سونا 4,500 ڈالر سے اوپر مستحکم، کمزور امریکی ڈالر کی حمایت مگر مندی کے خدشات برقرار

پیر کے روز عالمی مارکیٹ میں Gold سونے کی قیمت (XAU/USD) نے مثبت رجحان برقرار رکھا۔ اور 4,500 ڈالر کی سطح سے اوپر استحکام دکھایا۔ ایشیائی سیشن کے دوران معمولی کمی کے بعد سونا دوبارہ سنبھل گیا۔ جس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر (USD) میں ہلکی کمزوری تھی۔ تاہم، مجموعی منظرنامہ اب بھی مکمل طور پر تیزی کا اشارہ نہیں دیتا۔ کیونکہ عالمی مرکزی بینکوں کی سخت (Hawkish) مانیٹری پالیسی اور تکنیکی عوامل سونے کی قیمت کو محدود کر رہے ہیں۔
امریکی ڈالر کی کمزوری اور Gold سونے کو سہارا
حالیہ دنوں میں امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) اپنی ماہانہ بلند سطح سے تھوڑا نیچے آیا ہے، جس نے سونے کو وقتی سہارا فراہم کیا۔ عام طور پر سونا اور ڈالر ایک دوسرے کے مخالف سمت میں حرکت کرتے ہیں۔ جب ڈالر کمزور ہوتا ہے تو سونا سستا ہو جاتا ہے اور سرمایہ کار اس کی طرف راغب ہوتے ہیں۔
اسی وجہ سے Gold سونے کی قیمت میں حالیہ بہتری دیکھی گئی، خاص طور پر جمعہ کے روز 2.5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مارکیٹ میں خریداری کا رجحان برقرار رہا۔ تاہم، یہ اضافہ ابھی تک مضبوط اپ ٹرینڈ میں تبدیل نہیں ہوا۔
مرکزی بینکوں کی سخت پالیسی: سونے کیلئے رکاوٹ
دنیا بھر کے مرکزی بینک، خاص طور پر امریکی فیڈرل ریزرو (Fed)، بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث شرح سود بلند رکھنے کے حق میں نظر آتے ہیں۔ اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (OECD) نے بھی امریکہ میں مہنگائی کی پیش گوئی بڑھا کر 4.2 فیصد کر دی ہے، جو فیڈ کے ہدف سے کافی زیادہ ہے۔
شرح سود میں اضافہ سونے کیلئے منفی سمجھا جاتا ہے کیونکہ Gold سونا کوئی منافع یا سود نہیں دیتا۔ جب بانڈز اور دیگر سرمایہ کاری کے ذرائع زیادہ منافع دینے لگتے ہیں تو سرمایہ کار سونے سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ سونا اس وقت مستحکم ہے، لیکن اس میں بڑی تیزی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔
جغرافیائی کشیدگی اور Gold سونے کی مانگ
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بھی سونے کی قیمت کو سہارا دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ ایران کے خلاف ممکنہ زمینی کارروائی پر غور کر رہا ہے، جبکہ یمن کے حوثی گروپ نے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
یہ صورتحال عالمی تجارت کیلئے خطرہ بن سکتی ہے، خاص طور پر بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز جیسے اہم راستوں میں خلل کی صورت میں۔ اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں بلند ہو سکتی ہیں، جو مہنگائی کو مزید بڑھائیں گی۔ ایسے حالات میں سرمایہ کار سونے کو محفوظ سرمایہ کاری (Safe Haven) کے طور پر ترجیح دیتے ہیں۔
Gold تکنیکی تجزیہ: مندی کا رجحان غالب
اگر ہم تکنیکی پہلو کا جائزہ لیں تو سونے کی قیمت اب بھی دباؤ میں نظر آتی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں سونا 100 روزہ سادہ موونگ ایوریج (SMA) سے نیچے ٹریڈ کر رہا ہے، جو ایک منفی اشارہ سمجھا جاتا ہے۔

مزید برآں:
MACD انڈیکیٹر منفی زون میں ہے
RSI اگرچہ اوور سیل سطح سے اوپر آیا ہے، مگر ابھی بھی کمزور ہے
یہ تمام اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
اہم سپورٹ اور ریزسٹنس لیولز
مارکیٹ میں آئندہ حرکت کا انحصار چند اہم تکنیکی سطحوں پر ہوگا:
ریزسٹنس لیولز:
4,630 ڈالر (100-day SMA)
4,880 ڈالر (اگلا اہم ہدف)
سپورٹ لیولز:
4,380 ڈالر (قریب ترین سپورٹ)
4,300 ڈالر (اہم نچلی سطح)
اگر سونا 4,630 ڈالر سے اوپر بریک کرتا ہے تو تیزی کا نیا رجحان شروع ہو سکتا ہے۔ جبکہ 4,380 سے نیچے جانے پر مزید کمی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
سرمایہ کاروں کیلئے حکمت عملی
موجودہ صورتحال میں سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ سونا قلیل مدتی بنیادوں پر سپورٹ حاصل کر رہا ہے۔ مگر بنیادی اور تکنیکی عوامل اب بھی واضح تیزی کی تصدیق نہیں کرتے۔
شارٹ ٹرم ٹریڈرز کیلئے رینج ٹریڈنگ بہتر حکمت عملی ہو سکتی ہے۔
لانگ ٹرم سرمایہ کار اہم سپورٹ لیولز پر خریداری کے مواقع تلاش کر سکتے ہیں۔
فیڈ کی پالیسی، مہنگائی کے اعداد و شمار اور جغرافیائی حالات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔
نتیجہ
مجموعی طور پر سونا اس وقت ایک نازک مرحلے میں ہے۔ جہاں ایک طرف کمزور امریکی ڈالر اور جغرافیائی کشیدگی اسے سہارا دے رہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف بلند شرح سود اور منفی تکنیکی اشارے اس کی رفتار کو محدود کر رہے ہیں۔
جب تک سونا 100-day SMA کے اوپر مضبوطی سے برقرار نہیں رہتا۔ اس وقت تک مکمل تیزی کا رجحان قائم ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو آئندہ دنوں میں اہم معاشی ڈیٹا اور عالمی خبروں پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔ تاکہ بہتر فیصلے کیے جا سکیں۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔



