US Dollar مضبوط، مگر خطرات برقرار — جیو پولیٹکس نے مارکیٹ کو الجھا دیا

US Dollar امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) بدھ کے روز مستحکم رہا اور ایک ہفتے کی بلند سطح کے قریب ٹریڈ کرتا دکھائی دیا، کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے باوجود کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔ سرمایہ کار اس پیش رفت کو مستقل امن کے بجائے ایک عارضی وقفہ سمجھ رہے ہیں، جس نے عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو برقرار رکھا ہے۔

جنگ بندی میں توسیع مگر اعتماد کا فقدان

امریکی صدر Donald Trump نے جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے چند گھنٹے پہلے اس میں توسیع کا اعلان کیا، لیکن ایران نے ابھی تک اسے باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا۔ اس کی بڑی وجہ امریکی بحری ناکہ بندی ہے، جسے تہران نے جارحانہ اقدام قرار دیا ہے۔

یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات ابھی بھی موجود ہیں، اور خاص طور پر Strait of Hormuz کے حوالے سے کشیدگی عالمی منڈیوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

تیل کی قیمتیں اور ڈالر کی مضبوطی کا تعلق

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں، جس کا براہ راست اثر امریکی معیشت اور مانیٹری پالیسی پر پڑ رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتیں مہنگائی کے خدشات کو بڑھا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں سرمایہ کار اب فوری شرح سود میں کمی کی توقع نہیں کر رہے۔

یہ صورتحال Federal Reserve کے لیے پالیسی کو مزید سخت رکھنے کا جواز فراہم کرتی ہے، جس سے امریکی ڈالر کو سپورٹ مل رہی ہے۔

حالیہ سروے کے مطابق:

زیادہ تر ماہرین کا ماننا ہے کہ شرح سود ستمبر تک 3.50% سے 3.75% کے درمیان رہ سکتی ہے

جبکہ سال کے اختتام تک کم از کم ایک کٹوتی کی توقع برقرار ہے

یہ بدلتی ہوئی توقعات ڈالر کی قیمت میں استحکام کا ایک بڑا سبب ہیں۔

مارکیٹ سینٹیمنٹ: رسک آن مگر احتیاط برقرار

اگرچہ جنگ بندی میں توسیع نے وقتی طور پر رسک سینٹیمنٹ کو بہتر کیا، لیکن جغرافیائی سیاسی خطرات اب بھی مارکیٹ کو مکمل طور پر “رسک آن” موڈ میں جانے سے روک رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ:

ایک طرف اسٹاک مارکیٹس کو سپورٹ مل رہی ہے

دوسری طرف ڈالر اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے

یہ ایک کلاسک "mixed sentiment” ماحول ہے، جہاں سرمایہ کار نہ مکمل طور پر پُراعتماد ہیں اور نہ ہی مکمل خوفزدہ۔

US Dollar ٹیکنیکل تجزیہ: ڈالر پر دباؤ ابھی ختم نہیں ہوا

US Dollar ٹیکنیکل چارٹ کے مطابق، امریکی ڈالر انڈیکس اب بھی اہم موونگ ایوریجز کے نیچے ٹریڈ کر رہا ہے، جو قلیل مدتی طور پر بیئرش رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

اہم سطحیں:

مزاحمت (Resistance):

98.48 → 100-day SMA

98.53 → 200-day SMA

98.81 → 50-day SMA

حمایت (Support):

98.00 → فوری سپورٹ

97.63 → گزشتہ ہفتے کی کم سطح

97.00 → اگلا اہم نفسیاتی لیول

RSI تقریباً 44 پر ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ میں ابھی بھی کمزوری موجود ہے، جبکہ MACD منفی زون میں رہتے ہوئے بتدریج بہتر ہو رہا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ بیئرش مومینٹم کمزور پڑ رہا ہے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

بدھ کو معاشی ڈیٹا کم ہونے کی وجہ سے مارکیٹ کی توجہ مکمل طور پر جیو پولیٹیکل خبروں پر مرکوز رہے گی۔ تاہم، جمعرات کو درج ذیل ڈیٹا اہم ہوگا:

ہفتہ وار بے روزگاری کے دعوے

S&P Global PMI ابتدائی ڈیٹا

یہ ڈیٹا امریکی معیشت کی رفتار اور فیڈ کی آئندہ پالیسی کے بارے میں مزید وضاحت فراہم کرے گا۔

حتمی تجزیہ: ڈالر مضبوط مگر غیر یقینی برقرار

مجموعی طور پر، امریکی ڈالر اس وقت ایک دلچسپ مرحلے میں ہے:

جیو پولیٹیکل کشیدگی → ڈالر کو سہارا دے رہی ہے

بلند تیل قیمتیں → مہنگائی کے خدشات بڑھا رہی ہیں

فیڈ پالیسی → شرح سود میں فوری کمی کے امکانات کم

لیکن دوسری طرف:

ٹیکنیکل سطحوں پر رکاوٹیں

اور عالمی رسک سینٹیمنٹ

ڈالر کی مزید مضبوطی کو محدود کر سکتے ہیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button