Gold Price نے تاریخ رقم کر دی، Safe Haven کی دوڑ میں عالمی سرمایہ سونے کی طرف لپک پڑا

Safe-Haven Demand, Fed Policy and Geopolitical Risks Push Gold into Uncharted Territory

جنوری 2026 کا آخری ہفتہ مالیاتی تاریخ میں سونے (Gold) کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ عالمی منڈی میں Gold Price نے پہلی بار $5,600 فی اونس کی نفسیاتی اور تاریخی حد کو عبور کر لیا ہے۔ یہ غیر معمولی اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دنیا جغرافیائی سیاسی تناؤ (Geopolitical Tensions) اور امریکی فیڈرل ریزرو (US Federal Reserve) کی پالیسیوں کے دو راہے پر کھڑی ہے۔

ایک ماہر فنانشل مارکیٹ اسٹریٹجسٹ (Financial Market Content Strategist) کے طور پر، میں دیکھ رہا ہوں. کہ یہ محض ایک قیمت کا بڑھنا نہیں ہے. بلکہ یہ عالمی معیشت میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہے۔ اس بلاگ میں ہم تفصیل سے جائزہ لیں گے کہ Gold Price میں اس ریکارڈ اضافے کی وجوہات کیا ہیں. اور آنے والے مہینوں میں آپ کو کس طرح کی مارکیٹ کی توقع کرنی چاہیے۔

مختصر خلاصہ.

  • تاریخی ریکارڈ: Gold Price پہلی بار $5,600 فی اونس تک پہنچ گئی. جس کی بنیادی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ ہے۔

  • فیڈرل ریزرو کی پالیسی: امریکی مرکزی بینک نے شرحِ سود (Interest Rates) کو 3.5% سے 3.75% کی سطح پر برقرار رکھا ہے، جس نے سونے کے لیے سپورٹ فراہم کی۔

  • سیاسی غیر یقینی: صدر ٹرمپ کی جانب سے نئے فیڈ چیئرمین کی نامزدگی اور مرکزی بینک کی خود مختاری پر اٹھنے والے سوالات نے محفوظ اثاثوں (Safe-Haven Assets) کی طلب بڑھا دی ہے۔

  • ماہرین کی رائے: مارکیٹ میں منافع خوری (Profit-Taking) کی وجہ سے قیمتیں عارضی طور پر $5,500 تک گر سکتی ہیں. لیکن طویل مدتی رجحان مثبت ہے۔

Gold Price میں اس قدر اضافہ کیوں ہوا؟

Gold Price میں حالیہ اضافے کے پیچھے تین بڑے عوامل کارفرما ہیں: جغرافیائی سیاست، امریکی مانیٹری پالیسی، اور ڈالر کی کمزوری۔

1. امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ

عالمی مارکیٹ ہمیشہ غیر یقینی صورتحال سے گھبراتی ہے، اور سونا اس گھبراہٹ کا بہترین علاج سمجھا جاتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی حالیہ تنبیہ نے مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو ایک "منصفانہ معاہدے” پر آنے کا مشورہ دیا ہے. ورنہ شدید حملے کی دھمکی دی ہے۔

دوسری جانب، ایران کی طرف سے جوابی کارروائی کے بیانات نے سرمایہ کاروں کو مجبور کر دیا ہے. کہ وہ اپنا سرمایہ اسٹاک مارکیٹ سے نکال کر سونے (Safe Haven) میں منتقل کریں۔

2. فیڈرل ریزرو کا فیصلہ (Fed Interest Rate Decision)

بدھ کے روز ہونے والے اجلاس میں امریکی Federal Reserve  نے شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور اسے 3.5% سے 3.75% کے درمیان برقرار رکھا۔ عام طور پر جب شرحِ سود کم ہوتی ہے یا اسے بڑھایا نہیں جاتا، تو سونے جیسی غیر منافع بخش دھات (Non-Yielding Asset) کی کشش بڑھ جاتی ہے کیونکہ اسے رکھنے کی "مواقع کی لاگت” (Opportunity Cost) کم ہو جاتی ہے۔

میں نے اپنے 10 سالہ کیریئر میں بارہا دیکھا ہے کہ جب بھی فیڈرل ریزرو شرحِ سود کو ‘پاز’ (Pause) کرتا ہے. تو Gold Price  ایک نئی اڑان بھرنے کی تیاری کرتی ہے۔ 2024 اور 2025 کے چیلنجنگ حالات کے بعد، یہ فیصلہ سونے کے Bulls کے لیے ایک گرین سگنل ثابت ہوا۔

Gold Price as on 29th January 2026.
Gold Price as on 29th January 2026.

تکنیکی تجزیہ (Technical Analysis) کا نقطہ نظر

اگرچہ سونا $5,600 کی سطح سے تھوڑا پیچھے ہٹ کر $5,500 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے. لیکن اس کا بلش ٹرینڈ (bullish trend) اب بھی برقرار ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سیکامور (Tony Sycamore) کے مطابق، یہ تیزی "پیرابولک” (parabolic) ہے، جس کا مطلب ہے کہ ایک چھوٹی اصلاح (Pullback) متوقع ہے۔

انڈیکیٹر (Indicator) موجودہ صورتحال تجویز (Action)
آر ایس آئی (RSI) اوور باٹ (Overbought) تھوڑے انتظار کی ضرورت
موونگ ایوریج (Moving Average) قیمت 50-DMA سے اوپر ہے مضبوط خرید کا رجحان
سپورٹ لیول (Support Level) $5,350 – $5,400 انٹری پوائنٹ (Entry Point)

اہم نوٹ: جب مارکیٹ ایک سال میں 80% سے زیادہ ریٹرن دے چکی ہو. تو منافع خوری (profit-taking) کے امکانات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ اس لیے نئے سرمایہ کاروں کو "ڈپس” (dips) یعنی قیمت میں عارضی کمی کا انتظار کرنا چاہیے۔

ٹرمپ کی پالیسیاں اور فیڈرل ریزرو کی آزادی

صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ جلد ہی نئے فیڈ چیئرمین (Fed Chair) کا اعلان کریں گے۔ ان کا ماننا ہے کہ نیا چیئرمین آتے ہی شرحِ سود میں نمایاں کمی کرے گا۔ مالیاتی دنیا میں یہ تشویش پائی جاتی ہے. کہ اگر فیڈرل ریزرو کی آزادی متاثر ہوئی، تو ڈالر کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

جب بھی مرکزی بینک کی پالیسی پر سیاسی اثر و رسوخ بڑھتا ہے، سرمایہ کار کا اعتماد روایتی کرنسی سے اٹھ کر سونے کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ یہ ایک بڑا ساختی سبب (Structural Driver) ہے جو 2026 کے بقیہ مہینوں میں Gold Price کو $6,000 کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

اختتامیہ.

سونے کا $5,600 کی سطح کو عبور کرنا محض ایک عدد نہیں ہے. بلکہ یہ بدلتی ہوئی عالمی سیاسی اور معاشی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔ ایران کے ساتھ کشیدگی اور امریکی مانیٹری پالیسی میں غیر یقینی صورتحال نے سونے کو ایک بار پھر "سرمایہ کاری کا بادشاہ” بنا دیا ہے۔

اگرچہ مختصر مدت میں کچھ اصلاح (Correction) متوقع ہے. لیکن بنیادی ڈھانچہ (Fundamentals) Gold Price میں مزید اضافے کے حق میں ہے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا سونا واقعی $6,000 تک جائے گا یا یہ محض ایک عارضی ابال ہے؟ اپنی رائے نیچے کمنٹس میں ضرور دیں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button