔

کیا PSX میں حالیہ تیزی کی لہر برقرار رہے گی؟

PSX میں حالیہ تیزی بنیادی طور پر دو عوامل پر مبنی ہے. پہلا، ملک میں غیر ملکی زرمبادلہ کی آمد میں اضافہ اور دوسرا، عالمی سطح پر جیونی پولیٹیکل (Geopolitical) تناؤ میں عارضی کمی۔ جب مارکیٹ 186,825 کی سطح تک گری. تو وہاں "ویلیو بائینگ” (Value Buying) متحرک ہوئی.

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سرمایہ کار اب بھی طویل مدتی بنیادوں پر مارکیٹ میں مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ اگر معاشی اصلاحات کا سلسلہ جاری رہتا ہے. تو یہ تیزی برقرار رہ سکتی ہے۔

میں نے اپنے دس سالہ تجربے میں دیکھا ہے. کہ جب بھی مارکیٹ کسی بڑی نفسیاتی حد (Psychological Level) کو چھوتی ہے. تو وہاں شارٹ ٹرم ٹریڈرز پرافٹ ٹیکنگ کرتے ہیں. جیسا کہ بدھ کے روز ہوا۔ لیکن اصل طاقت وہ ادارہ جاتی سرمایہ کار (Institutional Investors) ہوتے ہیں جو ڈپ (Dip) پر خریداری کرتے ہیں۔ آج کی ریکوری اسی اسمارٹ منی (Smart Money) کی واپسی کا نتیجہ ہے۔

غیر ملکی امداد میں 20 فیصد اضافہ: معیشت کے لیے ایک مثبت پیغام

ایکنامک افیئرز ڈویژن (EAD) کے حالیہ ڈیٹا کے مطابق، مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) میں پاکستان کو 4.51 ارب ڈالر کی غیر ملکی امداد حاصل ہوئی ہے۔

امدادی رقوم کی تقسیم کا ڈھانچہ

ذیل میں دیے گئے ٹیبل سے آپ امداد کی نوعیت کو سمجھ سکتے ہیں:

امداد کی قسم رقم (ارب ڈالر) اہمیت
دوطرفہ قرضے و گرانٹس (Bilateral) 1.07 دوست ممالک سے تعلقات کی مضبوطی
کثیر الجہتی قرضے (Multilateral) 1.97 عالمی اداروں (ADB, World Bank) کا اعتماد
مجموعی اضافہ 20% (سالانہ) زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری

یہ اعداد و شمار مارکیٹ کے لیے اس لیے اہم ہیں. کیونکہ یہ ملک کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت (Repayment Capacity) پر اعتماد پیدا کرتے ہیں۔ جب ڈالر کی آمد یقینی ہوتی ہے. تو روپیہ مستحکم ہوتا ہے اور Pakistan Stock Exchange میں لسٹڈ کمپنیوں کی لاگت میں کمی آتی ہے۔

عالمی مارکیٹس کا بدلتا ہوا منظرنامہ اور پاکستان پر اثرات

آج PSX کی کارکردگی عالمی رجحانات سے بھی ہم آہنگ نظر آئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات، بالخصوص ٹیرف (Tariffs) کے خطرات میں کمی اور گرین لینڈ کے حوالے سے نرم رویے نے عالمی مارکیٹ میں "رِسک آن” (Risk-on) ماحول پیدا کر دیا ہے۔

KSE100 as on 22nd January 2026 after Bullish Rally in PSX
KSE100 as on 22nd January 2026 after Bullish Rally in PSX

عالمی مارکیٹ کے اہم اشارے:

  • وال اسٹریٹ: ایس اینڈ پی 500 (S&P 500) میں 1.16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا. جو گزشتہ دو ماہ کی سب سے بڑی چھلانگ ہے۔

  • جاپان اور کوریا: نکی (Nikkei) میں اضافہ ہوا جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی (Kospi) انڈیکس تاریخ میں پہلی بار 5,000 کی حد عبور کر گیا۔

  • کرنسی اور سونا: ڈالر انڈیکس (DXY) میں مضبوطی دیکھی گئی. جس کی وجہ سے یورو $1.17 سے نیچے آگیا اور سونے کی قیمتوں میں $100 فی اونس کی بڑی کمی واقع ہوئی۔

سرمایہ کاروں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جب سونا (Gold) گرتا ہے اور ڈالر مضبوط ہوتا ہے، تو سرمایہ عام طور پر ایکویٹی مارکیٹس (Equity Markets) کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ پاکستان جیسی ابھرتی ہوئی مارکیٹس (Emerging Markets) کے لیے یہ ایک مثبت اشارہ ہوتا ہے. بشرطیکہ مقامی حالات سازگار ہوں۔

انٹرا ڈے ریکوری: ٹریڈرز کے لیے سبق

آج کے سیشن کا آغاز مندی سے ہوا اور KSE100 انڈیکس 186,825 تک گر گیا، لیکن یہاں سے ہونے والی ریکوری انتہائی اہم ہے۔ اسے تکنیکی زبان میں "مین ریورژن” (Mean Reversion) کہا جاتا ہے. جہاں قیمتیں اپنی اوسط کی طرف واپس آتی ہیں۔

اکثر نوآموز ٹریڈرز صبح کی مندی دیکھ کر خوفزدہ ہو کر پوزیشنز کاٹ دیتے ہیں۔ مگر تجربہ کار ٹریڈر انٹرا ڈے سپورٹ لیولز پر نظر رکھتے ہیں۔ آج کی 600 پوائنٹس کی ریکوری ان لوگوں کے لیے ایک بہترین موقع تھا. جنہوں نے "اوور سولڈ” (Oversold) مارکیٹ کا فائدہ اٹھایا۔

اختتامیہ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی آج کی کارکردگی اس بات کی عکاس ہے کہ مارکیٹ میں اب بھی دم خم موجود ہے۔ 4.51 ارب ڈالر کی غیر ملکی امداد نے معاشی بنیادوں کو سہارا دیا ہے، جبکہ عالمی مارکیٹس سے آنے والی مثبت خبروں نے اسے مہماز (catalyst) فراہم کیا ہے۔ تاہم، سرمایہ کاروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ مارکیٹ کبھی بھی یکطرفہ سفر نہیں کرتی۔ اتار چڑھاؤ (volatility) مارکیٹ کا حصہ ہے اور ایک سمجھدار سرمایہ کار وہی ہے جو جذباتی ہونے کے بجائے ڈیٹا اور حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا KSE100 انڈیکس رواں ماہ 190,000 کی حد عبور کر پائے گا؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button