USDJPY Analysis: ‘Takaichi Trade’ اور جاپانی ین کی صورتحال
Political Uncertainty in Japan and US Data Keep Yen Under Stress
جنوری 2026 کے وسط میں فاریکس مارکیٹ (Forex Market) ایک دلچسپ موڑ پر کھڑی ہے۔ جاپانی ین (JPY) اور امریکی ڈالر (USD) کے درمیان جاری رسہ کشی نے ٹریڈرز کو تذبذب میں ڈال رکھا ہے۔ خاص طور پر USDJPY Takaichi Trade Analysis اس وقت عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ہے. کیونکہ جاپان کی پہلی خاتون وزیر اعظم، ثناء تاکایچی (Sanae Takaichi)، کی پالیسیوں نے مارکیٹ میں ایک نیا ہیجان پیدا کر دیا ہے۔
بدھ کے روز ایشیائی سیشن کے دوران USDJPY جوڑی 158.50 کے قریب ایک محدود رینج میں ٹریڈ کرتی رہی۔ جہاں ایک طرف امریکی ڈالر کی مضبوطی نے اپنی جگہ بنائی ہوئی ہے. وہیں دوسری طرف جاپانی ین میں معمولی ریکوری (recovery) دیکھی گئی، لیکن یہ تیزی دیرپا ثابت ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ جاپان میں فروری کے اوائل میں ممکنہ طور پر ہونے والے سنیپ الیکشن (snap elections) کی خبریں ہیں۔
جاپان کی وزیرِاعظم قبل از وقت انتخابات کے لیے ایوانِ زیریں تحلیل کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ مارکیٹ کو خدشہ ہے. کہ اگر انتخابات کے نتیجے میں Takaichi کو زیادہ پارلیمانی حمایت ملی تو بڑے مالیاتی پیکجز اور کم شرحِ سود کی پالیسی کو تقویت ملے گی. جو مستقبل میں مالیاتی بحران کے خدشات کو جنم دے سکتی ہے۔ یہی خوف Takaichi Trade کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے. جس کے تحت سرمایہ کار JPY اور طویل مدتی JGBs فروخت کر رہے ہیں۔
اہم نکات (Key Highlights)
-
تاکایچی ٹریڈ (Takaichi Trade): جاپانی وزیر اعظم کی جانب سے بڑے مالیاتی پیکج (Stimulus) اور شرح سود کم رکھنے کی پالیسی ین پر دباؤ ڈال رہی ہے۔
-
سنیپ الیکشن کا اثر: فروری 2026 میں ممکنہ انتخابات ین کی قدر میں اضافے کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
-
امریکی ڈالر کی پوزیشن: فیڈرل ریزرو (Fed) کے حکام کے بیانات اور معاشی ڈیٹا (PPI اور Retail Sales) ڈالر کی سمت کا تعین کریں گے۔
-
تکنیکی سطح (Technical Levels): USDJPY کے لیے 159.45 ایک اہم مزاحمتی سطح (Resistance) ہے. جبکہ 158.00 کا لیول سپورٹ فراہم کر رہا ہے۔
Takaichi Trade کیا ہے اور یہ USDJPY کو کیوں متاثر کر رہی ہے؟
Takaichi Trade سے مراد وہ سرمایہ کاری کا رجحان ہے جہاں ٹریڈرز جاپانی ین کو فروخت (sell) کرتے ہیں اور جاپانی اسٹاک مارکیٹ میں خریداری کرتے ہیں۔
یہ اس مفروضے پر مبنی ہے. کہ وزیر اعظم ثناء تاکایچی "ابے نومکس” (Abenomics) کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بڑے پیمانے پر سرکاری اخراجات کریں گی. اور بینک آف جاپان (BoJ) کو شرح سود بڑھانے سے روکیں گی۔ اس کے نتیجے میں ین کمزور ہوتا ہے. کیونکہ مارکیٹ میں کرنسی کی سپلائی بڑھنے اور ریٹ کم رہنے کی توقع ہوتی ہے۔
جاپانی سیاست میں اس وقت یہ افواہیں گرم ہیں. کہ وزیر اعظم اگلے ہفتے ایوان زیریں (Lower House) کو تحلیل کر کے فروری کے شروع میں نئے انتخابات کرانے کا اعلان کر سکتی ہیں۔ مارکیٹ کو خدشہ ہے کہ اگر Takaichi کو پارلیمنٹ میں بڑی اکثریت مل گئی. تو وہ اپنی ان پالیسیوں کو مزید جارحانہ انداز میں نافذ کریں گی. جنہیں "سناء نومکس” (Sanaenomics) کہا جا رہا ہے۔
میں نے اپنے 10 سالہ کریئر میں دیکھا ہے. کہ جب بھی جاپان میں سیاسی عدم استحکام یا ‘Aggressive Easing’ کی باتیں ہوتی ہیں. تو ین ‘Carry Trade’ کے لیے سب سے پسندیدہ کرنسی بن جاتی ہے۔ 2012 میں جب شنزو ابے اقتدار میں آئے تھے. تو بالکل ایسا ہی منظر نامہ تھا، اور اب 2026 میں Takaichi کے دور میں تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔
امریکی ڈالر کی صورتحال: کیا فیڈرل ریزرو ہاکش (Hawkish) رہے گا؟
امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) اگرچہ اپنی حالیہ بلندیوں سے تھوڑا پیچھے ہٹا ہے. لیکن اس کا مجموعی رجحان (Trend) تاحال تیزی (Bullish) کی جانب ہے۔ سرمایہ کاروں کی نظریں آج جاری ہونے والے امریکی ریٹیل سیلز (Retail Sales) اور پی پی آئی (PPI) ڈیٹا پر ہیں. جو امریکی معیشت کی صحت کا پتا دیں گے۔
فیڈرل ریزرو کے حکام کے بیانات
آج امریکی سیشن میں فیڈرل ریزرو کے کئی اہم اراکین بشمول اسٹیفن میرن (Stephen Miran) ، انا پالسن (Anna Paulson) ، اور جان ولیمز (John Williams) خطاب کریں گے۔ اگر ان کی باتوں سے یہ تاثر ملا. کہ افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے شرح سود کو توقع سے زیادہ عرصے تک بلند رکھا جائے گا. تو ڈالر میں مزید تیزی آ سکتی ہے. جو USDJPY کو 160.00 کی نفسیاتی سطح (Psychological Level) کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
سپریم کورٹ اور ٹرمپ ٹیرفس: ایک نیا خطرہ
امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے تجارتی ٹیرفس (Trade Tariffs) کے حوالے سے متوقع فیصلہ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہا ہے۔ اگر عدالت ٹیرفس کے حق میں فیصلہ دیتی ہے. تو یہ امریکی ڈالر کے لیے مثبت (Bullish) ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ٹیرفس عموماً افراط زر میں اضافے کا باعث بنتے ہیں. جس سے فیڈرل ریزرو کو شرح سود بلند رکھنے کا جواز ملتا ہے۔
دوسری طرف، اگر ٹیرفس کے حوالے سے کوئی قانونی رکاوٹ آتی ہے. تو عالمی تجارت میں بہتری کی امید پر ڈالر پر دباؤ آ سکتا ہے. اور ین کو سانس لینے کا موقع مل سکتا ہے۔
تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis): USDJPY کے اہم لیولز
USDJPY جوڑی اس وقت ایک اہم موڑ پر ہے۔ تکنیکی لحاظ سے، قیمت 159.45 کے دو سالہ بلند ترین سطح (Two-Year High) سے پیچھے ہٹی ہے. لیکن 158.00 کا زون ایک مضبوط سپورٹ کے طور پر کام کر رہا ہے۔
| سطح (Level) | قیمت (Price) | اہمیت (Significance) |
| مزاحمت 1 (Resistance) | 159.45 | حالیہ بلند ترین سطح، اس سے اوپر بریک آؤٹ 160.00 کی راہ ہموار کرے گا۔ |
| موجودہ قیمت (Pivot) | 158.50 | کنسولیڈیشن زون (Consolidation Zone)۔ |
| سپورٹ 1 (Support) | 158.00 | نفسیاتی سپورٹ، جہاں خریدار دوبارہ متحرک ہو سکتے ہیں۔ |
| سپورٹ 2 (Support) | 156.70 | اگر 158.00 ٹوٹا تو قیمت یہاں تک گر سکتی ہے۔ |
موجودہ چارٹ پیٹرن (Chart Pattern) ظاہر کرتا ہے. کہ جب تک قیمت 158.00 سے اوپر ہے. "بائے آن ڈپ” (Buy on dip) کی حکمت عملی موثر رہ سکتی ہے۔ تاہم، RSI انڈیکیٹر (Relative Strength Index) اوور بوٹ (overbought) حالات کی نشاندہی کر رہا ہے. جس کا مطلب ہے کہ کسی بھی وقت ایک عارضی گراوٹ آ سکتی ہے۔

سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ
USDJPY میں اس وقت سیاسی عوامل (Political Factors) معاشی ڈیٹا پر غالب آ رہے ہیں۔ ‘تاکایچی ٹریڈ’ نے ین کی ریکوری کو محدود کر دیا ہے۔ اگر آپ ایک ٹریڈر ہیں، تو آپ کو درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:
-
جاپانی انتخابات کی خبریں: پارلیمنٹ کی تحلیل کی خبر ین کو مزید کمزور کر سکتی ہے۔
-
امریکی ڈیٹا: آج کے معاشی اعداد و شمار ڈالر کی سمت طے کریں گے۔
-
بی او جے مداخلت (BoJ Intervention): اگر ین 160.00 سے تجاوز کر گیا. تو جاپانی حکام مارکیٹ میں مداخلت کر کے ین کو سہارا دینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
میں نے اکثر دیکھا ہے کہ جب مارکیٹ ایک طرفہ ہو جاتی ہے. جیسے کہ ‘Takaichi Trade’ میں ہو رہا ہے. تو اچانک آنے والی کوئی بھی خبر، جیسے سپریم کورٹ کا فیصلہ، ایک بڑا ‘Short Squeeze’ پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے ہمیشہ اسٹاپ لاس (Stop Loss) کا استعمال کریں اور ضرورت سے زیادہ بیلیج (Leverage) سے بچیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ جاپانی حکومت ین کو 160.00 سے اوپر جانے دے گی. یا ہمیں ایک بڑی مداخلت (Intervention) دیکھنے کو ملے گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



