AUD/USD میں تیزی کی واپسی، مگر بریک آؤٹ کا انتظار

AUD/USD میں تیزی کی واپسی، مگر بریک آؤٹ کا انتظار
AUD/USD کرنسی جوڑی نے ہفتے کے آغاز میں معمولی دباؤ کے بعد دوبارہ تیزی اختیار کر لی ہے اور مسلسل دوسرے روز مثبت زون میں داخل ہو کر ایشیائی سیشن میں 0.7170 کے قریب تین روزہ بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے۔
تاہم، یہ اضافہ ابھی تک مضبوط بریک آؤٹ میں تبدیل نہیں ہو سکا کیونکہ قیمت گزشتہ دو ہفتوں سے ایک محدود رینج میں پھنسی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ میں واضح سمت کا فقدان ہے اور ٹریڈرز کسی بڑے محرک (catalyst) کا انتظار کر رہے ہیں۔
امریکی ڈالر دباؤ میں کیوں؟
حیران کن طور پر، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود US Dollar مضبوطی دکھانے میں ناکام رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدہ صورتحال اور Strait of Hormuz پر بڑھتی ہوئی کشیدگی عام طور پر ڈالر کے لیے مثبت ہوتی ہے۔ مگر اس بار صورتحال مختلف نظر آ رہی ہے۔
اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ کار اس ہفتے ہونے والے Federal Reserve کے اہم پالیسی اجلاس سے قبل محتاط ہیں۔ فیڈ کی جانب سے شرح سود، مہنگائی اور معاشی outlook سے متعلق کسی بھی اشارے کا براہ راست اثر ڈالر اور عالمی مالیاتی منڈیوں پر پڑ سکتا ہے۔ اسی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ڈالر کی مانگ محدود ہو گئی ہے۔
رسک سینٹیمنٹ اور آسٹریلین ڈالر کی مضبوطی
عالمی سطح پر بہتر رسک سینٹیمنٹ بھی Aussie کے حق میں جا رہا ہے۔ جب سرمایہ کار زیادہ رسک لینے کے موڈ میں ہوتے ہیں۔ تو وہ محفوظ اثاثوں (safe-haven) جیسے ڈالر کے بجائے ہائی ییلڈ کرنسیز جیسے آسٹریلین ڈالر کی طرف مائل ہوتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ Reserve Bank of Australia کا نسبتاً سخت (hawkish) مؤقف بھی Australian Dollar کو سپورٹ فراہم کر رہا ہے۔ RBA کی جانب سے شرح سود میں نرمی کے امکانات کم ہونے کی وجہ سے آسٹریلین ڈالر کو مضبوط بنیاد مل رہی ہے۔ جو AUD/USD کو اوپر کی طرف دھکیل رہی ہے۔
تکنیکی تجزیہ: بُلش کنسولیڈیشن جاری
اگر تکنیکی پہلو سے جائزہ لیا جائے تو موجودہ رینج باؤنڈ موومنٹ کو ایک bullish consolidation phase کہا جا سکتا ہے۔ مارچ میں قیمت نے 100-day Simple Moving Average (SMA) سے اچھال لیا تھا۔ جس کے بعد سے مجموعی رجحان مثبت ہی رہا ہے۔
مارکیٹ میں یہ رویہ اکثر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ:
قیمت اوپر جانے سے پہلے طاقت جمع کر رہی ہے۔ سرمایہ کار بڑے بریک آؤٹ سے پہلے پوزیشنز بنا رہے ہیں۔ RSI اور MACD کیا اشارہ دے رہے ہیں؟
تکنیکی انڈیکیٹرز بھی تیزی کے حق میں دکھائی دیتے ہیں:
Relative Strength Index (RSI) 60 سے اوپر ہے، جو مضبوط مومینٹم کو ظاہر کرتا ہے۔ مگر ابھی overbought نہیں ہوا
MACD (Moving Average Convergence Divergence) مثبت زون میں ہے۔ جو upward momentum کی تصدیق کرتا ہے
یہ دونوں انڈیکیٹرز اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ کہ مارکیٹ میں ابھی مزید اوپر جانے کی گنجائش موجود ہے۔
اہم مزاحمتی سطح: بریک آؤٹ کی کنجی
اگر AUD/USD کو واضح تیزی دکھانی ہے تو اسے 0.7185 – 0.7190 کی مزاحمتی حد کو توڑنا ہوگا۔ یہی وہ رینج ہے۔ جو گزشتہ دو ہفتوں سے قیمت کو محدود کیے ہوئے ہے۔
اگر یہ سطح مضبوطی سے ٹوٹ جاتی ہے تو:
نئی تیزی کی لہر شروع ہو سکتی ہے
قیمت مزید اوپر جا کر نئی highs بنا سکتی ہے
مارکیٹ میں bullish sentiment مزید مضبوط ہو جائے گا

ڈاؤن سائیڈ رسک: سپورٹ لیولز پر نظر
دوسری جانب، اگر قیمت میں اصلاح (pullback) آتی ہے تو 0.7100 ایک اہم سپورٹ لیول کے طور پر سامنے آتا ہے۔
اس سطح کے قریب خریدار دوبارہ متحرک ہو سکتے ہیں
pullback کو buying opportunity سمجھا جا سکتا ہے
لیکن اگر قیمت اس سطح سے نیچے واضح طور پر بریک کر جاتی ہے تو:
قلیل مدتی bearish correction شروع ہو سکتا ہے
مومینٹم انڈیکیٹرز کمزور ہو سکتے ہیں
overall bullish structure وقتی طور پر متاثر ہو سکتا ہے
آگے کیا دیکھنا اہم ہوگا؟
آنے والے دنوں میں AUD/USD کی سمت کا تعین چند اہم عوامل کریں گے:
فیڈرل ریزرو کا پالیسی فیصلہ
امریکی معاشی ڈیٹا، خاص طور پر مہنگائی اور روزگار کے اعداد و شمار
مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی صورتحال
RBA کی پالیسی توقعات
نتیجہ: محتاط امید پسندی
مجموعی طور پر، Aussie میں تیزی کے آثار واضح ہیں مگر مارکیٹ ابھی بھی کنسولیڈیشن فیز میں ہے۔ تکنیکی انڈیکیٹرز اور بنیادی عوامل دونوں تیزی کی حمایت کر رہے ہیں، لیکن ایک مضبوط بریک آؤٹ کے بغیر بڑے ٹرینڈ کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔
ٹریڈرز کے لیے بہترین حکمت عملی یہی ہے کہ وہ 0.7190 کے اوپر بریک آؤٹ یا 0.7100 کے نیچے بریک ڈاؤن کا انتظار کریں تاکہ واضح سمت میں انٹری لی جا سکے۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



