EURUSD Annual Forecast 2026: کیا مرکزی بینکوں کا دور ختم ہونے والا ہے؟
From Trump’s Tariffs to Global Growth Imbalances Shaping Currency Markets
2025 کا سال عالمی مالیاتی مارکیٹس کے لیے کسی ہیجان سے کم نہیں تھا. جس کی بڑی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی اور ان کی غیر متوقع تجارتی پالیسیاں تھیں۔ اب جب ہم 2026 کی طرف بڑھ رہے ہیں. تو سب سے بڑا سوال یہ ہے. کہ کیا EURUSD Price Annual Forecast کے مطابق یورو اور ڈالر کی چال اب بھی فیڈرل ریزرو (Fed) اور یورپی مرکزی بینک (ECB) کے فیصلوں پر منحصر ہوگی؟ ماہرین کا خیال ہے کہ 2026 وہ سال ہوگا. جہاں "معاشی ترقی” (Growth) مرکزی بینکوں کو پیچھے چھوڑ کر مارکیٹ کی سمت کا تعین کرے گی۔
مرکزی بینک آہستہ آہستہ اسپاٹ لائٹ سے ہٹ رہے ہیں. اور سرمایہ کار اب یہ سوال کر رہے ہیں. کہ شرحِ سود کتنی ہے نہیں بلکہ یہ کہ معیشت کتنی مضبوط ہے. اور اسی سوچ کے ساتھ EURUSD ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے. جہاں فیصلہ کن عنصر صرف اور صرف Economic Growth ہوگا۔
مارکیٹ کا خلاصہ.
-
مرکزی بینکوں کی اہمیت میں کمی: 2026 میں سود کی شرح (Interest Rates) کے بجائے معاشی گروتھ (GDP Growth) مارکیٹ کا اصل محرک ہوگی۔
-
ٹیرف کا اثر: امریکہ کی جانب سے لگائے گئے ٹیرف (Tariffs) اب قیمتوں میں جذب ہو چکے ہیں. جس سے افراطِ زر (Inflation) کا خوف کم ہو رہا ہے۔
-
یورو بمقابلہ ڈالر: ٹیکنیکل لحاظ سے EURUSD بیل (Bulls) کے قابو میں ہے. لیکن یورپ کی کمزور گروتھ اس کی رفتار سست کر سکتی ہے۔
-
نئی قیادت: Federal Reserve کے چیئرمین جیروم پاول کی مدت ختم ہونے کے بعد نئے چیئرمین کی آمد ڈالر کی پالیسی کو مزید نرم (Dovish) کر سکتی ہے۔
2026 میں فیڈرل ریزرو (Fed) سے کیا توقع رکھی جائے؟
مارکیٹ کے شرکاء کو توقع ہے کہ فیڈرل ریزرو 2026 میں کم از کم دو بار سود کی شرح میں کمی کرے گا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ مئی 2026 میں جیروم پاول کی رخصتی اور صدر ٹرمپ کی جانب سے کسی ایسے نئے چیئرمین کا انتخاب ہے. جو "ڈووش” (Dovish) یعنی نرم مانیٹری پالیسی کا حامی ہو۔
2025 میں ٹرمپ کے ٹیرف کی وجہ سے مہنگائی بڑھنے کا جو ڈر تھا. وہ اب کافی حد تک کم ہو چکا ہے۔ اگرچہ فیڈرل ریزرو کے اراکین میں پالیسی کو لے کر تقسیم موجود ہے. لیکن مارکیٹ کا رجحان سستی ادھار (Lower Borrowing Costs) کی طرف ہے. جو اسٹاک مارکیٹ کو مزید بلندیوں پر لے جا سکتا ہے۔
میں نے اپنے دس سالہ تجربے میں دیکھا ہے کہ جب بھی فیڈرل ریزرو کا چیئرمین تبدیل ہونے والا ہوتا ہے. مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ جاتی ہے۔ 2026 میں پاول کی جگہ اسٹیفن میرن جیسے کسی ماہر کی آمد، جو ٹرمپ کے قریبی سمجھے جاتے ہیں. ڈالر کی قدر میں اچانک اتار چڑھاؤ پیدا کر سکتی ہے۔
یورپی مرکزی بینک (ECB) کی پوزیشن اور یورو زون کے حالات
اگرچہ مارکیٹ میں ایسی افواہیں گردش کر رہی ہیں، لیکن یورو زون کی سست معاشی ترقی (Subdued Growth) کو دیکھتے ہوئے سود کی شرح میں اضافے (Rate Hike) کے امکانات بہت کم ہیں۔ ای سی بی کی صدر کرسٹین لگارڈ کے مطابق، بینک فی الحال ایک "بہتر مقام” پر ہے. لیکن پیداواری صلاحیت (Productivity) میں بہتری لانا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
یورو زون کی مینوفیکچرنگ سرگرمی 2025 کے اختتام پر کافی کمزور رہی۔ اگرچہ افراطِ زر 2 فیصد کے ہدف کے قریب پہنچ رہا ہے. لیکن جب تک معیشت میں حقیقی جان نہیں آتی. ای سی بی کے لیے پالیسی کو سخت کرنا مشکل ہوگا۔
ٹیکنیکل انالیسس (Technical Analysis): EURUSD کی اگلی منزل کیا ہے؟
اگر ہم طویل مدتی چارٹ پر نظر ڈالیں. تو EURUSD کا رجحان مثبت دکھائی دیتا ہے۔ جوڑی (Pair) نے 2025 کا اختتام 1.1800 کے قریب کیا ہے. جو خریداروں کے لیے ایک اچھا اشارہ ہے۔
اہم لیولز اور رجحانات:
-
ریزسٹنس (Resistance): خریداروں کے لیے اگلا بڑا ہدف 1.1920 کی سطح ہے۔ اگر قیمت اس سے اوپر بند ہوتی ہے. تو ہم 1.2230 اور پھر 1.2500 کی سطح دیکھ سکتے ہیں۔
-
سپورٹ (Support): نیچے کی جانب 1.1470 ایک مضبوط سپورٹ ہے. جبکہ 1.1350 وہ مقام ہے. جہاں خریداروں نے ماضی میں سخت دفاع کیا ہے۔
-
موونگ ایوریج (Moving Averages): ہفتہ وار چارٹ پر 20 ایس ایم اے (SMA) کا فلیٹ ہونا اور 100 ایس ایم اے کا اوپر ہونا بیلوں (Bulls) کی مضبوطی ظاہر کرتا ہے۔

2026 میں گروتھ کا توازن (Growth Imbalance) اور اس کے اثرات
2026 میں مرکزی بینکوں کے بجائے معاشی گروتھ (Economic Growth) مارکیٹ کا رخ متعین کرے گی۔ اس وقت امریکہ کی ترقی کی رفتار (GDP) تقریباً 4.3% ہے. جو کہ یورپ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔
اگرچہ ٹیکنیکل طور پر یورو مضبوط لگ رہا ہے. لیکن اگر امریکہ اور یورپ کے درمیان گروتھ کا یہ فرق برقرار رہا. تو ڈالر دوبارہ بازی جیت سکتا ہے۔ سرمایہ کار اب صرف سود کی شرح کو نہیں دیکھیں گے. بلکہ یہ دیکھیں گے. کہ کون سی معیشت زیادہ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حرف آخر.
2026 مالیاتی دنیا میں ایک بڑے بدلاؤ کا سال ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹیرف کی جنگیں اور مرکزی بینکوں کے ہنگامے اب پرانے ہو چکے ہیں۔ اب توجہ کا مرکز یہ ہوگا. کہ کون سا ملک اپنی معیشت کو مستحکم رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ EURUSD کے ٹریڈرز کے لیے مشورہ ہے. کہ وہ صرف چارٹس پر بھروسہ نہ کریں. بلکہ معاشی ترقی کے اعداد و شمار پر بھی گہری نظر رکھیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا 2026 میں یورو 1.2500 کی سطح عبور کر پائے گا یا امریکی معیشت کی بہتری ڈالر کو دوبارہ مضبوط کرے گی؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



