عالمی منڈیوں کی بحالی، تیل مارکیٹ کا مرکز بن گیا

عالمی مالیاتی منڈیوں میں منگل کے روز بحالی دیکھی گئی۔ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے۔ اس بیان نے سرمایہ کاروں کے خدشات کو کچھ حد تک کم کر دیا۔ کیونکہ خدشہ تھا۔ کہ جنگ کی وجہ سے مہنگائی اور توانائی کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہ سکتی ہیں۔

اس صورتحال میں تیل کی قیمتیں انتہائی اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں۔ اور عالمی مارکیٹس کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔

Oil تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ

عالمی Oil تیل مارکیٹ میں پیر کے روز بڑا جھٹکا دیکھا گیا۔

برینٹ کروڈ کی قیمت 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی

بعد میں یہ گر کر 88 ڈالر فی بیرل تک آ گئی

اس وقت قیمت تقریباً 94 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے

یہ اتار چڑھاؤ ان عوامل کی وجہ سے ہوا:

ٹرمپ کا جنگ ختم ہونے کا عندیہ

روس پر Oil تیل پابندیوں میں ممکنہ نرمی

اسٹریٹیجک آئل ریزروز کے اجرا کا امکان

آبنائے ہرمز سے تیل سپلائی کی بحالی کی امید

آبنائے ہرمز دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔

ایران کی دھمکی اور امریکی ردعمل

گزشتہ روز ایران کی انقلابی گارڈز نے اعلان کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے۔ تو وہ مشرق وسطیٰ سے Oil تیل کی تمام برآمدات روک دیں گے۔

اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے تیل کی سپلائی روکنے کی کوشش کی تو۔ امریکا “بیس گنا زیادہ سخت حملہ کرے گا”۔

یہ صورتحال عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے ایک بڑا جیوپولیٹیکل رسک بنی ہوئی ہے۔

ایشیائی اور امریکی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی

جنگ کے خدشات کم ہونے کے بعد عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بحالی دیکھی گئی۔

اہم انڈیکسز کی کارکردگی:

جاپان Nikkei : +2.4%

جنوبی کوریا Kospi : +4.6%

امریکہ S&P 500 : +0.5%

Dow Jones : +0.8%

اس کے ساتھ امریکی 10 سالہ ٹریژری ییلڈ کم ہو کر 4.12% ہو گئی، جو اس بات کا اشارہ ہے۔ کہ سرمایہ کاروں کے مہنگائی خدشات کچھ کم ہوئے ہیں۔

چین کی برآمدات میں حیران کن اضافہ

چین کی معیشت سے مثبت خبر سامنے آئی:

جنوری اور فروری میں برآمدات 21.8% بڑھ گئیں

مارکیٹ توقع صرف 7.1% تھی

تجارتی سرپلس 213.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا

یہ اضافہ خاص طور پر ان شعبوں میں ہوا:

الیکٹرانکس

ٹیکسٹائل

بیگز اور ملبوسات

ماہرین کے مطابق چین کی مضبوط برآمدات الیکٹرک گاڑیوں، بیٹریز اور سولر سیلز کی عالمی مانگ کی وجہ سے جاری رہ سکتی ہیں۔

یورپ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد کم

یورو زون میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کا انڈیکیٹر Sentix گر کر:

4.2 سے -3.1 پر آ گیا۔

اس کمی کی بنیادی وجہ ایران جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال بتائی جا رہی ہے۔

اسٹاک مارکیٹ پر تیل کی قیمتوں کا اثر

ماہرین کے مطابق اسٹاک مارکیٹس کے لیے اصل مسئلہ تیل کی قیمت کی سطح نہیں بلکہ اس کا دورانیہ ہے۔

Oil تجزیہ کے مطابق:

اگر تیل کی قیمت میں 10٪ اضافہ ہو

تو کمپنیوں کی آمدنی 1٪ سے 3٪ تک متاثر ہو سکتی ہے

اگر قیمت 120 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار رہے تو کارپوریٹ منافع 7٪ سے 20٪ تک کم ہو سکتا ہے۔

اسی وجہ سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اسٹاک اکثر بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں کیونکہ وہ خام مال کی قیمتوں سے کم متاثر ہوتے ہیں۔

فاریکس مارکیٹ اپ ڈیٹ

کرنسی مارکیٹ میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

اہم تبدیلیاں:

امریکی ڈالر میں پہلے مضبوطی دیکھی گئی

بعد میں خطرات کم ہونے پر کمزور ہوا

EUR/USD دوبارہ 1.16 سے اوپر پہنچ گیا

یہ حرکت اس بات کا اشارہ ہے۔ کہ سرمایہ کار ابھی بھی جیوپولیٹیکل خبروں پر تیزی سے ردعمل دے رہے ہیں۔

مختصر نتیجہ:

عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت سب سے بڑا عنصر مشرق وسطیٰ کی جیوپولیٹیکل صورتحال اہور تیل کی قیمتیں ہیں۔ اگر جنگ کے خاتمے کی امید مضبوط ہوتی ہے۔ تو تیل کی قیمتیں نیچے آ سکتی ہیں اور اسٹاک مارکیٹس مزید مضبوط ہو سکتی ہیں۔ لیکن اگر تنازعہ بڑھتا ہے۔ تو توانائی کی قیمتیں اور عالمی مہنگائی دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button