Gold Market Update: جیوپولیٹیکل کشیدگی کے باوجود Gold نیچے

Gold مارکیٹ میں نئی کمزوری
عالمی مالیاتی منڈیوں میں Gold (سونا) ایک بار پھر دباؤ کا شکار نظر آ رہا ہے کیونکہ امریکی ڈالر کی مسلسل مضبوطی اور شرح سود میں اضافے کی توقعات نے سرمایہ کاروں کے رجحان کو واضح طور پر بدل دیا ہے۔ حالیہ ٹریڈنگ سیشنز میں Gold Price (XAU/USD) نے عارضی بحالی کی کوشش ضرور کی، لیکن یہ ریباؤنڈ زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ اب بھی غالب ہے۔
سونے کی قیمت کا تعلق براہِ راست امریکی ڈالر اور شرح سود سے ہوتا ہے۔ جب ڈالر مضبوط ہوتا ہے تو سونا غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مہنگا ہو جاتا ہے، جس کے باعث اس کی طلب میں کمی آتی ہے۔ اسی طرح جب شرح سود بڑھنے کی توقع ہو تو سرمایہ کار ایسے اثاثوں کی طرف جاتے ہیں جو منافع دیتے ہیں، جبکہ Gold چونکہ کوئی ییلڈ نہیں دیتا، اس لیے اس کی کشش کم ہو جاتی ہے۔
فیڈ کی پالیسی اور Gold Price پر اثرات
امریکی مرکزی بینک Federal Reserve کی حالیہ پالیسی توقعات نے Gold Price کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ مارکیٹ اب تقریباً مکمل طور پر اس بات کو تسلیم کر چکی ہے کہ 2026 میں شرح سود میں کمی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے برعکس، یہ توقع بڑھتی جا رہی ہے کہ سال کے آخر تک کم از کم ایک بار شرح سود میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
یہ تبدیلی بنیادی طور پر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے سامنے آئی ہے۔ جب افراطِ زر بلند سطح پر ہو تو مرکزی بینک اسے کنٹرول کرنے کے لیے شرح سود بڑھاتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں بانڈ ییلڈز بھی اوپر جاتی ہیں، جو سرمایہ کاروں کو متبادل منافع بخش مواقع فراہم کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حالات میں سرمایہ کار Gold کے بجائے امریکی بانڈز اور ڈالر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
امریکہ-ایران کشیدگی اور Gold کی محدود ردعمل
عام طور پر جب عالمی سطح پر کشیدگی بڑھتی ہے، تو Gold کو ایک محفوظ سرمایہ (safe haven) سمجھا جاتا ہے اور اس کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن اس بار امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے سونے کو وہ سپورٹ فراہم نہیں کی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
Donald Trump کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملہ مؤخر کرنے کے اعلان نے وقتی طور پر کشیدگی میں کمی کا تاثر دیا، جبکہ دوسری جانب Masoud Pezeshkian نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ ان متضاد بیانات نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھایا، لیکن یہ غیر یقینی صورتحال سونے کے بجائے ڈالر کے حق میں گئی۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار اب بھی امریکی ڈالر کو سب سے محفوظ اور مستحکم کرنسی سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جیوپولیٹیکل رسک کے باوجود Gold Price کو مضبوط سپورٹ نہیں مل سکی۔
ٹیکنیکل تجزیہ: Gold Price کے اہم رجحانات
اگر ہم تکنیکی پہلو کا جائزہ لیں تو Gold Price اس وقت ایک کمزور رجحان میں دکھائی دے رہی ہے۔ قیمت 100 گھنٹے کے سادہ موونگ ایوریج (SMA) سے نیچے ٹریڈ کر رہی ہے، جو کہ قلیل مدتی بیئرش سگنل سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ MACD انڈیکیٹر بھی یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اوپر کی جانب مومینٹم کمزور ہو رہا ہے، جبکہ RSI تقریباً درمیانی سطح کے قریب ہے، جو مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔

اہم سپورٹ لیول 4500 ڈالر کے قریب ہے، جو ایک نفسیاتی حد بھی ہے۔ اگر قیمت اس سطح سے نیچے مستحکم ہو جاتی ہے تو 4480 ڈالر یا اس سے بھی نیچے مزید کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ دوسری جانب 4625 ڈالر ایک اہم ریزسٹنس لیول کے طور پر سامنے آ رہا ہے، اور اس سطح کے اوپر بریک آؤٹ ہی کسی مضبوط ریکوری کا اشارہ دے سکتا ہے۔
Gold Forecast 2026: مستقبل کا منظرنامہ
موجودہ بنیادی اور تکنیکی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے Gold Forecast فی الحال بیئرش دکھائی دیتا ہے۔ مضبوط امریکی ڈالر، بلند بانڈ ییلڈز، اور فیڈ کی سخت پالیسی وہ اہم عوامل ہیں جو سونے کی قیمت کو نیچے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی مارکیٹیں ہمیشہ غیر یقینی رہتی ہیں۔ اگر امریکہ-ایران کشیدگی میں اچانک اضافہ ہوتا ہے یا عالمی معیشت کسی نئے بحران کا شکار ہوتی ہے، تو Gold دوبارہ اپنی محفوظ سرمایہ والی حیثیت کی وجہ سے تیزی دکھا سکتا ہے۔
سرمایہ کاروں کے لیے اہم پیغام
موجودہ حالات میں سرمایہ کاروں کو انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ Gold Price میں قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کے باوجود مجموعی رجحان نیچے کی طرف ہے۔ اس لیے ٹریڈرز کو اہم سپورٹ اور ریزسٹنس لیولز پر نظر رکھنی چاہیے اور کسی بھی بڑی پوزیشن لینے سے پہلے فیڈ کی پالیسی اور عالمی خبروں کا بغور جائزہ لینا چاہیے۔
دستبرداری
انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔


