پاکستان کی Remittances میں اضافہ، مگر FDI میں خطرناک کمی — معیشت کا نازک توازن

September sees a sharp rise in inward remittances but a concerning decline in foreign direct investment amid fiscal discipline and inflationary risks

پاکستان اکنامک آؤٹ لک اکتوبر 2025 (Pakistan Economic Outlook October 2025) کی تازہ ترین رپورٹ ملک کے معاشی حالات کا ایک ملا جلا نقشہ پیش کر رہی ہے. ایک طرف مضبوط ترسیلاتِ زر Remittances معیشت کو سہارا دے رہی ہیں. تو دوسری طرف براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری FDI میں شدید گراوٹ طویل مدتی استحکام کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔

ایک تجربہ کار معاشی مارکیٹ حکمت عملی ساز (Financial Market Strategist) کے طور پر، ان اعداد و شمار کو محض رپورٹس کے بجائے مارکیٹ کے اگلے اقدام کے اشارے کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔

خلاصہ (Key Points)

 

  • ترسیلاتِ زر میں اضافہ: ستمبر 2025 میں Remittances میں سال بہ سال (YoY) 11.3 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا. جو ملک کے بیرونی کھاتے (External Account) کے لیے ایک اہم سہارا ہے۔

  • FDI میں تشویشناک کمی: براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (Foreign Direct Investment – FDI) میں ستمبر میں 55.5 فیصد کی خطرناک کمی دیکھی گئی. جو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کی نشاندہی ہے۔

  • مالیاتی استحکام (Fiscal Stability): حکومت نے مالی سال 2026 کے جولائی-اگست میں 1,509.2 ارب روپے کا بڑا وفاقی مالیاتی فاضل (Federal Fiscal Surplus) ریکارڈ کیا. جو سخت مالیاتی نظم و ضبط (Fiscal Discipline) کی عکاسی کرتا ہے۔

  • مہنگائی کا دباؤ (Inflation Pressure): سیلاب اور سپلائی میں رکاوٹوں کے سبب اکتوبر 2025 میں افراطِ زر (Inflation) کے 5-6 فیصد کی حد میں رہنے کی توقع ہے۔

  • اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی: تمام تر معاشی چیلنجز کے باوجود، پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں بلش مومینٹم (Bullish Momentum) جاری رہا. اور KSE-100 انڈیکس ستمبر کے اختتام پر 165,493 پر بند ہوا۔

غیر ملکی سرمایہ کاری میں گراوٹ کیوں تشویشناک ہے؟

 

براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری FDI اور مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی طویل مدتی معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع کے لیے ایک بڑا منفی اشارہ ہے۔

ستمبر 2025 میں پاکستان نے FDI میں سال بہ سال (YoY) 55.5 فیصد کی تشویشناک کمی دیکھی. جو USD417.4 ملین سے کم ہو کر USD185.6 ملین رہ گئی۔ مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری (جس میں پورٹ فولیو سرمایہ کاری بھی شامل ہے) میں اس سے بھی زیادہ 64.5 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی. جو پچھلے سال کے USD446.9 ملین سے اس بار (-) USD361.1 ملین کے منفی بہاؤ میں بدل گئی۔

 

براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں 55.5 فیصد کمی کے مارکیٹ پر کیا اثرات ہیں؟

یہ کمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ غیر ملکی کمپنیاں سرمایہ کاری کے ماحول، پالیسی کے استحکام، اور کرنسی کے خطرے (Currency Risk) کے بارے میں محتاط ہیں۔ جب FDI کم ہوتی ہے. تو یہ صرف ڈالر کے بہاؤ میں کمی نہیں ہے بلکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی (Technology Transfer) ، انتظامی مہارت (Management Expertise) اور نئے روزگار کی تخلیق میں بھی رکاوٹ ہے۔

ایک تجربہ کار سرمایہ کار (Experienced Investor) کے لیے، یہ اعداد و شمار حکومتی پالیسیوں میں تسلسل اور عمل درآمد کے چیلنجوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

میری 10 سالہ مارکیٹ کے تجربے سے حاصل ہونے والی بصیرت یہ ہے کہ FDI میں تیز گراوٹ اکثر غیر ملکی سرمایہ کاروں کی طرف سے بڑھتے ہوئے پالیسی عدم اطمینان (policy uncertainty) کے "سگنل” کے طور پر کام کرتی ہے۔ وہ اپنے سرمائے کو پُرسکون مارکیٹوں میں لے جاتے ہیں. اور FDI کو واپس لانا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔ ہمیں اس بات پر نظر رکھنی چاہیے. کہ کون سے شعبے اب بھی سرمایہ کاری کو راغب کر رہے ہیں۔

اس رپورٹ میں پاور ($244.3 ملین) اور مالیاتی خدمات ($180.2 ملین) سرفہرست رہے. جو صاف ظاہر کرتا ہے کہ بنیادی ڈھانچے (Infrastructure) اور مالیاتی خدمات کو ابھی بھی اہمیت دی جا رہی ہے. لیکن دیگر شعبوں کو بھی راغب کرنے کے لیے پالیسیوں میں یکسانیت لانا ضروری ہے۔

Remittances میں اضافہ: ایک مضبوط تکیہ

ترسیلاتِ زر Remittances کا مضبوط بہاؤ زرمبادلہ کے ذخائر (Foreign Exchange Reserves) کو سہارا دینے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے (Current Account Deficit) کو کم کرنے میں ایک بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

  • ستمبر 2025 میں ترسیلاتِ زر سال بہ سال 11.3 فیصد بڑھی ہیں۔

  • جولائی-ستمبر مالی سال 2026 کے دوران، ترسیلاتِ زر 8.4 فیصد کے اضافے کے ساتھ $9.53 ارب تک پہنچ گئی ہیں۔

  • سب سے زیادہ ترسیلات سعودی عرب (24.2% شیئر) اور متحدہ عرب امارات (20.8%) سے آئیں۔

Remittances میں یہ اضافہ ملک کے بیرونی عدم توازن (External Imbalances) کو متوازن کرنے میں ایک اہم جزو ہے. اور اس نے ستمبر میں $110 ملین کے کرنٹ اکاؤنٹ فاضل (Current Account Surplus) کو حاصل کرنے میں مدد دی۔ یہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے اعتماد اور تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔

Inflation اور سیلاب کا خطرہ.

مارکیٹ کی توجہ اس وقت افراطِ زر (Inflation) کے رجحان اور معیشت پر سیلاب کے اثرات پر مرکوز ہے۔

  • مہنگائی کا تخمینہ: اکتوبر 2025 میں مہنگائی 5-6 فیصد کی حد میں رہنے کی توقع ہے۔

  • وجوہات: سیلاب سے متعلق سپلائی میں رکاوٹیں اور عارضی سرحدی بندشوں کی وجہ سے چند ضروری اشیاء کی قیمتوں پر اوپر کا دباؤ ہے۔

  • سابقہ ڈیٹا: ستمبر 2025 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) مہنگائی 5.6 فیصد (سال بہ سال) ریکارڈ کی گئی. جو اگست کے 3.0 فیصد سے کافی زیادہ تھی۔

کیا سیلاب کے اثرات سے بازیابی ممکن ہے؟

ابتدائی اندازے کے مطابق زراعت کے شعبے کو 430 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے. لیکن رپورٹ میں کہا گیا ہے. کہ بحالی کی کوششیں جاری ہیں. جن کی حمایت میں زرعی قرضوں میں اضافہ، مشینری کی زیادہ درآمدات، اور کھاد کی بہتر فروخت شامل ہے۔ یہ اشارے دکھاتے ہیں کہ حکومت اور نجی شعبہ معیشت کے اس اہم حصے کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لیے فعال طور پر کام کر رہا ہے.

مالیاتی نظم و ضبط اور کیپیٹل مارکیٹ

کیا حکومت مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے؟

 

 مالی سال 2026 کے ابتدائی مہینوں (جولائی-اگست) میں مالیاتی نتائج نے سخت مالیاتی نظم و ضبط کی عکاسی کی ہے۔

  • نیٹ فیڈرل ریونیو میں اضافہ: نیٹ فیڈرل ریونیو 231.4 فیصد بڑھ کر 3,269.8 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

  • مالیاتی فاضل (Fiscal Surplus): وفاقی مالیاتی توازن نے 1,509.2 ارب روپے کا فاضل (Surplus) ریکارڈ کیا، جبکہ پچھلے سال اسی عرصے میں 648.8 ارب روپے کا خسارہ تھا۔

  • اولین فاضل (Primary Surplus): بنیادی توازن (Primary Balance) میں بھی تیزی سے بہتری آئی. اور یہ 2,938.9 ارب روپے کے فاضل پر کھڑا ہوا۔ یہ حکومتی قرضوں کے انتظام (Debt Management) کے لیے ایک اہم، مثبت سنگِ میل ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کا بلش مومینٹم (Bullish Momentum)

 

مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری اور ڈالر کے بہاؤ (Remittances) کی مضبوطی نے سرمایہ کاروں کے جذبات (Investor Sentiment) کو مثبت رکھا ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) نے ستمبر 2025 میں اپنا بلش مومینٹم جاری رکھا۔ KSE-100 انڈیکس 16,875 پوائنٹس بڑھ کر 165,493 پر بند ہوا. جس سے مارکیٹ کیپٹلائزیشن (Market Capitalization) میں 1,608 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

یہ مارکیٹ کی کارکردگی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اسٹاک مارکیٹ ہمیشہ موجودہ اعداد و شمار پر ردعمل نہیں دیتی. بلکہ مستقبل کی توقعات اور بڑے پیمانے پر پالیسی سمت (Macro Policy Direction) پر زیادہ توجہ مرکوز کرتی ہے۔ ایک مضبوط مالیاتی فاضل اور ترسیلات زر کے بہاؤ نے مارکیٹ کو بلند کیا، FDI میں کمی کے باوجود۔

ماہر کا حتمی نقطہ نظر اور مستقبل کا لائحہ عمل

 

یہ رپورٹ پاکستان کی معیشت کے دو مختلف پہلوؤں کو نمایاں کرتی ہے: قلیل مدتی استحکام اور طویل مدتی چیلنجز۔

مضبوط Remittances اور سخت مالیاتی کنٹرول نے کرنٹ اکاؤنٹ کو مستحکم کیا ہے اور اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کو سہارا دیا ہے۔ تاہم، FDI میں 55.5 فیصد کی کمی ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (FDI) مستقبل کی صلاحیت اور اقتصادی ترقی کا انجن ہے۔ اس گراوٹ کو فوری طور پر پالیسی مداخلت (Policy Intervention) سے حل کرنا ضروری ہے. تاکہ ملک عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ اور پرکشش مقام رہے۔

پاکستان کی معیشت نے ستمبر 2025 میں ایک دلچسپ مگر متضاد منظرنامہ پیش کیا۔ جہاں ایک طرف بیرونِ ملک سے آنے والی Remittances میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا. وہیں دوسری جانب FDI (Foreign Direct Investment) میں خطرناک حد تک کمی نے مالی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ وزارتِ خزانہ کی جاری کردہ Monthly Economic Update and Outlook October 2025 کے مطابق، معیشت ایک نازک مگر پُرامید توازن پر کھڑی ہے۔

سرمایہ کاروں کے لیے حکمت عملی:

  • متوازن رہیں: اسٹاک مارکیٹ کے بلش رجحان (Bullish Trend) میں احتیاط سے سرمایہ کاری کریں، لیکن FDI کے بہاؤ میں کمی اور مہنگائی کے دباؤ کو نظر انداز نہ کریں۔

  • بنیادی شعبوں پر توجہ: ان شعبوں پر نظر رکھیں جنہوں نے FDI کو راغب کیا ہے. جیسے پاور اور مالیاتی خدمات، کیونکہ ان میں پالیسی کی ترجیحات اور طویل مدتی منصوبوں (جیسے CPEC فیز 2.0) کی عکاسی ہوتی ہے۔

طویل مدتی مارکیٹ کی بصیرت یہ ہے کہ معیشت کو قرضوں کے بجائے پیداواری سرمایہ کاری (Productive investment) پر کھڑا ہونا چاہیے۔ جب تک FDI کا بہاؤ دوبارہ مضبوط نہیں ہوتا، مارکیٹ کی ترقی کی بنیاد کمزور رہے گی۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کے نزدیک Remittances کا اضافہ FDI کی کمی کو مؤثر طریقے سے پورا کر سکتا ہے؟ نیچے تبصروں میں اپنی حکمت عملی کا اشتراک کریں!

 

 

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button