SBP Monetary Policy 2026: شرح سود 10.5% پر برقرار
Monetary Policy Decision Defies Rate Cut Expectations as Inflation and Growth Outlook Balance
پاکستان کی معاشی صورتحال میں سال 2026 کا آغاز ایک حیران کن موڑ سے ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان SBP نے سال کی پہلی مانیٹری پالیسی کمیٹی (MPC) کے اجلاس میں شرح سود (Interest Rate) کو 10.5% پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ مارکیٹ کے ان تمام تجزیہ کاروں اور سرمایہ کاروں کے لیے غیر متوقع تھا. جو شرح سود میں کمی (Rate Cut) کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ اس بلاگ میں ہم گہرائی سے جائزہ لیں گے.، کہ آخر مرکزی بینک نے "اسٹیٹس کو” (status quo) برقرار رکھنے کا سخت فیصلہ کیوں کیا اور اس کے ملکی معیشت، کاروبار اور عام آدمی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
اہم نکات (Key Highlights)
-
اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی 2026 (SBP Monetary Policy 2026 Pakistan) کے پہلے اجلاس میں شرح سود کو 10.5% پر مستحکم رکھا۔
-
فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے برعکس تھا، جہاں 50 سے 100 بنیادی پوائنٹس کی کمی متوقع تھی۔
-
بنیادی افراط زر (Core Inflation) کا 7.4% پر برقرار رہنا اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی فیصلے کی بنیادی وجہ بنی۔
-
زرمبادلہ کے ذخائر (FX reserves) 16.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں. جو بیرونی استحکام کی علامت ہیں
گورنر اسٹیٹ بینک نے جی ڈی پی (GDP) گروتھ کا ہدف 3.75% سے 4.75% کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی ہے
کیا SBP کا فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے خلاف تھا؟
فنانشل مارکیٹ کے ماہرین (Market experts) اور بڑے بروکریج ہاؤسز جیسے عارف حبیب لمیٹڈ اور ٹاپ لائن سیکیورٹیز یہ توقع کر رہے تھے. کہ شرح سود میں کم از کم 0.75% سے 1% تک کی کمی کی جائے گی۔
رائٹرز (Reuters) کے سروے میں بھی اکثریت نے ریٹ کٹ (rate cut) کی پیش گوئی کی تھی۔ مارکیٹ کا خیال تھا. کہ چونکہ مہنگائی (inflation) کے اعداد و شمار نیچے آ رہے ہیں. اس لیے اب مانیٹری پالیسی میں نرمی کا وقت آ گیا ہے۔ تاہم، مرکزی بینک نے احتیاط کا راستہ اختیار کرتے ہوئے سب کو حیران کر دیا۔
میں نے اپنے دس سالہ کیریئر میں کئی بار دیکھا ہے. کہ جب ریٹیل ٹریڈرز اور بڑے ادارے ایک ہی سمت میں سوچ رہے ہوتے ہیں. تو سینٹرل بینک اکثر "احتیاط” کا کارڈ کھیلتا ہے۔ 2026 کا یہ فیصلہ مجھے 2010 کی دہائی کے ان واقعات کی یاد دلاتا ہے جب بظاہر ڈیٹا بہتر ہو رہا تھا. لیکن پس پردہ موجود "بنیادی افراط زر” (Core Inflation) کی سختی نے پالیسی سازوں کو ہاتھ روکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ مارکیٹ ہمیشہ مستقبل کی قیمتوں کا تعین (Pricing-In) کرتی ہے. لیکن سینٹرل بینک کی نظر "پائیداری” پر ہوتی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے شرح سود کیوں نہیں کم کی؟
ایم پی سی (MPC) کے اعلامیے کے مطابق، اس فیصلے کے پیچھے چند ٹھوس معاشی وجوہات ہیں:
1۔ کور انفلیشن (Core Inflation) کا دباؤ
اگرچہ عمومی افراط زر (headline inflation) 5.6% تک گر چکی ہے. لیکن کور انفلیشن (جس میں خوراک اور توانائی شامل نہیں ہوتی) اب بھی 7.4% پر جمی ہوئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کا ماننا ہے. کہ جب تک کور انفلیشن واضح طور پر نیچے نہیں آتی. شرح سود میں کمی کرنا خطرناک ہو سکتا ہے. کیونکہ یہ دوبارہ مہنگائی کی لہر پیدا کر سکتا ہے۔
2۔ معاشی سرگرمیوں میں تیزی (Economic Momentum)
حالیہ ہائی فریکوئنسی انڈیکیٹرز (HFIs) بشمول لارج سکیل مینوفیکچرنگ (LSM) ظاہر کرتے ہیں. کہ پاکستان کی معیشت توقع سے زیادہ تیزی سے بحال ہو رہی ہے۔ جب معیشت زیادہ تیزی سے بڑھتی ہے. تو طلب (Demand) میں اضافہ ہوتا ہے. جو قیمتوں کو اوپر لے جا سکتا ہے۔
3۔ تجارتی خسارے (Trade Deficit) میں اضافہ
درآمدات (imports) کے حجم میں اضافے کی وجہ سے تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے نوٹ کیا کہ اگر شرح سود ابھی کم کر دی گئی. تو درآمدی طلب میں مزید اضافہ ہو گا. جس سے روپے کی قدر اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
معاشی ترقی اور افراط زر کا مستقبل: SBP کے اعداد و شمار
گورنر SBP جمیل احمد نے مستقبل کے حوالے سے ایک متوازن نقشہ پیش کیا ہے:
| انڈیکیٹر (Indicator) | پیش گوئی / صورتحال (Projection) |
| جی ڈی پی گروتھ (GDP Growth) | 3.75% سے 4.75% |
| مہنگائی کا ہدف (FY26-27) | 5% سے 7% |
| زرمبادلہ کے ذخائر (FX Reserves) | $16.1 Billion (as of Jan 16) |
| کور انفلیشن (Core Inflation) | 7.4% (Steady) |
SBP کو خدشہ ہے کہ سال 2026 کے دوسرے حصے میں کچھ مہینوں کے لیے افراط زر 7% سے تجاوز کر سکتی ہے۔ اس "عارضی اضافے” (temporary spike) سے بچنے کے لیے ابھی شرح سود کو بلند رکھنا ضروری سمجھا گیا۔
بزنس کمیونٹی اور انڈسٹری کا ردِعمل
پاکستان کی بزنس کمیونٹی، بالخصوص ایف پی سی سی آئی (FPCCI) نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ کاروباری رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ:
-
قرضوں کی لاگت (Cost of Borrowing): بلند شرح سود کی وجہ سے صنعتوں کے لیے قرض لینا اور کاروبار پھیلانا مشکل ہو گیا ہے۔
-
عالمی مسابقت (Global Competitiveness): جب علاقائی ممالک میں شرح سود کم ہے. تو پاکستانی برآمد کنندگان (Exporters) کے لیے بلند لاگت کے ساتھ مقابلہ کرنا مشکل ہے۔
ساقب فیاض مگون (نائب صدر FPCCI) کے مطابق، انڈسٹری کو فوری ریلیف کی ضرورت تھی. تاکہ پیداواری لاگت میں کمی لائی جا سکے۔
سرمایہ کاروں کے لیے حکمت عملی: اب کیا کریں؟
ایک ماہر فنانشل اسٹریٹجسٹ کے طور پر، میں سمجھتا ہوں. کہ اس فیصلے کے بعد مارکیٹ میں قلیل مدتی اتار چڑھاؤ (volatility) آ سکتا ہے۔
فکسڈ انکم انویسٹرز (Fixed Income Investors)
جو لوگ نیشنل سیونگز یا بینک ڈیپازٹس میں سرمایہ کاری کرتے ہیں. ان کے لیے یہ اچھی خبر ہے. کیونکہ انہیں مزید کچھ وقت کے لیے بلند منافع ملتا رہے گا. شرح سود برقرار رہنے کا مطلب ہے کہ ریٹرن (Yields) میں فوری کمی نہیں آئے گی۔
اسٹاک مارکیٹ (Stock Market)
اسٹاک مارکیٹ نے ریٹ کٹ کی امید لگائی تھی. اس لیے کچھ سیکٹرز (جیسے سیمنٹ اور آٹوموبائل، جو قرضوں پر منحصر ہیں) میں تھوڑی فروخت کا دباؤ دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم، بینکاری کا شعبہ (Banking Sector) اس فیصلے سے فائدہ اٹھائے گا. کیونکہ ان کے مارجنز (Spreads) بہتر رہیں گے۔
ٹریڈنگ کے میدان میں ایک مشہور مقولہ ہے "Buy the rumor, sell the news”۔ مارکیٹ پہلے ہی ریٹ کٹ کی خوشی منا رہی تھی. لیکن جب حقیقت سامنے آئی تو قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ ناگزیر تھی۔ ایک تجربہ کار ٹریڈر کے طور پر، میں ایسے وقت میں دفاعی اسٹاکس (Defensive Stocks) جیسے کہ فرٹیلائزر اور انرجی پر توجہ دیتا ہوں. جو شرح سود کے اتار چڑھاؤ سے کم متاثر ہوتے ہیں۔
مستقبل کی سمت (Conclusion)
SBP کا مانیٹری پالیسی 2026 (SBP Monetary Policy 2026 Pakistan) کا پہلا فیصلہ ایک "محتاط بحالی” (Cautious Recovery) کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ مارکیٹ اور صنعت ریٹ کٹ کے لیے بے چین تھے، لیکن مرکزی بینک نے طویل مدتی استحکام کو قلیل مدتی فائدے پر ترجیح دی ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا اسٹیٹ بینک کو بزنس کمیونٹی کی بات مانتے ہوئے شرح سود میں کمی کرنی چاہیے تھی. یا کور انفلیشن کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ فیصلہ درست ہے؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اس بلاگ کو اپنے ساتھی سرمایہ کاروں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ وہ بھی باخبر رہ سکیں۔
اگر آپ اپنی سرمایہ کاری کو موجودہ شرح سود کے مطابق ایڈجسٹ کرنا چاہتے ہیں. تو کیا آپ چاہیں گے کہ میں آپ کے لیے "پاکستان کے ٹاپ ہائی ییلڈ انویسٹمنٹ آپشنز” پر ایک تفصیلی گائیڈ تیار کروں؟
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



