US Supreme Court کا Global Tariffs پر فیصلہ اور ٹرمپ کا نیا پلان: ڈالر انڈیکس اور مارکیٹ پر اثرات
Financial Markets React to Supreme Court Decision and New 15% Global Tariff Threat
20 فروری 2026 کو عالمی مارکیٹس میں اس وقت ایک بڑی ہلچل مچ گئی. جب US Supreme Court نے سابق صدر ٹرمپ کے دور کے عالمی ٹیرف (Global Tariffs) کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کر دیا۔ یہ فیصلہ انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) کے تحت لگائے گئے ٹیرف کے فریم ورک کو ختم کرنے کے مترادف تھا۔
تاہم، مارکیٹ کو ملنے والا یہ ریلیف بہت مختصر ثابت ہوا. کیونکہ چند ہی گھنٹوں میں ٹرمپ نے ایک متبادل قانونی اتھارٹی کے تحت 15 فیصد بلینکٹ ٹیرف (Blanket Tariff) تجویز کر دیا۔
اس غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے. کہ اب ڈالر کی سمت کیا ہوگی؟ اس بلاگ پوسٹ میں ہم گہرائی سے جائزہ لیں گے. کہ ان سیاسی تبدیلیوں کا ڈالر انڈیکس (DXY) اور ٹریژری ییلڈز (Treasury Yields) پر کیا اثر پڑے گا۔
بنیادی نکات (Key Takeaways)
-
سپریم کورٹ کا فیصلہ: عدالت نے IEEPA کے تحت لگائے گئے ٹیرف کو غیر آئینی قرار دے کر ختم کر دیا. جس سے ابتدائی طور پر مارکیٹ میں مثبت لہر آئی۔
-
نیا 15% ٹیرف: ٹرمپ کی جانب سے فوری طور پر نئے 15 فیصد عالمی ٹیرف کی تجویز نے غیر یقینی صورتحال (Uncertainty) کو دوبارہ جنم دے دیا ہے۔
-
ڈالر انڈیکس (DXY): ڈالر فی الحال 96.5 اور 99.3 کے درمیان ایک اہم موڑ پر ہے. بریک آؤٹ ہی اگلی سمت کا تعین کرے گا۔
-
ٹریژری ییلڈز (Yields): 2 سالہ اور 10 سالہ ییلڈز اہم سپورٹ اور ریزسٹنس لیولز پر ہیں. جو Federal Reserve کی مستقبل کی پالیسی کی عکاسی کریں گے۔
امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ اور نئے Global Tariffs کا ڈالر پر کیا اثر ہوگا؟
سپریم کورٹ کے فیصلے نے قانونی پیچیدگیوں کو جنم دیا ہے، جس کے نتیجے میں US Global Tariffs Impact on DXY and Treasury Yields ایک اہم موضوع بن گیا ہے۔ جب عدالت نے پرانے ٹیرف ڈھانچے کو کالعدم کیا. تو مارکیٹ نے اسے "رسک آن” (Risk-on) موڈ کے طور پر لیا، یعنی سرمایہ کاروں نے ڈالر سے پیسہ نکال کر خطرناک اثاثوں (مثلاً اسٹاکس) میں لگانا شروع کیا۔ لیکن 15 فیصد نئے ٹیرف کی تجویز نے اس خوشی کو تشویش میں بدل دیا۔
اگر نیا ٹیرف نافذ ہوتا ہے، تو یہ درآمدی اشیاء کو مہنگا کر دے گا، جس سے افراط زر (Inflation) بڑھ سکتی ہے۔ مہنگائی بڑھنے کا مطلب ہے کہ فیڈرل ریزرو شرح سود کو بلند رکھے گا، جو ڈالر کی قدر میں اضافے (Appreciation) کا باعث بنتا ہے۔
ڈالر انڈیکس (DXY) کا ٹیکنیکل تجزیہ: کیا ڈالر 100 کی سطح عبور کرے گا؟
ڈالر انڈیکس اس وقت ایک ایسی پوزیشن پر ہے جسے ٹیکنیکل اصطلاح میں "کوائلنگ” (Coiling) کہتے ہیں. یعنی قیمت ایک تنگ دائرے میں سمٹ رہی ہے۔
DXY کے اہم لیولز (Key Levels)
| لیول (Level) | اہمیت (Significance) | ممکنہ اثر (Potential Impact) |
| 99.3 | میجر ریزسٹنس (Major Resistance) | اس سے اوپر بریک آؤٹ ڈالر کو 100+ تک لے جا سکتا ہے۔ |
| 98.0 | لوکل ریزسٹنس (Local Resistance) | اس سطح کو عبور کرنا تیزی (Bullishness) کی علامت ہوگا۔ |
| 96.5 | مضبوط سپورٹ (Strong Support) | ماہانہ ٹرینڈ لائن؛ یہاں سے قیمت باؤنس کر سکتی ہے۔ |
| 92.0 | میکرو سپورٹ (Macro Support) | کسی بڑی معاشی مندی کی صورت میں آخری حد۔ |
مارکیٹ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر DXY 98 کی سطح سے اوپر نکلتا ہے. تو یہ 99.3 کی سابقہ بلند ترین سطح کو دوبارہ چھو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر مقامی ٹرینڈ لائن ٹوٹتی ہے. تو جنوری کی نچلی سطح 96.5 ہدف ہوگی۔

اپنے 10 سالہ تجربے میں، میں نے دیکھا ہے کہ جب بھی کوئی بڑی قانونی تبدیلی یا سپریم کورٹ کا فیصلہ آتا ہے. تو مارکیٹ پہلے جذباتی ردعمل (Emotional Reaction) دیتی ہے. اور پھر بنیادی حقائق (Fundamentals) کی طرف لوٹتی ہے۔ ٹیرف کی خبروں پر ڈالر کا اس طرح سکرنا (Coiling) اس بات کی علامت ہے. کہ بڑے انسٹی ٹیوشنل پلیئرز ایک بڑے بریک آؤٹ کا انتظار کر رہے ہیں
ٹریژری ییلڈز (Treasury Yields) کا ڈالر سے تعلق کیا ہے؟
ٹریژری ییلڈز یعنی امریکی حکومت کے بانڈز پر ملنے والا منافع، ڈالر کی قیمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ خاص طور پر 2 سالہ اور 10 سالہ ییلڈز پر نظر رکھنا ضروری ہے۔
2 سالہ ییلڈ (2-Year Yield): فیڈ پالیسی کا آئینہ
2 سالہ ییلڈ اس وقت 3.45% سے 3.50% کے درمیان سپورٹ لے رہی ہے۔ ٹیکنیکل چارٹ پر 20-week EMA کا 200-week EMA سے نیچے جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ییلڈز میں اضافے کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ اگر یہ 3.5% سے اوپر رہتی ہے. تو اس کا مطلب ہے کہ مارکیٹ اب بھی سخت مانیٹری پالیسی کی توقع کر رہی ہے۔
10 سالہ ییلڈ (10-Year Yield): معاشی اعتماد
10 سالہ ییلڈ کے لیے 4.20% کی سطح ایک دیوار ثابت ہو رہی ہے۔ اگر ییلڈ 4.20% کو عبور کر لیتی ہے، تو یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ سرمایہ کار مستقبل میں افراط زر بڑھنے کی توقع کر رہے ہیں، جو ڈالر کے لیے مثبت (Bullish) ہوگا۔
مستقبل کا منظرنامہ
جب ہم US Global Tariff Impact on DXY and Treasury Yields کا گہرائی سے تجزیہ کرتے ہیں. تو دو ممکنہ صورتحال سامنے آتی ہیں:
-
ہاکش منظرنامہ (Hawkish Scenario): اگر ٹرمپ کا 15% ٹیرف پلان قانونی شکل اختیار کر لیتا ہے. اور 10 سالہ ییلڈ 4.20% سے اوپر نکل جاتی ہے. تو ڈالر انڈیکس تیزی سے 100 اور پھر 103 کی طرف بڑھے گا۔
-
ڈووش منظرنامہ (Dovish Scenario): اگر ٹیرف پلان قانونی رکاوٹوں کا شکار ہو جاتا ہے. اور 2 سالہ ییلڈ 3.5% سے نیچے گرتی ہے. تو ڈالر انڈیکس میں کمی آئے گی اور یہ 96.5 یا اس سے بھی نیچے 92 کی سطح تک جا سکتا ہے۔
حرف آخر.
امریکی سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ اور ٹرمپ کی نئی ٹیرف تجویز نے فنانشل مارکیٹس کو ایک دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ڈالر انڈیکس (DXY) کی موجودہ "کوائلنگ” اور ٹریژری ییلڈز کے اہم موڑ اس بات کا ثبوت ہیں. کہ مارکیٹ کسی بڑے فیصلے کی منتظر ہے۔
ایک تجربہ کار ٹریڈر کے طور پر، میری رائے یہ ہے. کہ اس وقت جارحانہ ٹریڈنگ کے بجائے ان اہم لیولز (99.3 اور 96.5) کے ٹوٹنے کا انتظار کرنا زیادہ دانشمندانہ ہوگا۔ مارکیٹ کی تاریخ گواہ ہے کہ جب سیاسی غیر یقینی اور معاشی بنیادی ڈھانچہ آمنے سامنے ہوں. تو جیت ہمیشہ ان کی ہوتی ہے جو صبر کے ساتھ ٹرینڈ کی تصدیق کا انتظار کرتے ہیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا ٹرمپ کا 15 فیصد Global Tariffs Plan ڈالر کو دوبارہ 100 کے پار لے جائے گا. یا US Supreme Court کی مداخلت ڈالر کو کمزور کرے گی؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹس میں کریں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



