چین کا ‘مین ہٹن پروجیکٹ’: AI Chips کی دنیا میں نیا انقلاب اور عالمی مارکیٹ پر اس کے اثرات

How China’s Secret EUV Project Is Reshaping the Financial Future of the Semiconductor Industry

دنیا کی فنانشل مارکیٹس میں طاقت ہمیشہ کرنسی یا تیل سے نہیں ناپی جاتی، بعض اوقات اصل طاقت ایک ایسی مشین میں چھپی ہوتی ہے جو پوری عالمی معیشت کا رخ بدل دے، اور 2025 کے آغاز میں چین نے اسی حقیقت کو ثابت کر دیا جب شینزن کی ایک ہائی سکیورٹی لیبارٹری میں China AI Chips سے جڑی وہ پیش رفت سامنے آئی جسے روکنے کے لیے مغرب برسوں سے کوشش کر رہا تھا، یہ محض ٹیکنالوجی کی خبر نہیں بلکہ مستقبل کی Semiconductor معیشت پر کنٹرول کی مالی جنگ ہے۔

اہم نکات

  • بڑی کامیابی: چین نے 2025 کے آغاز میں ایک ایسی مشین (EUV) کا پروٹو ٹائپ تیار کر لیا ہے. جو دنیا کی جدید ترین AI Chips بنا سکتی ہے۔

  • ٹیم: اس منصوبے کو ASML کے سابق انجینئرز نے "ریورس انجینئرنگ” کے ذریعے مکمل کیا ہے۔

  • مارکیٹ اثرات: اس سے عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین (Supply Chain) میں امریکہ اور یورپ کی اجارہ داری ختم ہو سکتی ہے۔

  • سرمایہ کاروں کے لیے پیغام: ٹیک اسٹاکس (Tech Stocks) میں طویل مدتی اتار چڑھاؤ کے لیے تیار رہیں. کیونکہ چین اب مغرب کا محتاج نہیں رہے گا۔

چین کی نئی چپ مشین (EUV Prototype) کیا ہے؟

چین کی یہ نئی مشین "ایکسٹریم الٹرا وائلٹ لیتھوگرافی” (EUV) ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ یہ دنیا کی وہ پیچیدہ ترین مشین ہے جو اسمارٹ فونز، مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ہتھیاروں میں استعمال ہونے والی انتہائی چھوٹی اور طاقتور AI Chips تیار کرتی ہے۔

اب تک یہ ٹیکنالوجی صرف ہالینڈ کی کمپنی ASML کے پاس تھی. لیکن چینی ماہرین نے اسے کامیابی سے دوبارہ ڈیزائن (Reverse-Engineer) کر لیا ہے۔

اس پیش رفت کا عالمی مارکیٹ (Global Market) پر کیا اثر پڑے گا؟

جب بھی سپلائی چین میں کوئی بڑا ملک خود کفیل ہوتا ہے، تو عالمی قیمتوں اور حصص کی مارکیٹ (Stock Market) پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ چین کا یہ China AI Chips Breakthrough Impact on Markets درج ذیل طریقوں سے اثر انداز ہو سکتا ہے.

  • مغربی کمپنیوں کے ریونیو میں کمی: ASML، Nvidia اور Intel جیسی کمپنیوں کے لیے چین ایک بڑی مارکیٹ تھا۔ اگر چین خود AI Chips بنانے لگا. تو ان کمپنیوں کی آمدنی متاثر ہو سکتی ہے۔

  • ٹیک وار میں شدت: امریکہ کی جانب سے مزید پابندیاں لگنے کا خدشہ ہے. جس سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال (Uncertainty) پیدا ہوگی۔

یہاں میں اپنے 10 سالہ تجربے سے ایک بات شیئر کرنا چاہوں گا۔ جب 2018-19 میں امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ شروع ہوئی تھی. تو ہم نے دیکھا تھا کہ مارکیٹ شروع میں خوفزدہ ہوئی.

لیکن پھر سیمی کنڈکٹر کمپنیوں نے اپنی سپلائی چین کو تبدیل کیا۔ لیکن اس بار معاملہ مختلف ہے. کیونکہ یہ "ٹیکنالوجی کی چوری” نہیں. بلکہ "ٹیکنالوجی کی تخلیق” ہے. جو طویل مدت میں ڈالر کی طاقت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں چین کی خود کفالت کا سفر

چین نے اس منصوبے پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ یہ فیکٹری جتنی بڑی مشین درحقیقت ان تمام پابندیوں کا جواب ہے جو مغرب نے چین کی ترقی روکنے کے لیے لگائی تھیں۔

خصوصیت مغربی ٹیکنالوجی (ASML) چینی پروٹو ٹائپ (2025)
ٹیکنالوجی EUV (Extreme Ultraviolet) EUV (Reverse Engineered)
دستیابی محدود (پابندیوں کے ساتھ) مقامی سطح پر دستیاب
استعمال AI، ملٹری، اسمارٹ فونز AI، قومی دفاع، مقامی صنعت

کیا یہ سرمایہ کاری کے لیے ایک خطرہ ہے یا موقع؟

ایک تجربہ کار اسٹریٹیجسٹ کے طور پر، میں اسے دونوں نظروں سے دیکھتا ہوں۔ اگر آپ کے پاس عالمی ٹیک کمپنیوں کے شیئرز ہیں. تو آپ کو اپنی پورٹ فولیو (Portfolio) کو متنوع (Diversify) کرنے کی ضرورت ہے۔ چین کی یہ کامیابی ظاہر کرتی ہے. کہ "ٹیکنالوجی کی قوم پرستی” (Tech Nationalism) اب ایک حقیقت ہے۔

ماضی میں جب بھی کسی ملک نے کسی بڑی ٹیکنالوجی پر اجارہ داری ختم کی ہے. تو مارکیٹ میں شروع میں "پینک سیلنگ” (panic selling) ہوتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ ایسے وقت میں ریٹیل ٹریڈرز گھبرا کر نکل جاتے ہیں. جبکہ بڑے انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز ان سستی قیمتوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔)

مستقبل کی حکمت عملی: سرمایہ کاروں کو کیا کرنا چاہیے؟

چین کی جانب سے China AI Chips Breakthrough Impact on Markets کے بعد، آنے والے مہینے سیمی کنڈکٹر سیکٹر کے لیے بہت اہم ہیں۔

  • نگاہ رکھیں: چینی چپ ساز کمپنیوں (مثلاً SMIC) اور ان سے وابستہ خام مال فراہم کرنے والی کمپنیوں پر نظر رکھیں۔

  • خطرے کا انتظام (Risk Management): امریکی ٹیک کمپنیوں میں اپنی پوزیشنز کو "ہیج” (hedge) کریں. کیونکہ جیو پولیٹیکل تناؤ بڑھ سکتا ہے۔

  • طویل مدتی سوچ: یاد رکھیں کہ پروٹو ٹائپ سے بڑے پیمانے پر پیداوار (Mass Production) تک ابھی وقت لگ سکتا ہے. اس لیے جلد بازی میں فیصلے نہ کریں۔

حرف آخر. 

چین کی جانب سے AI Chips مشین کی تیاری عالمی معیشت میں ایک زبردست موڑ ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ پابندیاں جدت کو روک نہیں سکتیں بلکہ بعض اوقات اسے مہمیز دیتی ہیں۔ مالیاتی مارکیٹس کے لیے یہ خبر ایک وارننگ بھی ہے اور ایک نیا موقع بھی۔ جو سرمایہ کار بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال کو سمجھ کر اپنی حکمت عملی ترتیب دیں گے، وہی طویل مدت میں کامیاب ہوں گے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا چین کی یہ نئی ٹیکنالوجی امریکی برتری کو ختم کر پائے گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!

Source: Exclusive: How China built its ‘Manhattan Project’ to rival the West in AI chips | Reuters

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button