عالمی مارکیٹ میں EURUSD محدود رینج، USD کی واپسی، ECB کا اعتماد اور سرمایہ کاروں کی نفسیات
ECB Optimism, Soft US Inflation and Risk Aversion Shape EURUSD Outlook
یورپی ٹریڈنگ سیشن میں EURUSD آہستہ آہستہ 1.1700 کی سطح کی جانب پیشقدمی کرتا ہوا دکھائی دیا. بظاہر یہ ایک معمولی تکنیکی حرکت لگتی ہے. مگر اس کے پیچھے عالمی مالیاتی نظام کی گہری کہانی چھپی ہے. جہاں سرمایہ کار ایک طرف نرم امریکی افراطِ زر کو ہضم کر رہے ہیں. اور دوسری جانب USD کی نئی طلب کو نظرانداز نہیں کر پا رہے۔
یہ وہ نازک لمحہ ہے. جہاں کرنسی مارکیٹ صرف اعداد و شمار نہیں. بلکہ مرکزی بینکوں کے اشاروں، بیانات اور مستقبل کے خدشات کو بھی قیمت میں شامل کر رہی ہے۔
خلاصہ
-
فیب لیولز: قیمت اس وقت 1.1695 کے اہم 61.8 فیبوناکی لیول کے قریب ہے، جو کہ خریداروں کے لیے آخری دفاعی لائن ہے۔
-
مومنٹم انڈیکیٹر: MACD ہسٹوگرام میں منفی کراس اوور مندی کے رجحان کی تصدیق کر رہا ہے۔
-
سپلائی زون: 1.1765 سے 1.1820 کا علاقہ اب ایک "ہیوی سپلائی زون” بن چکا ہے. جہاں فروخت کنندگان (Sellers) حاوی ہیں۔
-
فیصلہ کن گھڑی: وال اسٹریٹ کا اوپننگ سیشن یہ طے کرے گا. کہ آیا ہم 1.1615 کی طرف جا رہے ہیں. یا یہاں سے باؤنس بیک (Bounce back) ہوگا۔
لیکویڈیٹی زونز اور مارکیٹ کی نفسیات (Market Psychology)
مارکیٹ ہمیشہ لیکویڈیٹی (Liquidity) کی تلاش میں رہتی ہے۔ اس وقت 1.1700 کے ٹھیک نیچے بہت سے ٹریڈرز کے "Stop Losses” موجود ہوں گے۔ مارکیٹ میکر اکثر قیمت کو جان بوجھ کر 1.1685 تک گراتے ہیں تاکہ ان اسٹاپ لاسز کو ہٹ (Hit) کر سکیں اور پھر وہاں سے ایک نئی تیزی شروع کریں۔

ٹریڈنگ کے لیے اہم حکمت عملی (Execution Strategy)
| سیناریو (Scenario) | ایکشن (Action) | ہدف (Target) | اسٹاپ لاس (SL) |
| اگر 1.1695 پر سپورٹ ملے | خریداری (Buy) | 1.1765 | 1.1670 |
| اگر 1.1715 کے نیچے کینڈل بند ہو | فروخت (Sell) | 1.1620 | 1.1740 |
ای سی بی اور فیڈرل ریزرو کا توازن
مستقبل قریب میں، مارکیٹ کی نظریں صرف ڈیٹا پر نہیں بلکہ اس بات پر ہیں کہ Federal Reserve مہنگائی میں کمی (2.7%) کے بعد شرح سود میں کٹوتی میں کتنی جلدی کرتا ہے۔ اگر فیڈرل ریزرو نرمی برتتا ہے، تو ڈالر کی یہ تازہ طلب عارضی ثابت ہوگی اور ہم یورو کو دوبارہ 1.1800 کے پار دیکھیں گے۔
امریکی ڈالر کی مانگ میں اضافہ، کیا یورو 1.1700 کی سطح برقرار رکھ پائے گا؟
کرنسی مارکیٹ میں جمعہ کے روز ایک دلچسپ صورتحال دیکھی جا رہی ہے. جہاں EURUSD کی قیمتیں 1.1700 کی نفسیاتی سطح کی طرف واپس آتی دکھائی دے رہی ہیں۔ یورپی سیشن کے دوران امریکی ڈالر (US Dollar) کی طلب میں اچانک اضافے نے یورو پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
اگرچہ امریکہ سے آنے والے افراطِ زر (Inflation) کے اعداد و شمار توقع سے کم رہے. لیکن سرمایہ کار اب بھی ڈالر کی پناہ گاہ (Safe Haven) کی حیثیت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس تحریر میں ہم دیکھیں گے. کہ موجودہ معاشی صورتحال اور ٹیکنیکل اشارے (Technical Indicators) ہمیں آنے والے دنوں کے بارے میں کیا بتاتے ہیں۔
EURUSD کی قیمت کیوں گر رہی ہے؟
یورو اور ڈالر کے جوڑے (EURUSD) میں حالیہ گراوٹ کی بڑی وجہ امریکی ڈالر میں آنے والی تازہ خریداری ہے۔ جمعرات کو امریکہ میں سی پی آئی (CPI) ڈیٹا کے بعد ڈالر پر دباؤ آیا تھا. لیکن وال اسٹریٹ (Wall Street) کے کھلنے پر مارکیٹ کا مزاج بدل گیا. اور سرمایہ کاروں نے خطرہ مول لینے کے بجائے ڈالر خریدنا شروع کر دیا۔
یورو پر دباؤ کی اصل وجہ امریکی ڈالر کی "ریفرش ڈیمانڈ” اور کرسمس سے پہلے سرمایہ کاروں کی پوزیشنوں کی تبدیلی ہے۔ اگرچہ افراطِ زر کم ہوا ہے. لیکن فیڈرل ریزرو اور ای سی بی کی پالیسیوں میں فرق (Monetary Policy Divergence) یورو کی بڑی گراوٹ کو روکنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
اپنے 10 سالہ تجربے کی بنیاد پر میں نے اکثر دیکھا ہے. کہ جب بھی اہم ڈیٹا (جیسے CPI) مارکیٹ کی توقعات کے خلاف آتا ہے. تو ابتدائی ردعمل (Immediate Reaction) اکثر عارضی ہوتا ہے۔ بڑے پلیئرز اکثر ریٹیل ٹریڈرز کو ٹریپ کرنے کے لیے قیمت کو ایک سمت میں دھکیلتے ہیں. اور پھر اصل ٹرینڈ کی طرف واپس لے آتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ڈالر کی واپسی اسی منطق کی عکاسی کرتی ہے۔
ECB کی پالیسی اور کرسٹین لگارڈ کے بیانات کا اثر
یورپی سنٹرل بینک (ECB) نے اپنی حالیہ میٹنگ میں شرح سود کو تبدیل نہیں کیا۔ صدر کرسٹین لگارڈ (Christine Lagarde) نے واضح کیا. کہ وہ شرح مبادلہ (Exchange Rates) کو ہدف نہیں بناتے. لیکن یورو کی قدر میں اضافے پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ بینک نے 2025-2027 کے لیے معاشی ترقی کے تخمینے میں معمولی بہتری کی پیش گوئی بھی کی ہے۔
کیا ECB یورو کو مزید گرنے سے بچا سکے گا؟
ای سی بی کی جانب سے مستقبل کے بارے میں کسی واضح "فارورڈ گائیڈنس” کی کمی مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر رہی ہے۔ جب تک یورپی معیشت کی ترقی کے ٹھوس شواہد سامنے نہیں آتے. EURUSD کے لیے 1.1800 کی سطح عبور کرنا مشکل رہے گا۔
ٹیکنیکل تجزیہ: اہم لیولز اور رجحان (Technical Overview)
ٹیکنیکل چارٹ پر نظر ڈالیں تو 20-period SMA اس وقت 1.1738 پر موجود ہے. جو فوری مزاحمت (Resistance) کا کام کر رہا ہے۔
EURUSD کے سپورٹ اور ریزسٹنس ٹیبل
| لیول کی قسم | قیمت (Price) | اہمیت |
| اہم مزاحمت (Resistance) | 1.1820 | چینل کی بالائی حد |
| فوری مزاحمت | 1.1765 | مڈ پوائنٹ |
| موجودہ قیمت کے قریب | 1.1715 | 50-period SMA / Support |
| اہم سپورٹ (Support) | 1.1695 | ٹرینڈ لائن |
| مضبوط سپورٹ | 1.1615 | 200-period SMA |
آر ایس آئی (RSI 14) اس وقت 46 پر ہے. جو اس بات کی علامت ہے کہ مارکیٹ میں ابھی خریداروں کا زور کم ہے. اور مومنٹم (Momentum) مندی کی جانب مائل ہے۔
اگرچہ امریکی ڈالر (USD) اپنی پناہ گاہ کی حیثیت کی وجہ سے مضبوط ہو رہا ہے. لیکن چارٹ پر کچھ ایسے پوشیدہ اشارے موجود ہیں. جو ایک بڑے ریورسل (Reversal) یا گہری مندی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
1. فیبوناکی ریٹریسمنٹ اور سپورٹ کا سنگم (Confluence)
اگر ہم EURUSD کی حالیہ تیزی کی لہر کا جائزہ لیں. تو 1.1695 کی سطح محض ایک نمبر نہیں ہے۔ یہ 61.8% فیبوناکی ریٹریسمنٹ لیول ہے، جسے ٹریڈنگ کی دنیا میں "Golden Ratio” کہا جاتا ہے۔
-
جب قیمت اس لیول پر آتی ہے. تو اکثر بڑے بینک اور انسٹی ٹیوشنز اپنی پوزیشنز کو ری بیلنس کرتے ہیں۔ اگر یہاں سے قیمت پلٹتی ہے. تو یہ ایک مضبوط "Buy Signal” ہو سکتا ہے. لیکن اس کے نیچے کلوزنگ بڑے نقصان کا پیش خیمہ ہوگی۔
2. MACD اور RSI: مومنٹم کیا کہہ رہا ہے؟
Moving Average Convergence Divergence (MACD):
چارٹ پر MACD کی سگنل لائن اب زیرو لائن سے نیچے جانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہسٹوگرام کے سرخ بارز (Red Bars) بڑھ رہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ بیچنے والوں کا دباؤ (Selling Pressure) ابھی ختم نہیں ہوا۔
Relative Strength Index (RSI):
آر ایس آئی 46 پر ہے، جو نہ تو "Overbought” ہے اور نہ ہی "Oversold”۔ یہ ظاہر کرتا ہے. کہ EURUSD میں مزید نیچے گرنے کی گنجائش (Room to move down) موجود ہے. اس سے پہلے کہ خریدار دوبارہ مارکیٹ میں داخل ہوں۔
میں نے اپنے 10 سالہ کرئیر میں سیکھا ہے کہ جب RSI 40 اور 50 کے درمیان پھنس جائے. اور MACD بیئرش کراس اوور دے دے، تو مارکیٹ اکثر ایک "Sideways-to-Bearish” چینل میں چلی جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں بریک آؤٹ کا انتظار کرنا ہی سب سے محفوظ حکمت عملی ہوتی ہے۔
آنے والے ہفتے میں کیا توقع کی جائے؟
چونکہ کرسمس کی چھٹیاں قریب ہیں. اس لیے مارکیٹ میں "اینڈ آف دی ویک” (End-of-the-week) فلو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کم لیکویڈیٹی (Liquidity) کی وجہ سے قیمتیں اچانک اور غیر متوقع رخ اختیار کر سکتی ہیں۔
اگر یورو 1.1695 کی سطح سے نیچے بند ہوتا ہے. تو اگلے ہفتے ہمیں 1.1615 تک کی مندی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر 1.1715 کا لیول برقرار رہتا ہے، تو ایک چھوٹی ریکوری ممکن ہے۔
آپ کا اس مارکیٹ صورتحال کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ اس قیمت پر یورو خریدنا پسند کریں گے یا ڈالر کی مضبوطی پر یقین رکھتے ہیں؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



