USDJPY کی مضبوطی، Bank Of Japan کی محتاط پالیسی نے Japanese Yen کو دباؤ میں ڈال دیا

BoJ’s cautious policy stance weakens the Japanese Yen as USDJPY gains momentum amid Fed rate cut expectations.

فاریکس مارکیٹ (Forex Market) میں اس وقت USDJPY Price Analysis and BoJ Monetary Policy Impact سب سے زیادہ زیرِ بحث موضوع بنا ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں جاپانی ین (JPY) نے امریکی ڈالر (USD) کے مقابلے میں اپنی قدر کھوئی ہے. اور USDJPY کا جوڑا 156.50 کی سطح سے اوپر نکل گیا ہے۔

حالانکہ بینک آف جاپان (BoJ) نے اپنی شرح سود (interest rates) میں 25 بنیادی پوائنٹس کا اضافہ کر کے اسے 0.75% کر دیا ہے. لیکن مارکیٹ میں اس فیصلے کو "ضرورت سے زیادہ محتاط” قرار دیا جا رہا ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم گہرائی سے جائزہ لیں گے کہ آخر کیوں ریٹ بڑھنے کے باوجود ین کمزور ہو رہا ہے. اور آنے والے دنوں میں ٹوکیو سی پی آئی (Tokyo CPI) ڈیٹا اس جوڑے پر کیا اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

یہ مکمل مالی منظرنامہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ جب ایک جانب Bank Of Japan کی محتاط حکمتِ عملی Japanese Yen کو کمزور کر رہی ہو. اور دوسری جانب Federal Reserve کی نرم پالیسی توقعات مارکیٹ میں غیر یقینی پیدا کر رہی ہوں. تو USDJPY محض ایک کرنسی جوڑی نہیں بلکہ عالمی مالی اعتماد کی عکاسی بن جاتی ہے۔

اہم نکات.

  • بینک آف جاپان کی پالیسی: ریٹ میں 25 bps اضافے کے باوجود، مستقبل کے لیے واضح گائیڈنس نہ ہونے کی وجہ سے ین دباؤ کا شکار ہے۔

  • ٹیکنیکل لیولز: USDJPY اہم 158.00 کی مزاحمت (Resistance) عبور کرنے میں ناکام رہا ہے. اور فی الحال 155.80 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔

  • مداخلت کا خطرہ: جاپانی وزیر خزانہ کی جانب سے مارکیٹ میں مداخلت (Intervention) کی دھمکیاں ین کو مزید گرنے سے روک رہی ہیں۔

  • فیڈرل ریزرو کا کردار: 2026 میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے ریٹ کٹوتی کی توقعات ڈالر کی طویل مدتی مضبوطی کو محدود کر رہی ہیں۔

بینک آف جاپان نے ریٹ کیوں بڑھائے اور مارکیٹ مایوس کیوں ہوئی؟

بینک آف جاپان نے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے شرح سود میں 0.75% تک اضافہ کیا. لیکن سرمایہ کار اس لیے مایوس ہوئے کیونکہ بینک نے مستقبل میں مزید اضافے کا کوئی واضح ٹائم فریم یا منصوبہ پیش نہیں کیا۔ اس "خاموشی” کو مارکیٹ نے کمزوری کی علامت سمجھا. جس سے ین کی فروخت (Selling) میں اضافہ ہوا۔

جب کوئی مرکزی بینک (Central Bank) شرح سود بڑھاتا ہے. تو عام طور پر اس کی کرنسی مضبوط ہوتی ہے۔ لیکن یہاں معاملہ مختلف تھا۔ جاپانی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ اگلا قدم کب اٹھائیں گے۔

مارکیٹ کے بڑے کھلاڑی (Institutional Investors) ہمیشہ مستقبل کی پیش گوئی (Forward Guidance) پر نظر رکھتے ہیں۔ جب انہیں BoJ کی جانب سے کوئی ٹھوس یقین دہانی نہ ملی. تو انہوں نے ‘Carry Trade’ (کم شرح سود والی کرنسی بیچ کر زیادہ منافع والی کرنسی خریدنا) کو جاری رکھنے کو ترجیح دی۔

اپنے دس سالہ تجربے میں، میں نے دیکھا ہے کہ مارکیٹ اکثر ‘واقعہ’ (The Event) سے زیادہ ‘ارادے’ (The Intent) کو اہمیت دیتی ہے۔ 2014-15 کے دوران بھی جب مرکزی بینکوں نے اسی طرح کے مبہم بیانات دیے تھے. تو مارکیٹ نے ان کے خلاف پوزیشنز لی تھیں۔ ریٹ ہائیک صرف ایک نمبر ہے. لیکن اس کے پیچھے کی کہانی (Storyline) اصل ٹرینڈ طے کرتی ہے۔

جاپانی ین کی گراوٹ اور حکومتی مداخلت کا خوف

(Japanese Yen depreciation and the fear of government intervention)

جاپانی وزیر خزانہ ساتسوکی کاتایاما نے خبردار کیا ہے. کہ اگر ین کی قدر میں یکطرفہ اور تیزی سے کمی ہوئی. تو حکومت مارکیٹ میں براہِ راست مداخلت (intervention) کر کے ڈالر فروخت کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ 158.00 کے قریب پہنچتے ہی ین میں خریداری کی لہر دیکھی گئی۔

جاپان کے لیے کمزور ین ایک دو دھاری تلوار ہے۔ ایک طرف اس سے برآمدات (Exports) سستی ہوتی ہیں. لیکن دوسری طرف درآمدی تیل اور خوراک مہنگی ہو جاتی ہے، جس سے عام آدمی پر بوجھ بڑھتا ہے۔ جب USDJPY   نفسیاتی سطح 158.00 کے قریب پہنچتا ہے. تو ٹریڈرز محتاط ہو جاتے ہیں کہ کہیں جاپانی بینک (BoJ) اچانک ڈالر بیچنا شروع نہ کر دے۔

کیا مداخلت پائیدار حل ہے؟

تاریخی طور پر، کرنسی کی مداخلت صرف عارضی ریلیف فراہم کرتی ہے۔ جب تک جاپان اور امریکہ کے درمیان شرح سود کا فرق (Interest rate differential) کم نہیں ہوتا. تب تک ین پر دباؤ برقرار رہے گا۔

ٹوکیو سی پی آئی (Tokyo CPI) ڈیٹا کی اہمیت

ٹوکیو سی پی آئی کو پورے جاپان کی مہنگائی کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر دسمبر کے اعداد و شمار توقع (2.5%) سے زیادہ آتے ہیں. تو یہ BoJ پر جلد ریٹ بڑھانے کے لیے دباؤ ڈالے گا. جس سے ین مضبوط ہوگا۔ اگر ڈیٹا کم آتا ہے، تو ین مزید کمزور ہو سکتا ہے۔

ڈیٹا پوائنٹ متوقع (Expected) گزشتہ (Previous) ممکنہ اثر (Potential Impact)
ٹوکیو سی پی آئی (Tokyo CPI) 2.5% 2.8% اگر 2.5% سے کم ہوا تو ین گرے گا
بنیادی مہنگائی (Core CPI) مستحکم زیادہ ین میں مضبوطی

سرمایہ کاروں کی نظریں جمعہ کو جاری ہونے والے ان اعداد و شمار پر ہیں. کیونکہ یہ جنوری کی پالیسی میٹنگ کا رخ متعین کریں گے۔

امریکی ڈالر کا منظرنامہ اور فیڈرل ریزرو کی توقعات

(US Dollar outlook and Fed expectations for 2026)

اگرچہ USDJPY اس وقت اوپر ہے. لیکن امریکی ڈالر کی طویل مدتی بنیادیں کچھ کمزور نظر آ رہی ہیں۔ CME FedWatch ٹول کے مطابق، 70.6% امکان ہے کہ فیڈرل ریزرو 2026 میں شرح سود میں کم از کم 50 بنیادی پوائنٹس کی کمی کرے گا۔

ڈالر کی کمزوری کی وجوہات:

  1. امریکی معیشت میں ٹھہراؤ کے آثار۔

  2. مہنگائی کے اہداف کا حصول۔

  3. 2026 کے لیے ڈووش (Dovish) یعنی نرم مانیٹری پالیسی کی توقعات۔

یہ وہ مقام ہے. جہاں USDJPY کا جوڑا ایک توازن تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف کمزور ین اسے اوپر کھینچ رہا ہے، تو دوسری طرف مستقبل میں ڈالر کی ممکنہ کمزوری اسے نیچے دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

USDJPY تکنیکی تجزیہ: اہم لیولز اور رجحانات

ٹیکنیکل چارٹ پر نظر ڈالیں تو USDJPY اس وقت ایک دلچسپ موڑ پر ہے۔ یورپی سیشن کے دوران جوڑا 155.80 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے. جو کہ اس کے حالیہ عروج (158.00) سے تھوڑا نیچے ہے۔

  • سپورٹ لیولز (Support Levels): پہلا بڑا سپورٹ 155.00 پر ہے. اور اس کے بعد 154.20 کی سطح اہم ہے۔

  • ریزسٹنس لیولز (Resistance Levels): 158.00 ایک بڑی رکاوٹ (Major hurdle) ہے۔ جب تک قیمت اس سے اوپر بند (Close) نہیں ہوتی. نیا اپ ٹرینڈ شروع ہونا مشکل ہے۔

ٹیکنیکل ٹریڈنگ میں، ‘فیلڈ بریک آؤٹ’ (Failed Breakout) ایک بہت بڑا سگنل ہوتا ہے۔ USDJPY کا 158.00 سے ٹکرا کر واپس آنا یہ ظاہر کرتا ہے. کہ سپلائی زون میں سیلرز (Sellers) بہت زیادہ متحرک ہیں۔ میں اکثر ایسے مواقع پر ‘RSI Divergence’ چیک کرتا ہوں تاکہ مومنٹم کی کمی کا اندازہ لگایا جا سکے۔

USDJPY as on 2nd January 2026
USDJPY as on 2nd January 2026

حرف آخر.

USDJPY کی حالیہ نقل و حرکت بینک آف جاپان کی محتاط پالیسی اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کا مجموعہ ہے۔ اگرچہ ین اس وقت دباؤ میں ہے. لیکن ٹوکیو سی پی آئی ڈیٹا اور ممکنہ حکومتی مداخلت کسی بھی وقت پانسہ پلٹ سکتی ہے۔ ایک پیشہ ور ٹریڈر کے طور پر، آپ کو صرف چارٹ نہیں بلکہ پالیسی سازوں کے بیانات پر بھی گہری نظر رکھنی چاہیے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا جاپانی حکومت 158.00 کی سطح پر مداخلت کرے گی. یا ہم ین کو مزید گرتے ہوئے دیکھیں گے؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button