ٹرمپ کے ایران سے متعلق سخت مؤقف پر امریکی ڈالر میں بحالی، NFP رپورٹ سے قبل مارکیٹ محتاط
US Dollar امریکی ڈالر (USD) نے دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں اپنی حالیہ کمزوری کا کچھ حصہ واپس حاصل کر لیا ہے، کیونکہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ کاری (Safe Haven) کی جانب راغب کیا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب Donald Trump نے ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ جس سے مارکیٹ میں ایک بار پھر بے یقینی کی فضا قائم ہو گئی۔
ہفتے کے آغاز میں ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ امریکہ دو سے تین ہفتوں میں ایران سے نکل سکتا ہے۔ جس سے عالمی مارکیٹس میں رسک لینے کا رجحان (Risk-On Sentiment) پیدا ہوا تھا۔ تاہم، اب اپنے بیان سے پیچھے ہٹنے کے بعد سرمایہ کاروں نے دوبارہ محتاط رویہ اختیار کر لیا ہے۔ جس کے نتیجے میں رسک آف ٹریڈز میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
US Dollar ڈالر انڈیکس 100 کی سطح سے اوپر واپس
ان حالات کے پیش نظر US Dollar Index (DXY) میں 0.65 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے اور یہ دوبارہ اہم نفسیاتی سطح 100.00 سے اوپر آ گیا ہے۔
یہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران امریکی ڈالر اب بھی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ انتخاب سمجھا جاتا ہے۔
امریکی معیشت کی مضبوطی برقرار
اعداد و شمار کے حوالے سے بھی امریکی ڈالر کو مضبوط سہارا ملا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق:
ADP نان فارم ایمپلائمنٹ چینج 62 ہزار رہی، جو توقعات سے بہتر ہے
کور ریٹیل سیلز اور ریٹیل سیلز دونوں نے مارکیٹ پیشگوئیوں کو پیچھے چھوڑ دیا
مارچ کے لیے ISM مینوفیکچرنگ رپورٹ نے ظاہر کیا کہ مسلسل تیسرے مہینے معاشی سرگرمی میں اضافہ ہوا
یہ تمام اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکہ کی معیشت، ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود، اب بھی مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہے۔
NFP رپورٹ سے قبل مارکیٹ کی نظریں اہم ڈیٹا پر
آج امریکی ڈالر کی طاقت کا اصل امتحان ابتدائی بے روزگاری کے دعووں (Unemployment Claims) کے ڈیٹا سے ہوگا۔ اس کے بعد سب سے اہم Non-Farm Payrolls (NFP) رپورٹ گڈ فرائیڈے (3 اپریل 2026) کو جاری کی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق:
مارچ میں تقریباً 65,000 نئی ملازمتیں شامل ہونے کی توقع ہے
بے روزگاری کی شرح 4.4% پر برقرار رہنے کا امکان ہے
اگر یہ اعداد و شمار توقعات کے مطابق یا اس سے بہتر آئے، تو امریکی ڈالر میں مزید مضبوطی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ تاہم، کمزور ڈیٹا کی صورت میں حالیہ تیزی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
نتیجہ: جیوپولیٹکس اور ڈیٹا دونوں ڈالر کے لیے اہم
مجموعی طور پر، امریکی ڈالر کی حالیہ بحالی دو بڑے عوامل کا نتیجہ ہے:
ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی جیوپولیٹیکل کشیدگی
مضبوط امریکی معاشی ڈیٹا
آنے والے دنوں میں NFP رپورٹ اور دیگر معاشی اشاریے یہ طے کریں گے کہ آیا ڈالر اپنی موجودہ رفتار برقرار رکھ سکتا ہے یا نہیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



