مشرق وسطیٰ جنگ کے اثرات: پاؤنڈ اسٹرلنگ دباؤ میں

برطانوی کرنسی Pound sterling پاؤنڈ اسٹرلنگ (GBP) جمعرات کے روز عالمی مالیاتی منڈیوں میں کمزور دکھائی دی کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتیں اور جاری مشرق وسطیٰ جنگ برطانیہ کی معیشت کو اسٹیگفلیشن (Stagflation) کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔ ایشیائی سیشن میں پاؤنڈ تقریباً 0.22٪ کم ہو کر 1.3340 کے قریب امریکی ڈالر کے مقابلے میں ٹریڈ کر رہا تھا۔
یہ کمزوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع عالمی تیل سپلائی چین کو متاثر کر رہا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
برطانیہ کو اسٹیگفلیشن کا خطرہ
معاشی ماہرین کے مطابق برطانیہ کو اس وقت اسٹیگفلیشن کے خطرات کا سامنا ہے، جو ایسی صورتحال کو کہتے ہیں جس میں:
مہنگائی بڑھتی رہے
معاشی ترقی سست ہو جائے
روزگار کے مواقع محدود رہیں
چونکہ برطانیہ اپنی توانائی کی بڑی مقدار درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست مہنگائی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق:
برطانیہ کی ہیڈ لائن انفلیشن جنوری میں 3٪ سالانہ رہی
یہ اب بھی بینک آف انگلینڈ (BoE) کے 2٪ ہدف سے کافی زیادہ ہے
اگر توانائی کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو مرکزی بینک کے لیے مہنگائی کو قابو میں رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ جنگ اور توانائی کی منڈی
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق:
ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے
امریکہ بھی تنازع میں شامل ہے
آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے والی تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے
یہ راستہ دنیا کی تیل سپلائی کا ایک اہم حصہ ہے، اس لیے کسی بھی رکاوٹ سے عالمی تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔
اسی وجہ سے سرمایہ کار خطرات سے بچنے کے لیے محفوظ اثاثوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جس سے پاؤنڈ سمیت کئی کرنسیاں دباؤ میں ہیں۔
GBP/USD کی حالیہ کارکردگی
منگل کے روز GBP/USD نے تقریباً 1.3253 کی تین ماہ کی کم ترین سطح کو چھوا تھا۔ اس کے بعد بدھ کو اس میں عارضی بحالی دیکھی گئی اور قیمت 1.3400 کے قریب تک پہنچ گئی۔
یہ بحالی اس وقت آئی جب امریکی ڈالر کی تیزی میں کچھ وقفہ آیا۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایران نے مبینہ طور پر جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
تاہم بعد میں تہران نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ:
امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی بات نہیں ہو رہی
جنگ طویل ہو سکتی ہے
اس بیان کے بعد مارکیٹ میں دوبارہ غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی، جس سے پاؤنڈ کی بحالی کمزور پڑ گئی۔
امریکی معیشت اور ڈالر کی مضبوطی
دوسری جانب امریکی معیشت کے مثبت اعداد و شمار بھی ڈالر کو سہارا دے رہے ہیں۔
بدھ کو جاری ہونے والی ADP ایمپلائمنٹ رپورٹ کے مطابق:
فروری میں امریکی نجی شعبے نے 63 ہزار نئی ملازمتیں پیدا کیں
مارکیٹ توقعات 50 ہزار تھیں
پچھلا ڈیٹا 11 ہزار تھا
یہ مضبوط لیبر مارکیٹ اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ فیڈرل ریزرو (Fed) فوری طور پر شرح سود کم کرنے میں جلدی نہیں کرے گا۔
اسی وجہ سے سرمایہ کار اپنی ڈووِش (نرم) فیڈ پالیسی کی توقعات کم کر رہے ہیں، جس سے امریکی ڈالر کو مزید طاقت مل سکتی ہے۔
کرنسی مارکیٹ میں آج کی صورتحال
آج کی کرنسی موومنٹ کے مطابق:
جاپانی ین (JPY) سب سے مضبوط کرنسی رہی
برطانویPound پاؤنڈ (GBP) بڑی کرنسیوں میں سب سے کمزور رہا
جاپانی ین کو عام طور پر محفوظ سرمایہ کاری (Safe Haven) سمجھا جاتا ہے، اس لیے عالمی کشیدگی کے دوران اس کی طلب بڑھ جاتی ہے۔
مارکیٹ آؤٹ لک
آنے والے دنوں میں GBP/USD کی سمت کا دارومدار کئی عوامل پر ہوگا، جن میں شامل ہیں:
مشرق وسطیٰ کی جنگ میں پیش رفت
عالمی توانائی کی قیمتوں کا رجحان
بینک آف انگلینڈ کی مانیٹری پالیسی
امریکی لیبر مارکیٹ اور فیڈ کی شرح سود کی توقعات
اگر توانائی کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں اور جنگ طول پکڑتی ہے تو پاؤنڈ پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر سفارتی حل سامنے آتا ہے تو کرنسی مارکیٹ میں کچھ استحکام آ سکتا ہے۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



