UK Bonds Market Turmoil کی وجہ سے GBPUSD میں 1.3400 کے قریب اتار چڑھاؤ
UK debt crisis shakes markets while Dollar weakness and US data fuel GBPUSD gains
عالمی مارکیٹس میں اسوقت ہلچل مچی ہوئی ہے. کیونکہ UK Bonds Market Turmoil سرمایہ کاروں کے اعتماد کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ برطانیہ کی Loan Market میں پیدا ہونے والے بحران نے نہ صرف ملکی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے بلکہ اس کے اثرات براہِ راست کرنسی مارکیٹ میں GBPUSD پر بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف US Dollar کی کمزوری اور امریکی معیشت کے تازہ ترین اعداد و شمار بھی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
خلاصہ
-
UK Bonds Market Turmoil نے سرمایہ کاروں میں خوف پھیلا دیا۔
-
مارکیٹ میں ہلکی ٹریڈنگ: امریکی مارکیٹ کی چھٹی کی وجہ سے ٹریڈنگ کا حجم کم ہے. لیکن اس کے باوجود پاؤنڈ امریکی ڈالر کے مقابلے میں دفاعی انداز اختیار کئے ہوئے ہے۔
-
اقتصادی اعداد و شمار کی اہمیت: حالیہ مثبت امریکی GDP اور بے روزگاری کے اعداد و شمار نے ڈالر کو کچھ سہارا دیا ہے، لیکن آج جاری ہونے والے PCE انڈیکس کی رپورٹ مارکیٹ کی اگلی سمت کا تعین کرے گی۔
-
UK Bonds Market کا بحران: برطانیہ کے بانڈز (Gilts) میں حالیہ بڑے پیمانے پر فروخت اور پیداوار (Yields) میں اضافہ پاؤنڈ پر دباؤ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
-
کلیدی تکنیکی لیولز: 1.3460-1.3440 کا لیول GBPUSD کے لیے ایک مضبوط سپورٹ (Support) کے طور پر کام کر رہا ہے، جبکہ 1.3500 کا لیول ایک اہم مزاحمت (Resistance) ہے۔
-
آگے کا راستہ: مختصر مدت میں اتار چڑھاؤ کا امکان ہے، لیکن طویل مدتی رجحان (Long-Term Trend) کا انحصار آنے والے اقتصادی اعداد و شمار اور عالمی مارکیٹ کے رویے پر ہوگا۔
برطانوی Loan Market کا بحران اور GBPUSD کی سمت.
UK Bonds Market میں حالیہ بحران نے عالمی سرمایہ کاروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بڑھتی ہوئی ییلڈز اور حکومتی پالیسی پر عدم اعتماد نے مارکیٹ کو غیر یقینی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر، اس ہلچل کے باوجود GBPUSD اپنی پوزیشن 1.3500 سے اوپر قائم رکھنے میں کامیاب رہا، جس کی بڑی وجہ US Dollar کی کمزوری ہے۔
بانڈ مارکیٹ میں کیا ہو رہا ہے؟
یہ اہم ہے کہ GBPUSD کی حالیہ صورتحال کو صرف ڈالر کی کمزوری کی روشنی میں نہ دیکھا جائے۔ اس کی ایک بڑی وجہ UK Bonds Market میں جاری بحران ہے۔ حال ہی میں، برطانیہ کے سرکاری بانڈز (Gilts) کی پیداوار (Yields) 27 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے. جس نے مارکیٹ میں ہلچل مچا رکھی ہے۔
حکومت کے قرض لینے کی لاگت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے. جس سے بانڈز کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ یہ صورتحال بنیادی طور پر برطانیہ کی مالیاتی صحت پر بڑھتے ہوئے خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔ سرمایہ کار برطانوی حکومت کی بجٹ خسارے کو سنبھالنے کی صلاحیت پر شک کر رہے ہیں. جس کی وجہ سے وہ برطانوی اثاثے بیچ رہے ہیں۔
عام طور پر، بانڈ کی زیادہ پیداوار غیر ملکی سرمایہ کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے اور کرنسی کو مضبوط کرتی ہے۔ لیکن اس صورت میں، زیادہ پیداوار مالیاتی تناؤ اور عدم استحکام کی نشانی سمجھی جا رہی ہے۔
اس کی وجہ سے سرمایہ کار "محفوظ پناہ گاہ” (Safe-Haven) کے طور پر امریکی ڈالر جیسی کرنسیوں کی طرف بھاگ رہے ہیں۔ یہ عمل GBPUSD پر نیچے کا دباؤ ڈال رہا ہے اور ڈالر کی کمزوری کے باوجود پاؤنڈ کی بڑھت کو محدود کر رہا ہے۔ درحقیقت، UK Bonds Market کا بحران ڈالر کی کمزوری پر حاوی ہو رہا ہے۔
تکنیکی انڈیکیٹرز (Technical Analysis) کیا اشارہ دے رہے ہیں؟
4-گھنٹے کے چارٹ پر Relative Strength Index (RSI) 50 سے نیچے گر گیا ہے، اور GBPUSD نے 100-پیریڈ Simple Moving Average (SMA) سے بھی نیچے واپسی کی ہے. جو کہ 1.3390 پر ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بڑھنے کا مومینٹم (Bullish Momentum) کمزور ہو رہا ہے۔
اہم سپورٹ اور مزاحمتی لیولز:
-
سپورٹ (Support) لیولز:
-
1.3360-1.3340: یہ ایک مضبوط سپورٹ ایریا ہے جو Fibonacci 50% retracement، 100-day SMA، اور 200-period SMA کا سنگم ہے۔
-
1.3300-1.3290: اس لیول پر ایک اور مضبوط سپورٹ موجود ہے. جو کہ ایک static level اور Fibonacci 38.2% retracement کا امتزاج ہے۔
-
-
مزاحمت (Resistance) لیولز:
-
1.3390-1.3400: یہ ایک اہم مزاحمتی زون ہے. جہاں 100-period SMA اور ایک static level موجود ہیں۔
-
1.3440: اگلی مزاحمت Fibonacci 61.8% Retracement پر ہے۔
-
1.3500: یہ ایک نفسیاتی اور Round Level مزاحمت ہے۔
-
مارکیٹ میں ہلکی ٹریڈنگ کے دنوں میں، تکنیکی لیولز کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ ایسے دن، لیولز یا تو مضبوطی سے تھامے رہتے ہیں. یا پھر ان کا بریک آؤٹ (Breakout) بہت تیزی سے ہوتا ہے۔ لہٰذا، لیولز کے گرد اپنی پوزیشنز کو ترتیب دینا خطرے کو منظم کرنے کے لیے ایک اچھی حکمت عملی ہے۔

مستقبل کی سمت
GBPUSD کی اگلی بڑی حرکت کا انحصار PCE انڈیکس کی رپورٹ پر ہوگا. جو مارکیٹ کے بنیادی رجحان کو متاثر کر سکتا ہے۔ ٹریڈرز کو دونوں سمتوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ موجودہ سپورٹ اور مزاحمت کے لیولز کا احترام کرنا اور ان کے ارد گرد اپنی پوزیشنوں کو ترتیب دینا ایک دانشمندانہ حکمت عملی ہے۔
آخر میں، مارکیٹ میں ہلکی ٹریڈنگ اور آنے والے اہم اعداد و شمار کے درمیان، GBPUSD کی اگلی چال کیا ہوگی؟ کیا ڈالر کی کمزوری برقرار رہے گی. یا PCE رپورٹ اسے دوبارہ مضبوط کر دے گی؟ آپ کا اس پر کیا خیال ہے؟ ہمیں نیچے کمنٹس میں بتائیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



