Donald Trump اور General Asim Munir کی تاریخی ملاقات اور اسرائیل ایران جنگ.

Deep Talks, Regional Stability, And Pakistan’s Strategic Edge

پاکستانی سفارتکاری کی ایک بڑی کامیابی نے دنیا کی نظریں اپنی طرف موڑ لی ہیں۔ Donald Trump اور General Asim Munir کی وائٹ ہاؤس میں طویل اور غیرمعمولی ملاقات نے نہ صرف پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کو نئی جہت دی. بلکہ موجودہ Israel Iran War پر بھی عالمی تجزیہ کاروں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔

خلاصہ

  • Donald Trump نے General Asim Munir کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا.

  • ملاقات میں ISI Chief اور امریکی اعلیٰ عہدیدار بھی شامل تھے.

  • Iran اور Israel تنازع پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال جس کی تصدیق امریکی صدر نے بھی کی.

  • Pakistan India War روکنے میں General Asim Munir کا اہم کردار

  • ملاقات میں Trade, Economic Growth, Minerals, Artificial Intelligence, Crypto Currency جیسے موضوعات پر بات چیت.

  • پاکستان کی کوششوں کو امریکی صدر نے سراہا.

  • سفارتی حلقوں میں پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیا جا رہا ہے.

وائٹ ہاؤس میں غیرمعمولی ملاقات: کیا پیغام ملا؟

آئی ایس پی آر کے مطابق Donald Trump اور General Asim Munir کے درمیان ہونے والی ملاقات ابتدائی طور پر ایک گھنٹے کی طے تھی. لیکن گفتگو کی گہرائی نے اسے دو گھنٹے سے بھی زیادہ طوالت دی۔ اس ملاقات میں ISI Chief, امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio اور مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی Steve Witkoff بھی شریک تھے۔

Israel Iran War پر کھل کر بات

اس تاریخی ملاقات کا سب سے اہم پہلو Israel Iran War تھا۔ امریکی صدر نے تسلیم کیا کہ General Asim Munir خطے کو بخوبی جانتے ہیں. انکا کہنا تھا کہ شائد Iran کے بارے میں ان سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا. اور ان کے اس حوالے سے تجربات اور معلومات امریکہ کے لیے اہم ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں نے موجودہ صورتحال پر حل نکالنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنرل عاصم منیر نے موجودہ معاملے پر تفصیل سے روشنی ڈالی. اور انھیں ایسا لگا کہ شائد وہ مشرق وسطیٰ کے حالات سے خوش نہیں تھے، وہ ایک متاثر کن شخصیت ہیں.

Pakistan India War کیسے روکی گئی؟

صحافیوں سے گفتگو میں Donald Trump نے انکشاف کیا کہ General Asim Munir کی بدولت Pakistan India War کا خطرہ ٹل گیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ دونوں جوہری طاقتیں تھیں. اور اگر فیصلہ غلط ہوتا تو ایٹمی جنگ چھڑ سکتی تھی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ 6 سے 10 مئی تک جاری رہنے والے Indo Pak Conflict میں ٹرمپ کی مداخلت کے سبب جنگ بندی ممکن ہو پائی تھی. جس کا ذکر امریکی صدر ہر ایونٹ پر کرتے رہتے ہیں. تاہم بھارتی حکومت کیلئے انکے الفاظ شرمندگی کا باعث بنتے ہیں. کیونکہ نئی دہلی جنگ بندی کو مختلف انداز میں پیش کرتی ہے. 

تجارت اور ٹیکنالوجی: نئی راہیں

ملاقات میں صرف جنگ و امن کی بات نہیں ہوئی. بلکہ Trade, Artificial Intelligence, Crypto Currency، معدنیات اور توانائی جیسے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔ Donald Trump نے پاکستان کے ساتھ تجارتی شراکت داری کو امریکہ کے لیے فائدہ مند قرار دیا۔

ایران پر امریکی صدر کا بدلا ہوا لہجہ.

سیاسی مبصرین کے مطابق اس ملاقات کے بعد Donald Trump کا لہجہ ایران کے حوالے سے نرم پڑا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ General Asim Munir نے امریکی صدر کے سامنے پاکستان کا واضح اور دو ٹوک مؤقف رکھا. جسے نہ صرف سنا بلکہ سمجھا بھی گیا۔

علاقائی طاقتوں میں پاکستان کی پوزیشن مضبوط

خطے کی موجودہ صورتحال میں یہ ملاقات پاکستان کے لیے بڑی سفارتی فتح سمجھی جا رہی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے حملوں کی شدت کے باوجود General Asim Munir کی سفارتکاری نے امریکہ کو توازن کی راہ پر لانے کی کوشش کی ہے۔

کیا امریکہ ایران کے خلاف جائے گا؟

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے سوال پر Donald Trump نے مبہم جواب دیا کہ وہ شاید ایران کے خلاف کارروائی کریں یا شاید نہ کریں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کی پالیسی ابھی مکمل طور پر واضح نہیں۔

تجزیہ کاروں کی رائے

کئی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مستقبل میں امریکہ اور ایران کے درمیان اگر کوئی ثالثی ہوئی تو پاکستان کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ General Asim Munir کی حالیہ ملاقات کو اسی تناظر میں بڑی کامیابی کہا جا رہا ہے۔

بعض ماہرین اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ Pakistan کے پاس خطے میں ایک اہم Mediating Role موجود ہے. جو مستقبل میں Israel Iran War جیسے تنازعات کو محدود کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جنرل Asim Munir کا حالیہ دورہ نہ صرف Washington بلکہ ان کے Tehran دورے کو بھی عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ Trump کی جانب سے ان کی خدمات کو سراہا گیا اور ان کو White House میں مدعو کر کے خصوصی ظہرانہ دیا گیا۔

ملاقات کے دور رس اثرات.

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے اثرات نہ صرف Israel Iran War بلکہ Pakistan India Relations اور خطے کی Nuclear Security پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق جنرل Asim Munir نے امریکی صدر کے سامنے ایران کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف انتہائی مضبوطی سے پیش کیا، جس کے بعد Trump کا رویہ ایران کے خلاف قدرے نرم دکھائی دیا۔

مصنف اور تجزیہ نگار شجاع نواز نے بھی اس ملاقات کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنرل منیر کی موجودگی نے نہ صرف Counter Terrorism Cooperation میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا بلکہ امریکہ کو یہ باور کرایا کہ پاکستان کو محض ایک اتحادی نہیں بلکہ ایک باوقار دوست کی طرح دیکھنا چاہیے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو جنرل Asim Munir اور Donald Trump کی ملاقات بلاشبہ خطے کی بڑی Diplomatic Achievement سمجھی جا رہی ہے جو مستقبل میں خطے کے Peace Talks اور Conflict Resolution میں پاکستان کا کردار مزید مستحکم کرے گی۔

[faq-schema id=”32681″]

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button