AUDUSD Analysis: کیا آسٹریلوی ڈالر 0.6600 کی سطح برقرار رکھ پائے گا؟
RBA Hawkish Tone and US CPI Expectations Shape Currency Market Direction
آسٹریلوی ڈالر (AUD) اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کا سخت موقف ہے. تو دوسری طرف چین کی معاشی سست روی اور امریکی ڈالر (USD) کی بحالی نے جوڑی (pair) پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم ان عوامل کا گہرائی سے جائزہ لیں گے. جو آنے والے دنوں میں AUDUSD کی سمت کا تعین کریں گے۔
اہم نکات (Key Takeaways)
-
AUDUSD اس وقت 0.6600 کی نفسیاتی سطح کے گرد استحکام (Consolidation) حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
-
آسٹریلیا میں مہنگائی کے بڑھتے ہوئے خدشات RBA کو شرح سود برقرار رکھنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
-
امریکی ڈالر کی حالیہ ریکوری اور چین کے معاشی مسائل آسٹریلوی ڈالر کے لیے بڑی رکاوٹیں ہیں۔
-
ٹیکنیکل انڈیکیٹرز (Technical Indicators) جیسے RSI اور MACD فی الحال بیئریش (Bearish) رجحان کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
AUDUSD کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟
آسٹریلوی ڈالر نے حالیہ سیشنز میں 0.6600 سے اوپر قدم جمانے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ مارکیٹ میں خطرہ مول لینے کا رجحان (Risk-On Sentiment) مثبت ہے، لیکن امریکی ڈالر کی مضبوطی نے اس کی پرواز کو روکا ہوا ہے۔ آسٹریلیا سے آنے والے حالیہ ڈیٹا، جس میں روزگار کی طلب میں کمی اور صارفین کے اعتماد میں گراوٹ دیکھی گئی. نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
RBA کی پالیسی اور آسٹریلوی معیشت پر اس کے اثرات
ریزرو بینک آف آسٹریلیا (RBA) کا موقف ابھی تک ہاکش (Hawkish) ہے، یعنی وہ Inflation کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ تاہم، افراط زر کی توقعات میں اضافے اور معاشی ڈیٹا میں تضاد نے بینک کے لیے فیصلے کرنا مشکل بنا دیا ہے۔
یہاں میرا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ جب سینٹرل بینک اور معاشی ڈیٹا (Economic data) کے درمیان تضاد پیدا ہوتا ہے. تو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ (Volatility) بڑھ جاتا ہے۔ اکثر ایسی صورتحال میں سائیڈ ویز (Sideways) موومنٹ دیکھنے کو ملتی ہے. جب تک کہ کوئی واضح ٹرگر سامنے نہ آئے۔)
امریکی ڈالر (USD) کی واپسی: فڈرل ریزرو کا اگلا قدم کیا ہوگا؟
امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) نے حالیہ گراوٹ کے بعد دوبارہ بحالی شروع کی ہے۔ سرمایہ کار اب امریکی سی پی آئی (CPI) ڈیٹا کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ فڈرل ریزرو (Fed) آنے والے مہینوں میں شرح سود کے حوالے سے کیا فیصلہ کرے گا۔
کیا چین کی معیشت آسٹریلوی ڈالر کو متاثر کر رہی ہے؟
آسٹریلیا کی معیشت کا بڑا انحصار چین پر ہے۔ چین میں جاری پراپرٹی سیکٹر کا بحران اور مجموعی معاشی سست روی آسٹریلوی برآمدات (Exports) کو متاثر کرتی ہے. جو براہ راست AUDUSD کی قیمت میں کمی کا باعث بنتی ہے۔
ٹیکنیکل انڈیکیٹرز کیا اشارہ دے رہے ہیں؟ (Technical Analysis)
موجودہ چارٹ پیٹرن کے مطابق، AUDUSD کا رجحان ابھی تک بیئریش (Bearish) یا مندی کی جانب ہے۔
-
RSI (Relative Strength Index): یہ انڈیکیٹر 38 پر ہے، جو کہ 50 کی درمیانی سطح سے نیچے ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں ابھی بھی فروخت کا دباؤ موجود ہے۔
-
MACD: یہ زیرو لائن سے نیچے ہے، جو کہ منفی مومنٹم کی عکاسی کرتا ہے، اگرچہ بیئریش دباؤ میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔
-
Fibonacci Retracement: جوڑی اس وقت 38.2% کی سطح (0.6593) کے قریب سپورٹ لینے کی کوشش کر رہی ہے۔

اہم سپورٹ اور ریزسٹنس لیولز
| لیول کی قسم | قیمت (Price) | اہمیت |
| پہلی ریزسٹنس | 0.6620 | سابقہ سپورٹ جو اب رکاوٹ ہے |
| دوسری ریزسٹنس | 0.6661 | دسمبر 16 کی ہائی |
| پہلی سپورٹ | 0.6593 | 38.2% فیبوناچی لیول |
| دوسری سپورٹ | 0.6540 | نومبر کے آخر کی کم ترین سطح |
مارکیٹ کا مستقبل: ٹریڈرز کے لیے حکمت عملی
موجودہ حالات میں، 0.6620 سے اوپر کی کلوزنگ ہی کسی بڑی تیزی (Bullish Rally) کا راستہ کھول سکتی ہے۔ اگر قیمت 0.6590 سے نیچے گرتی ہے. تو اگلا ہدف 0.6540 اور پھر 0.6520 ہو سکتا ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ امریکی افراط زر کا ڈیٹا آسٹریلوی ڈالر کو 0.6700 کی طرف لے جائے گا. یا ہم مزید مندی دیکھیں گے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



