Gold Price نئی تاریخی بلندی پر: فیڈرل ریزرو اور عالمی حالات کے گہرے اثرات.

Weak US Dollar, cooling inflation and geopolitical risks push Gold Price toward historic resistance levels

Gold Price Safe Haven Demand Fed Rate Cuts کے اس دور میں، عالمی مارکیٹس میں سونے کی قیمتوں نے ایک نیا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ بدھ کے روز ایشیائی تجارتی اوقات کے دوران سونے کی فی اونس قیمت $4,639.77 کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔

اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں امریکہ میں Inflation کی شرح میں کمی اور فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) کی جانب سے شرح سود میں کٹوتی کے بڑھتے ہوئے امکانات شامل ہیں۔ جب ڈالر کمزور ہوتا ہے اور سیاسی بے یقینی بڑھتی ہے. تو سرمایہ کار سنہری دھات کو ایک "محفوظ پناہ گاہ” (Safe-haven) کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ مکمل مالی کہانی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ جب بھی Federal Reserve کی پالیسی، US Dollar کی سمت اور عالمی سیاست ایک ہی وقت میں غیر یقینی کا شکار ہوں. تو سرمایہ کار فطری طور پر سونے کی طرف لوٹتے ہیں. اور موجودہ حالات میں Gold Price نہ صرف ایک دھات بلکہ عالمی خوف اور اعتماد کا پیمانہ بن چکا ہے۔

اہم نکات (Summary)

  • تاریخی ریکارڈ: سونا $4,650 کے قریب اپنی اب تک کی بلند ترین سطح پر برقرار ہے۔

  • فیڈرل ریزرو کا کردار: امریکہ میں افراطِ زر (Inflation) کی کمی نے شرح سود میں کٹوتی کی امیدیں بڑھا دی ہیں۔

  • سیاسی تناؤ: ایران پر نئی پابندیوں کی دھمکی اور Federal Reserve کے چیئرمین جیروم پاول کے خلاف قانونی تحقیقات نے مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔

  • تکنیکی صورتحال: چارٹ پر "اسینڈنگ ویج” (Ascending Wedge) پیٹرن قیمتوں میں کسی بھی ممکنہ تبدیلی کا اشارہ.

Gold کیوں مہنگا ہو رہا ہے اور اس کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟

جب ہم Financial Markets کا تجزیہ کرتے ہیں، تو Gold Price صرف مانگ اور رسد کا کھیل نہیں ہوتی. بلکہ یہ عالمی معیشت کے اعتماد کا عکاس ہوتی ہے۔ حالیہ اضافے کے پیچھے تین بڑے عوامل کارفرما ہیں.

1. امریکی افراطِ زر (Inflation) میں کمی

دسمبر کے مہینے میں امریکہ کے کور کنزیومر پرائس انڈیکس (Core CPI) کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ افراط زر کی شرح 0.2% رہی. جو کہ ماہرین کی توقعات سے کم ہے۔ جب انفلیشن کم ہوتی ہے. تو مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو پر شرح سود کم کرنے کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ سونا ایک ایسی سرمایہ کاری ہے. جس پر کوئی سود نہیں ملتا. لہذا جب بینکوں میں شرح سود کم ہوتی ہے. تو سونے کی کشش بڑھ جاتی ہے۔

2. ڈالر کی قدر میں کمی (Weakening US Dollar)

امریکی ڈالر انڈیکس (DXY) اس وقت 99.10 کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ چونکہ عالمی مارکیٹ میں سونا ڈالر میں خریدا جاتا ہے. اس لیے جب ڈالر سستا ہوتا ہے، تو دوسرے ممالک کی کرنسی رکھنے والے خریداروں کے لیے Gold خریدنا سستا ہو جاتا ہے، جس سے اس کی مانگ اور Gold Price بڑھ جاتی ہے۔

3. محفوظ پناہ گاہ کی بڑھتی ہوئی طلب (Safe-haven Demand)

جغرافیائی سیاسی خطرات (Geopolitical risks) Gold Price کو آسمان پر لے جا رہے ہیں۔ ایران میں سیاسی بے چینی اور صدر ٹرمپ کی جانب سے 25% ٹیرف (Tariffs) کی دھمکیوں نے سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں، بڑے سرمایہ کار اپنے پیسے کو اسٹاک مارکیٹ سے نکال کر سونے میں لگانا محفوظ سمجھتے ہیں۔

میں نے اپنے 10 سالہ کیریئر میں دیکھا ہے. کہ جب بھی فیڈرل ریزرو کی خودمختاری پر سوال اٹھتے ہیں، جیسا کہ حالیہ جیروم پاول کی تحقیقات کے معاملے میں ہو رہا ہے. مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔

2018-19 کے دوران بھی جب ٹرمپ انتظامیہ نے فیڈ پر دباؤ ڈالا تھا. تو Gold Price نے اسی طرح کا جارحانہ رویہ دکھایا تھا۔ ماہر تاجر جانتے ہیں. کہ ایسی ‘سیاسی مداخلت’ سونا خریدنے کا بہترین وقت ثابت ہو سکتی ہے۔

کیا فیڈرل ریزرو شرح سود میں کمی کرے گا؟ (The Fed Pivot)

مارکیٹ کے شرکاء اس وقت منقسم ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ اس سال شرح سود میں دو بار کٹوتی ہوگی. جبکہ دیگر تین کٹوتیوں کی توقع کر رہے ہیں۔ فیڈرل ریزرو کے اپنے حکام صرف ایک کٹوتی کا اشارہ دے رہے ہیں۔

دسمبر کے "نان فارم پے رولز” (Nonfarm Payrolls – NFP) ڈیٹا کے مطابق صرف 50,000 نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں. جو توقعات سے کم ہیں۔ یہ کمزور لیبر مارکیٹ فیڈرل ریزرو کو مجبور کر سکتی ہے. کہ وہ معیشت کو سہارا دینے کے لیے شرح سود میں جلد کمی کرے۔

سونے کا تکنیکی تجزیہ (Gold Price Technical Overview)

تکنیکی تجزیے (Technical Analysis) کے نقطہ نظر سے، Gold Price اس وقت ایک انتہائی دلچسپ موڑ پر ہے۔

اسینڈنگ ویج پیٹرن (Ascending Wedge Pattern)

روزانہ کے چارٹ (Daily Chart) پر سونا ایک "اسینڈنگ ویج” بنا رہا ہے۔ یہ پیٹرن عام طور پر اس بات کی علامت ہوتا ہے. کہ اوپر جانے کی رفتار (Momentum) سست ہو رہی ہے۔ اگر سونا اپنی نچلی ٹرینڈ لائن (Trendline) کو توڑتا ہے. تو قیمتوں میں بڑی کمی دیکھی جا سکتی ہے۔

Gold Price touched new heights as on 14th January 2025 amid Geopolitical Risks
Gold Price touched new heights as on 14th January 2025 amid Geopolitical Risks

موونگ ایوریجز اور آر ایس آئی (EMA & RSI)

  • 9-Day EMA: یہ اس وقت $4,520 پر ہے. جو کہ فوری سپورٹ فراہم کر رہا ہے۔

  • 50-Day EMA: سونے کی قیمت اس سے اوپر ہے. جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے. کہ درمیانی مدت کا رجحان (Medium-term trend) ابھی بھی اوپر کی طرف ہے۔

  • Relative Strength Index (RSI): آر ایس آئی 71.39 پر ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ "اوور باٹ” (Overbought) ہو چکی ہے۔ یعنی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں اور کسی بھی وقت منافع خوری (Profit taking) کی وجہ سے نیچے آ سکتی ہیں۔

سپورٹ لیول (Support) ریزسٹنس لیول (Resistance)
$4,520 (9-Day EMA) $4,650 (Record High)
$4,470 (Wedge Boundary) $4,700 (Psychological Target)

سرمایہ کاروں کے لیے مشورہ اور مستقبل کی حکمتِ عملی

موجودہ صورتحال میں، Gold Price اپنی بلند ترین سطح پر ہے. لیکن خطرات بھی کم نہیں ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے خلاف سخت پالیسیاں اور فیڈ چیئرمین کے خلاف قانونی چارہ جوئی سونے کو مزید اوپر لے جا سکتی ہے۔ تاہم، "اوور باٹ” آر ایس آئی (RSI) ہمیں خبردار کر رہا ہے. کہ بغیر کسی تصحیح (Correction) کے نئی خریداری کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

تجربہ کار ٹریڈرز ہمیشہ یاد رکھتے ہیں. کہ جب مارکیٹ میں ہر طرف ‘خرید لو، خرید لو’ کا شور ہو. تو وہ وقت محتاط ہونے کا ہوتا ہے۔ ریکارڈ ہائی پر انٹری لینے کے بجائے، میں ہمیشہ پل بیک (Pullback) یا سپورٹ لیول کے دوبارہ ٹیسٹ ہونے کا انتظار کرتا ہوں۔ $4,520 کا لیول ایک بہترین ری انٹری پوائنٹ ثابت ہو سکتا ہے۔

Gold Price میں حالیہ تیزی امریکی معاشی اعداد و شمار اور عالمی سیاسی کشیدگی کا منطقی نتیجہ ہے۔ اگرچہ تکنیکی اشارے کچھ تھکن محسوس کر رہے ہیں. لیکن بنیادی عوامل (Fundamentals) ابھی بھی سونے کے حق میں ہیں۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ جیو پولیٹیکل خبروں اور فیڈرل ریزرو کے بیانات پر کڑی نظر رکھیں. کیونکہ یہی عوامل آنے والے ہفتوں میں سونے کی سمت کا تعین کریں گے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا سونا $5,000 کی سطح کو چھو پائے گا یا یہاں سے بڑی گراوٹ آئے گی؟ اپنی رائے کا اظہار نیچے کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں۔

دستبرداری

انتباہ۔۔۔۔ اردو مارکیٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب آراء اور مشورے، چاہے وہ آرٹیکل ہوں یا پھر تجزیئے ، انفرادی مصنفین کے ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ Urdu Markets کی نمائندگی کریں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button